جنوبی وزیرستان لوئر میں رواں سال خسرے کے 850 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
محکمہ صحت کے مطابق بیشتر خسرہ کیسز ویکسین نہ لگوانے کے باعث سامنے آئے ہیں۔
اس حوالے سے ڈاکٹر حمید اللّٰہ کا کہنا تھا کہ صوبے بھر میں دسمبر میں انسداد خسرہ ویکسینیشن مہم شروع ہو گی۔
تمباکو نوشی شروع کرنے کی عمر اس بات سے زیادہ اہم کیوں ہے کہ آپ کتنا سگریٹ پیتے ہیں۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ ایک گروہ کے کسی بھی فرد میں دل کی بیماری کے شواہد موجود نہیں تھے اور نہ ہی وہ پہلے کبھی فالج کا شکار ہوئے تھے، لیکن ان میں سے تقریباً 37 لاکھ افراد سگریٹ نوش تھے۔
اس طویل المدتی تحقیق میں 11 ہزار سے زائد بالغ افراد کو 30 سال سے زیادہ عرصے تک مانیٹر کیا گیا
بیہہ (لوٹس روٹ) ایک غذائیت سے بھرپور سبزی ہے جو تیزی سے وزن کم کرنے اور صحت پر بے شمار طبی فوائد ہونے کے سبب مقبول ہو رہی ہے۔ فائبر، وٹامن سی اور پوٹاشیم سے بھرپور یہ سبزی ناصرف کم کیلوریز رکھتی ہے بلکہ مجموعی صحت کے لیے بھی مفید سمجھی جاتی ہے۔
ملک بھر میں آج سے انسدادِ پولیو مہم کا آغاز ہو گیا۔
شیزوفرینیا میں آوازیں سنائی دینے کی وجہ ممکنہ طور پر دماغ کی اپنی اندرونی آواز کو پہچاننے کی صلاحیت میں خرابی ہو سکتی ہے۔
آپریشن کے بعد مریض اور ڈونر دونوں تیزی سے صحتیاب ہورہے ہیں۔
ماہرین نے انہیں قدرتی طور پر بھوک دبانے والی ادویات جیسے اوزیمپک اور ویگووی کا متبادل قرار دے دیا۔
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ایک 45 سالہ شخص بغیر ڈاکٹر سے رجوع کیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) چیٹ بوٹ کے مشورے پر ایچ آئی وی سے بچاؤ کی ادویات استعمال کرنے کے نتیجے میں شدید بیمار ہو کر اسپتال جا پہنچا۔
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں آبادی کے سلسلے کو روکنا ہے یہاں ہم ہر سال نیوزی لینڈ جتنی آبادی پیدا کر رہے ہیں۔
سرد اور خشک موسم بالوں کے غیر معمولی جھڑنے کا سبب بن سکتا ہے۔
لمبا قد عموماً خوبصورتی اور اعتماد کی علامت سمجھا جاتا ہے لیکن طبی تحقیق کے نتائج میں انکشاف ہوا ہے کہ لمبا قد مخصوص صحت کے مسائل کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
کھانے میں زیادہ نمک کے استعمال پر تو لوگ اکثر ہی بحث کرتے نظر آتے ہیں لیکن پینے کے پانی میں نمک کے استعمال کے بارے میں شاذ و نادر ہی کوئی بات کرتا نظر آتا ہے۔
’آیورویدک‘ طب میں ہیِنگ کو ہاضمہ بہتر بنانے، سانس کے امراض اور بعض دیگر بیماریوں کے علاج میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
نیپاہ وائرس دنیا کے خطرناک ترین وائرسز میں شمار کیا جاتا ہے، یہ خطرناک وائرس پہلی بار 1998-99 میں ملیشیا میں سور پالنے والے کسانوں میں پھیلنے والی ایک پراسرار بیماری کے طور پر سامنے آیا تھا۔ نیپاہ وائرس چمگادڑوں سے سوروں اور پھر انسانوں میں منتقل ہوا جس کے نتیجے میں درجنوں انسانی اموات اور لاکھوں سور تلف کیے گئے۔
ایک تحقیق کے مطابق ڈراؤنے خواب دیکھ کر جاگنے سے دل کی دھڑکن تیز ہوسکتی ہے، لیکن اس طرح رات کو جاگنے کے اثرات کافی دور رس ہوسکتے ہیں۔
بھارت میں نیپاہ وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد ایشیاء کے متعدد ملکوں کے ہوائی اڈوں پر الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جس کے بعد ایشیائی ممالک نے اپنی سرحدوں پر نگرانی سخت کر دی ہے۔