• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنوبی کوریا میں ہولوگرام پولیس کی تعیناتی، جرائم کی شرح گھٹ گئی

فائل فوٹو
فائل فوٹو

جنوبی کوریا میں ہولوگرافک پولیس کی تعیناتی کے تجربے کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں، اس اقدام سے جرائم میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

 یہ دراصل پولیس افسر کی تھری ڈی پروجیکشن ہے جو عوامی مقامات پر تعینات کی جاتی ہے تاکہ شہری خود کو محفوظ محسوس کریں اور جرائم پیشہ عناصر پر نفسیاتی دباؤ پڑے۔

یہ بظاہر محض ایک پروجیکشن ہے مگر حقیقت میں اس سے زیادہ ہے، ان ہولوگرامز کے ساتھ اے آئی پر مبنی کیمرے نصب ہیں، جو علاقے کی نگرانی کرتے ہیں، ساتھ ہی حقیقی پولیس اہلکار بھی دور سے ان مقامات پر نظر رکھتے ہیں جہاں یہ پروجیکشن لگائی گئی ہے۔

پولیس افسر کِم ہیون ڈون کے مطابق جن علاقوں میں یہ ہولوگرام تعینات کیے گئے ہیں وہاں جرائم کی شرح میں تقریباً 22 فیصد کمی دیکھی گئی، خاص طور پر اچانک ہونے والے جھگڑوں اور نشے میں تشدد جیسے جرائم میں واضح کمی واقع ہوئی۔

ان ہولوگرامز کے ذریعے عوام کو ریکارڈ شدہ پیغامات بھی سنائے جاتے ہیں، جیسے کہ یہاں پولیس موجود ہے، براہ کرم قانون کی پاسداری کریں۔

سیول کے شہریوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ پولیس اہلکار حقیقی نہیں، لیکن ان کی موجودگی کا احساس ایسا ہی ہوتا ہے جیسے اصل پولیس وہاں کھڑی ہو، چونکہ کیمرے مستقل طور پر فعال رہتے ہیں، اس لیے قریب ہی اصل پولیس اہلکار بھی الرٹ رہتے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق یہ منصوبہ کامیاب ثابت ہو رہا ہے اور جلد ہی شہر کے مزید مقامات پر بھی ہولوگرام پولیس تعینات کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

دلچسپ و عجیب سے مزید