انگلینڈ کی بریسٹل یونیورسٹی کی ماہرِ موسیقی اور سائنسدان ڈاکٹر نٹالی ہائیسنتھ نے ایک ایسی دھن تخلیق کی ہے جو چاکلیٹ کھاتے وقت سننے پر اس کے ذائقے کو مزید مزیدار اور میٹھا محسوس کرواتی ہے۔
ڈاکٹر ہائیسنتھ نے 60 سالہ تحقیق کے بعد یہ انکشاف کیا کہ موسیقی کی رفتار، سر اور دھن انسانی دماغ کو دھوکہ دے سکتی ہے اور خاص طور پر میٹھی چیزوں کے ذائقے کو زیادہ لذیذ بنا دیتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دماغ ایک عمل کرتا ہے جسے ملٹی سینسری انٹیگریشن کہا جاتا ہے، یعنی مختلف حواس ایک دوسرے سے جُڑ جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ایک مخصوص دھن کے ساتھ چاکلیٹ کھانے سے ذائقہ مزید بھرپور محسوس ہوتا ہے۔
تحقیق کے مطابق دھیمی اور میٹھی دھنیں چاکلیٹ کو زیادہ کریمی اور میٹھا محسوس کراتی ہیں، تیز اور کڑک سُر ذائقے کو کڑوا بنا دیتے ہیں، تیز بیٹ والی موسیقی صرف فاسٹ فوڈ کے ساتھ جچتی ہے۔
اسی بنیاد پر گیلکسی چاکلیٹ نے ڈاکٹر ہائیسنتھ کے ساتھ مل کر خصوصی دھن Sweetest Melody تیار کی ہے، جسے یوٹیوب اور اسپوٹیفائی پر جاری کر دیا گیا ہے، یہ دھن اتنے وقت کی ہے جتنا ایک چاکلیٹ کا ٹکڑا منہ میں پگھلنے میں لگتا ہے۔
ایک سروے کے مطابق برطانیہ میں 2,000 افراد کے ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ 37 فیصد لوگ می ٹائم کے لیے میٹھی چیزیں کھاتے ہیں جبکہ 56 فیصد موسیقی سن کر سکون حاصل کرتے ہیں۔