وزیرِ آبپاشی جام خان شورو نے کہا ہے کہ دریا کے بہاؤ کو مانیٹر کر رہے ہیں، ہمارے پاس بند پر شگاف ڈالنے کا آپشن نہیں ہوتا، ہم سپر فلڈ کی تیاری کر رہے ہیں۔
جام خان شورو نے جیو نیوز کے پروگرام ’جیو پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چناب میں دس بارہ سال بعد اس طرح کی سیلابی صورتحال ہے، 11 لاکھ کیوسک پانی تریمو کی جانب جا رہا ہے، راوی اور ستلج پر گنڈاپور کے مقام پر 2 لاکھ 60 ہزار کیوسک پانی ہے۔
جام خان شورو نے کہا کہ ٹرینڈ یہ رہا ہے کہ پنجند پر پہنچنے سے پہلے پہلے پانی کا بہاؤ کم ہو جاتا ہے، پنجند پر پانی ملے گا جس کے بعد دو روز کا وقت ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں دو روز سے سکھر میں ہوں، بندوں پر وزراء کی ڈیوٹیز لگی ہوئی ہے، پنجند سے گڈ و تک پانی آنے میں دو روز کا وقت ہوگا، ڈپٹی کمشنر اور کمشنرز نے کیمپ کے لیے مقامات کی نشاندہی کر دی ہے۔
جام خان شورو کا کہنا تھا کہ سکھر بیراج کا اسٹرکچر کئی سال پرانا ہے، گیٹ تبدیل کر رہے ہیں، سکھر بیراج کے مزید گیٹ آئندہ سال تبدیل کردیں گے، گڈو بیراج کی گنجائش 12 لاکھ کیوسک ہے، سکھر بیراج کی گنجائش 9 لاکھ 60 ہزار کیوسک ہے، کوٹری بیراج کی گنجائش 8 لاکھ 70 ہزار کیوسک ہے۔