غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی عمل میں آئی، اسرائیل سے رہا ہونے والے فلسطینی قیدیوں کو لے کر بسیں رام اللّٰہ پہنچ گئیں۔
فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے موقع پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے اور ان کا شاندار استقبال کیا گیا، اسرائیل نے عوفر جیل سے 1 ہزار 966 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا ہے۔
معاہدے کے تحت حماس نے 20 اسرائیلی یرغمالی رہا کیے ہیں، 28 یرغمالیوں کی لاشیں بھی آج ہی اسرائیل کے سپرد کی جائیں گی۔
خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیل رہا کیے جانے والے 154 فلسطینی قیدیوں کو ڈی پورٹ کرے گا۔
معاہدے کے تحت حماس نے 20 اسرائیلی یرغمالی رہا کیے ہیں، 28 یرغمالیوں کی لاشیں بھی آج ہی اسرائیل کے سپرد کی جائیں گی۔
عرب میڈیا کے مطابق فلسطینی قیدیوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے جنوبی غزہ میں بڑی تعداد میں فلسطینی جمع ہوئے تھے۔
خبر ایجنسی کے مطابق حماس مسلح ونگ القسام بریگیڈ نے 20 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کی فہرست جاری کی۔
ادھر غزہ امن منصوبے پر سربراہی اجلاس آج مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہو رہا ہے، اجلاس میں غزہ امن معاہدے پر دستخط اور امن منصوبے پر عملدرآمد کوششوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
اجلاس کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مصری صدر عبدالفتح السیسی کریں گے۔
اجلاس میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، ترکیہ کے صدر طیب اردوان، فلسطینی صدر محمود عباس، اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی، جرمن چانسلر اور فرانس کے صدر میکرون سمیت 20 سے زائد ممالک کے سربراہان شرکت کریں گے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ غزہ جنگ ختم ہوگئی۔ غزہ منصوبے کے لیے بورڈ آف پیس جلد قائم کیا جائے گا۔