• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ وسائل کہاں سے آئیں اور کہاں خرچ ہوں۔ اس مقصد کیلئے وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم کیلئے قومی مالیاتی کمیشن جسے عرف عام میں این ایف سی ایوارڈ بھی کہا جاتا ہے، کا ڈھانچہ آئین میں موجود ہے، لیکن اس کا اصل مقصد آج تک حاصل نہیں ہو سکا۔ این ایف سی ایوارڈ کی روح یہ ہے کہ وفاق اپنی آمدنی صوبوں کو منتقل کرے تاکہ وہ عوامی فلاح اور ترقیاتی کاموں پر خرچ کر سکیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ صوبوں نے یہ وسائل آگے ضلعی اور مقامی حکومتوں کو منتقل کرنے کے بجائے اپنے ہی دائرہ اختیار میں سمیٹ لیے ہیں۔جب 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو مزید اختیارات ملے تو توقع کی گئی تھی کہ مقامی حکومتوں کو بھی اس عمل سے فائدہ پہنچے گا۔ لیکن ایسا نہ ہوا۔ صوبائی حکومتیں وسائل کو نیچے منتقل کرنے کے بجائے زیادہ تر اپنے ہاتھ میں رکھتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ شہری سہولیات، تعلیم، صحت، صفائی، پینے کے پانی اور مقامی ترقی کے منصوبے بری طرح متاثر ہوئے۔ عوام براہ راست جن اداروں سے سہولت چاہتے ہیں، یعنی یونین کونسل یا میونسپل ادارے، وہ مالی طور پر مفلوج ہیں۔

حالیہ دنوں میں صدر آصف علی زرداری نے 22 اگست 2025 ءکو گیارہویں این ایف سی ایوارڈ کا اعلان کیا ہے، جس کا پہلا اجلاس دسمبر میںوفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں ہونے جا رہاہے۔ اس کمیشن میں چاروں صوبوں کے وزرائے خزانہ کے ساتھ ہر صوبے سے ایک تکنیکی رکن شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب سے سابق بیوروکریٹ ناصر محمود کوٹھہ، سندھ سے ماہر اقتصادیات ڈاکٹر اسد سعید، خیبر پختونخوا سے ڈاکٹر مشرف رسول سیان، اور بلوچستان سے ابتدا میں فرمان اللہ کو نامزد کیا گیا تھا مگر بعد میں صدر نے محفوظ علی خان کو بلوچستان کی نمائندگی کیلئے منظور کر لیا۔ اس نئی تشکیل میں ٹیکس آمدنی کی تقسیم، گرانٹس، قرضہ جات کے اختیارات اور صوبائی و وفاقی اخراجات کے تناسب جیسے اہم معاملات طے کیے جائیں گے۔

اس اعلان کے ساتھ ہی صوبوں کی شکایات اور تحفظات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا حکومت نے واضح کیا ہے کہ اگر انکے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ معاملہ عدالت میں لے جائیں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ فاٹا کے انضمام کے بعد صوبے کو اپنے حصے کے مطابق وسائل نہیں دیے جا رہے۔ دوسری طرف وفاقی وزارت خزانہ کی رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ گزشتہ مالی سال میں وفاق نے صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ جیسے شعبوں پر 638 ارب روپے خرچ کیے، حالانکہ یہ شعبے آئینی طور پر صوبوں کو منتقل کیے جا چکے ہیں۔ اس میں سے صرف بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پر 350 ارب روپے خرچ ہوئے۔ یہ صورتحال اس حقیقت کو مزید اجاگر کرتی ہے کہ وسائل کی تقسیم آئینی طور پر نیچے منتقل ہونے کے باوجود عملی طور پر ابھی تک صوبوں اور وفاق کے درمیان الجھی ہوئی ہے۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں یہ اصول طے ہے کہ وسائل وہاں خرچ ہوں جہاں عوام رہتے ہیں۔ بھارت میں پنچایتی راج کا نظام اسکی مثال ہے، جبکہ یورپی ممالک میں بلدیاتی ادارے ٹیکس اکٹھابھی کرتے ہیں اور مقامی ترقی پر خود خرچ بھی کرتے ہیں۔ پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ یہاں صوبائی حکومتیں مقامی اداروں کو بااختیار بنانے سے کتراتی ہیں، کیونکہ سیاسی قیادت اپنے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو اپنی طاقت میں کمی سمجھتی ہے۔

این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کو وفاق کے ساتھ بیٹھ کر وسائل بانٹنے کا اختیار تو ہے، لیکن کیا صوبے خود اپنے ضلعوں اور مقامی حکومتوں کے ساتھ وہی شفاف رویہ اپناتے ہیں؟ جواب افسوسناک ہے۔ دوسری طرف پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ایک بھی ایسا مکمل اور مستحکم نظام مقامی حکومتوں کا موجود نہیں جو مسلسل اور مؤثر طریقے سے چل رہا ہو۔ ہر حکومت آنے کے بعد اپنے سیاسی مفاد کے مطابق بلدیاتی نظام کو کمزور یا تحلیل کر دیتی ہے۔اس کا نقصان سب سے زیادہ عوام کو ہوتا ہے۔ اگر کسی گلی میں سیوریج کا نالہ بند ہو، کسی پرائمری اسکول کی عمارت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو یا کسی بنیادی مرکز صحت یا ہسپتال میں دوا نہ ملے تو عوام کے پاس صوبائی اسمبلی کے رکن یا وزیر اعلیٰ کے دفتر جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ جبکہ دنیا بھر میں یہ مسائل وارڈ کونسلر یا مقامی نمائندہ حل کرتا ہے۔

پاکستان میں حقیقی تبدیلی اسی وقت آئے گی جب این ایف سی ایوارڈ سے صوبوں کو ملنے والے وسائل ایک طے شدہ فارمولے کے تحت مقامی حکومتوں تک پہنچیںگے۔اگر صوبوں کو وفاق سے شکایت ہے کہ انکے وسائل انکوصحیح طرح نہیں ملتے، تو عوام کو بھی صوبوں سے یہی شکایت ہے کہ ان کے حصے کے وسائل نیچے نہیں آتے۔ اس ڈھلوان پر کھڑا یہ نظام آخر کب تک چل سکے گا؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ آئینی طور پر صوبوں کو پابند کیا جائے کہ وہ این ایف سی ایوارڈ سے ملنے والی آمدنی کا ایک مخصوص حصہ مقامی حکومتوں کو منتقل کریں، اور یہ حصہ کسی بھی حکومت یا وزیر اعلیٰ کی صوابدید پر نہ ہو۔ ساتھ ہی مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ کے ساتھ ساتھ مالی اور انتظامی خودمختاری بھی دی جائے تاکہ وہ اپنے علاقے کے مسائل خود حل کر سکیں۔این ایف سی ایوارڈ اور مقامی حکومتیں ایک ہی زنجیر کی دو کڑیاں ہیں۔ اگر پہلی کڑی مضبوط ہو اور دوسری کمزور چھوڑ دی جائے تو وسائل کی منصفانہ تقسیم کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔ پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک فلاحی ریاست بنانے کے لئے ضروری ہے کہ اختیارات اور وسائل نیچے، عوام تک منتقل ہوں، کیونکہ اصل ترقی وہی ہے جو گلی محلے میں نظر آئے، نہ کہ صرف اعداد و شمار کی رپورٹوں میں۔

تازہ ترین