پاکستان افغانستان کے درمیان سیز فائر ہوگیا، وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی درخواست پر سیز فائر کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
افغان طالبان اور بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے حملوں کے جواب میں پاکستان کی مسلح افواج کی زور دار کارروائی کے بعد افغان طالبان حکومت نے سیز فائر کی اپیل کردی۔ پاکستان نے اپیل منظور کرتے ہوئے بدھ کی شام 6 بجے سے 48 گھنٹے کے سیز فائر پر اتفاق کرلیا۔
اس سے پہلے پاکستان کی فوج نے افغان دارالحکومت کابل اور قندھار شہر میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں پر ٹارگٹڈ حملے کیے۔
قندھار میں پاک فوج نے ٹارگٹڈ حملے کرکے افغان طالبان کی بٹالین نمبر چار اور آٹھ اور بارڈر بریگیڈ نمبر پانچ اور چھ مکمل تباہ کردیں۔
بلوچستان میں اسپن بولدک، نوشکی، چمن، ژوب اور کے پی کے ضلع کُرم میں افغان طالبان نے حملے کیے جنھیں پسپا کرتے ہوئے پاک فوج نے افغان طالبان اور بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔
250 سے زائد ہلاکتوں کے بعد افغان طالبان سیز فائر کی درخواست کرنے پر مجبور ہوگئے ۔ پاک فوج نے بھاری توپ خانے اور مارٹر گولوں کا استعمال کیا۔
نوشکی سیکٹر میں افغان سرحد سے 3 کلومیٹر اندر غرنالی چیک پوسٹ پر افغان طالبان اسلحہ چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ پاکستانی فوج نے پوسٹ پر پاکستانی پرچم لہرا دیا۔
چمن اور ژوب سیکٹرز میں بھی خارجیوں کی پناہ گاہیں اور چیک پوسٹیں تباہ کر دی گئیں۔ اسپن بولدک میں پاک فوج کی جوابی کارروائی میں 15 سے 20 افغان طالبان مارے گئے۔
کُرم سیکٹر میں رات گئے افغان طالبان کے حملے پر پاک فوج کی جوابی کارروائی میں 25 سے 30 خارجی اور افغان طالبان مارے گئے ۔ 8 افغان چوکیاں اور 6 ٹینک تباہ ہوگئے ۔
اسی دوران سیکیورٹی ذرائع نے سوشل میڈیا پر افغان طالبان کے جھوٹ کا پردہ بھی چاک کردیا۔ افغان طالبان نے روس کے بنے ٹینک کو پاکستانی ٹینک بتا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ٹی 55 ٹینک پاکستانی فوج سے چھینا گیا، حقیقت میں روسی ساختہ ٹی 55 ٹینک افغان طالبان استعمال کرتے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ شہری آبادی سے الگ تمام اہداف باریک بینی سے منتخب اور کامیابی سے تباہ کیا گیا، پاک فوج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔