ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سوشل میڈیا پر شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے متعلق میمز تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔
یہ میمز اس وقت سامنے آئی ہیں جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فوجی حملوں کے بعد خطے میں صورتِ حال انتہائی بگڑ گئی ہے، ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کی شہادت کے بعد کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بنائی گئی میمز میں کم جونگ اُن کو عالمی صورتِ حال کا تماشائی یا اس سے باہر رہ جانے والا رہنما دکھایا جا رہا ہے۔
بعض وائرل میمز میں انہیں دوربین سے حالات کا جائزہ لیتے یا اسکرین پر مشرق وسطیٰ کی صورتحال دیکھتے دکھایا گیا ہے۔
مزید برآں، صارفین نے طنزیہ انداز میں میمز بنائی ہیں کہ وہ جنگ کے لیے موجود بہترین ہتھیار رکھنے کے باوجود خود کو باہر رہ جانے کا احساس کر رہے ہیں۔
کئی پوسٹس میں طنزیہ انداز میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ کم جونگ اُن جنگ میں شامل ہونے کی کوئی وجہ تلاش کر رہے ہیں، حالانکہ حقیقت میں انہوں نے اس تنازع پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔
یہ میمز پاکستان اور مشرقِ وسطیٰ سمیت دیگر ممالک میں بھی کافی مقبول ہو رہی ہیں اور ان پر ہزاروں لائکس اور شیئرز ہو چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں سے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام سے متعلق بحث بھی دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔
بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتِ حال کم جونگ ان کے اس مؤقف کو تقویت دے سکتی ہے کہ جوہری ہتھیار کسی بھی بیرونی حملے کے خلاف دفاع کے لیے ضروری ہیں۔