• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی سیاست میں تلاطم ہمیشہ سے رہا ہے، مگر جو طوفان اس وقت ملک کو گھیرے ہوئے ہے، وہ محض اختلافِ رائے کا شاخسانہ نہیں بلکہ ایک منظم بیانیے کی جنگ ہے۔ قیدی نمبر804سابق وزیراعظم عمران خان سیاسی تاریخ میں کئی موڑ لائے، مگر آج وہ جس راستے پر کھڑے ہیں، وہ راستہ ان کے پیچھے ہزاروں سوال چھوڑتا جا رہا ہے۔ القادر ٹرسٹ کیس میں جب عدالت نے انہیں سزا سنائی تو اس فیصلے کی بنیاد 190ملین پاؤنڈ کی وہ خطیر رقم تھی جو پاکستان کے خزانے میں جمع ہونی تھی مگر اسے غیر شفاف سودوں، زمینوں اور ذاتی مفادات کیلئے استعمال کیا گیا۔ یہ حصہ مقدمے کی قانونی تاریخ ہے، مگر سیاسی بیانیے میں سب سے کم ذکر کیا جاتا ہے، جیسے یہ فیصلہ کبھی ہوا ہی نہ ہو۔

عمران خان کو سزا کے بعد جیل منتقل کیا گیا، مگر ان کی قید عام قید نہیں۔ نمبر 804کا قیدی جیل کی اندھیری بیرک میں نہیں رہتا، وہ بی کلاس کی آرام دہ زندگی گزار رہا ہے۔ صاف ستھرا بستر، گدا، مناسب فرنیچر، روزانہ اخبار، ٹی وی، باقاعدہ ڈاکٹر کا معائنہ، گھر کا کھانا، کتابوں کا انبار—سب کچھ۔ ایک ایسے ملک میں جہاں لاکھوں لوگ اپنے گھروں میں بھی یہ سہولیات اُمید کی طرح دیکھتے ہیں، وہاں ایک سزا یافتہ شخص کا یہ شاہانہ انتظام نہ صرف حیرت پیدا کرتا ہے بلکہ انصاف کے دوہرے پیمانے بھی سامنے لاتا ہے۔ ستر فیصد پاکستانی غربت یا نچلے متوسط طبقے میں زندگی گزارتے ہیں، ان میں سے ہزاروں جیلوں میں بھیڑ کا شکار رہتے ہیں، صاف پانی اور دوا تک نہیں ملتی، مگر قیدی 804 کو جیل بھیج کر جیسے جیل کو خصوصی آرام گاہ بنا دیا گیا ہو۔

تاہم اصل مسئلہ یہاں ختم نہیں ہوتا، اصل مسئلہ وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں سے یہ بیانیہ جیل کی دیواریں پھلانگ کر بیرون ملک پھیلتا ہے۔ عمران خان کی جماعت کا بڑا سوشل میڈیا سیل پاکستان میں نہیں، پاکستان کے باہر بیٹھا ہے۔ دبئی، لندن، امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا—دنیا بھر میں بیٹھے ایسے افراد جنکی اپنی زندگیاں پرامن ہیں، اپنے ملک میں ٹیکس دیتے ہیں مگر پاکستان کے مستقبل کو روز اپنے موبائل فون سے ہلا دیتے ہیں۔ وہ ہر دن پاکستان مخالف ٹرینڈ چلاتے ہیں، اداروں پر حملے کرتے ہیں، نوجوانوں میں نفرت بھرتے ہیں، اور ایک ایسا بیانیہ گھڑتے ہیں جسکا مقصد عوام کو مسلسل اشتعال میں رکھنا ہو۔ یہ لوگ پاکستان سے ہزاروں میل دور بیٹھ کر یہاں آگ لگاتے ہیں، اور پھر اس آگ کا دھواں عام پاکستانی کے گھر تک پہنچ جاتا ہے۔

یہ بیانیہ اس قدر طاقتور ہو چکا ہے کہ اب ہمارے دشمن بھی اسی فریب کو اپنی زبان دے رہے ہیں۔ چند ہفتے قبل جب افغانستان کے نیشنل میڈیا نے اچانک یہ جھوٹی خبر چلائی کہ عمران خان جیل میں وفات پا گئے، پورا سوشل میڈیا چند منٹوں میں ہل کر رہ گیا۔ اس جھوٹ کو سب سے پہلے پھیلانے والے وہی بیرون ملک بیٹھے پاکستانی اکاؤنٹس تھے جو خان صاحب کی جماعت سے جڑے ہیں۔ کچھ ہی لمحوں بعد بھارت کے بڑے چینلز نے بھی یہی خبر بغیر کسی تصدیق کے نشر کر دی۔ اس جھوٹے طوفان کا مقصد صرف ایک تھا—پاکستان کے اندر انتشار پیدا کرنا، عوام کو مشتعل کرنا، اداروں پر عدم اعتماد کو بڑھانا، اور ملک کو ایک بار پھر سیاسی عدم استحکام کی دلدل میں دھکیل دینا۔سوال یہ نہیں کہ افغانستان اور بھارت ایسا کیوں کر رہے ہیں—یہ تو ان کا پرانا طریقہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستانی سیاست کی ایک بڑی جماعت دشمنوں کے ہاتھ میں کھیلنے کیوں لگ گئی ہے؟ کیوں ان کے لوگ وہی پروپیگنڈا فوراً قبول کرکے پھیلانے لگتے ہیں جو دشمن ریاستیں ہمارے خلاف کرتی ہیں؟ جمہوریت تب مضبوط ہوتی ہے جب سیاسی جماعتیں اختلاف کریں، تنقید کریں، مگر ریاست کے دشمنوں کا بیانیہ آگے نہ بڑھائیں۔ مگر قیدی نمبر 804 کی سیاست آج اسی موڑ پر کھڑی ہے جہاں پاکستان کی دشمن قوتوں کو کھل کر فائدہ مل رہا ہے۔

یہ بیانیہ ملک کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ نوجوان طبقہ سچ اور فریب میں فرق کرنا بھول رہا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہر مقدمہ سازش ہے، ہر عدالت دشمن ہے، ہر ادارہ مخالف ہے۔ یہ وہ زہر ہے جو آہستہ آہستہ ایک پوری نسل کے خون میں شامل کیا جا رہا ہے۔ ملک کے اندر ترقی، معاشی استحکام، امن و امان اور قومی یکجہتی تب قائم ہوتی ہے جب سیاست دان حقیقتوں کا سامنا کریں، مگر قیدی804 کی سیاست اب اقتدار کی نہیں، تصادم کی سیاست بن چکی ہے۔

پاکستان اس وقت مشکل دور سے گزر رہا ہے— معیشت نازک، عوام پر بوجھ بھاری، ادارے دباؤ میں، دشمن پہلے سے زیادہ سرگرم۔ ایسے وقت میں ریاست کو مضبوط ہاتھوں کی ضرورت ہے، دانش مند بیانیے کی ضرورت ہے، اور سب سے بڑھ کر اتحاد کی ضرورت ہے۔ نہ کہ سوشل میڈیا کی جنگیں، جھوٹے ٹرینڈز، جعلی آڈیوز، بیرونی سازشیں اور اندرونی بے سمجھی۔اس کالم کا مقصد کسی شخصیت سے نفرت پیدا کرنا نہیں—بلکہ یہ سمجھانا ہے کہ ریاست کسی ایک انسان سے بڑی ہوتی ہے۔ قانون اگر ایک شخص پر لاگو نہیں ہوگا تو پھر کسی پر لاگو نہیں ہوگا۔ اگر سزا یافتہ کیلئے جیل آرام گاہ بن جائے، اگر سوشل میڈیا سچ کو جھوٹ میں بدل دے، اگر دشمن اپنے بیانیے ہمارے ہاتھوں سے چلانے لگیں، تو پھر مسئلہ کسی ایک قیدی کا نہیں—پوری ریاست کی بقا کا ہے۔

پاکستان کو آگے بڑھنا ہے تو سچ کو سامنے رکھنا ہوگا۔ بیانیے نہیں، حقیقتیں دیکھنی ہوں گی۔ اور سب سے بڑھ کر یہ سوچنا ہوگا کہ دشمن سے لڑائی تبھی جیتی جاتی ہے جب ہم خود دشمن کی چال نہ کھیلیں۔ پاکستان کسی قیدی کا نہیں—25کروڑ پاکستانیوں کا ہے۔اور پاکستان کا بیانیہ وہ ہونا چاہئے جو ملک کو جوڑے، نہ کہ توڑ دے۔

تازہ ترین