روس کی جانب سے کیف پر ڈرونز اور میزائلوں سے حملے میں 8 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے۔
حملے سے آذربائیجان کے سفارتخانے کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔
یوکرینی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ روس نے 430 ڈرون اور 18 میزائلوں سے دارالحکومت کیف کو نشانا بنایا۔
انٹونی بلنکن نے کہا کہ کوئی نہیں جانتا کہ ایران میں موجودہ حکومت کب تک قائم رہے گی
ایران نے امریکا اور اسرائیل کیلئے جاسوسی کے الزام میں 39 ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔
علی رضا سید نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ انصاف کا قتل اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی مسلسل پامالی کا عکاس ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران ڈیل چاہتا ہے لیکن بولنے سے ڈر رہا ہے، ہم نے دنیا میں 8 جنگیں رکوائیں، ایک جنگ جیت بھی رہے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ ایرانی پارلیمانی اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کو چار یا پانچ دنوں کے لیے ہدف کی فہرست سے ہٹایا گیا ہے کیونکہ صدر ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کے لیے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کا دروازہ کھول دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یوکرین کو خلیجی ممالک سے طویل مدتی ڈرون معاہدوں کی امید ہے۔
نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کویت میں امریکی اڈہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، اڈوں پر صرف پائلٹس، ٹیکنیشن وغیرہ موجود ہیں۔
برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کے سابق سربراہ الیکس ینگر نے کہا ہے کہ موجودہ جنگ میں ایران حاوی نظر آتا ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ خطے میں اڈوں کے باوجود امریکا علاقائی ممالک کا تحفظ کرنے میں ناکام رہا، امریکا اپنے جنگ کے مقاصد میں ناکام ہو چکا ہے۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، قطر اور اردن نے عراق سے اپنی سر زمین پڑوسی ممالک پر حملوں میں استعمال نہ ہونے دینے کا مطالبہ کر دیا۔
شمالی لندن میں یہودی کمیونٹی کی 4 ایمبولینسوں کو آگ لگانے کے الزام میں 2 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔
ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا کہ صدر ٹرمپ دھمکیاں نہیں لگاتے، ایران غلط اندازے نہ لگائے
پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی ایف 18 جہازوں کو نشانا بنایا گیا ہے۔
بنت عبدالرحمٰن المفتاح نے کہا کہ کسی ایسے ملک کو نشانہ بنانا جو تنازع کا حصہ نہیں ، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ یہ لوگ ایران میں امریکا کے فوجی کارنامے سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسا کر رہے ہیں، یہ لوگ ہماری واضح اور فیصلہ کُن جیت نہیں دیکھنا چاہتے۔
امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں اور ان کا مقصد خطے میں موجود امریکی مفادات اور اتحادیوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔