چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کا آغاز ہو گیا ہے، وزیرِ اعظم شہباز شریف اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچ گئے۔
چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں پہنچنے پر چین کے صدر شی جن پنگ نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا استقبال کیا۔
انہوں نے افتتاحی سیشن میں آئے روس کے صدر پیوٹن، ترک صدر رجب طیب اردگان اور دیگر رہنماؤں کو خوش آمدید کہا، اجلاس سے پہلے رکن ممالک کے سربراہان نے گروپ فوٹو بنوایا۔
چینی صدر شی جن پنگ نے استقبالیے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس کا اہم مشن تمام فریقین کے درمیان اتفاقِ رائے قائم کرنا ہے، فریقین کے درمیان تعاون کی رفتار کو فروغ دینے کا مشن بھی شامل ہے، اجلاس کا مقصد ترقی کی راہ کے لیے ایک نقشہ تیار کرنا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کی ملاقات ہوئی، جس میں فلسطین کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال، پاک ترک دو طرفہ تعلقات سمیت سیاسی، اقتصادی اور دفاعی شعبوں میں تعاون پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
تیانجن یونیورسٹی کی فیکلٹی اور طلباء سے خطاب میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ چین نے جس طرح اپنے لوگوں کو غربت سے نکالا وہ دنیا کے لیے ماڈل ہے، غربت کا خاتمہ ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے، پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، آج 30 ہزار کے قریب پاکستانی طلباء چین میں زیرِ تعلیم ہیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف 4 ستمبر کو بیجنگ میں پاک چین سرمایہ کاری کانفرنس کی صدارت کریں گے اور ممتاز کاروباری اداروں کے سربراہوں سے بھی ملیں گے۔