سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ برطانیہ میں ایک اندازے کے مطابق 28 ملین افراد دائمی دردوں کا شکار ہیں۔ آئندہ چند برسوں میں مزید 20 لاکھ لوگ دائمی درد کا شکار ہو جائیں گے۔
خواتین کو مردوں کے مقابلے میں دائمی دردوں کا 50 فیصد تک زائد سامنا ہے۔ 3 ماہ سے زائد عرصے تک برقرار رہنے والے درد کی علامت کو دائمی درد کہا جاتا ہے۔
یہ حالت خواتین اور بوڑھے لوگوں میں زیادہ عام طور پر رپورٹ کی جاتی ہے۔
تحقیق کے مطابق 2040ء تک انگلینڈ کی عمر رسیدہ آبادی کی وجہ سے تقریباً 20 لاکھ مزید لوگ دائمی درد میں مبتلا ہوں گے۔
خواتین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس بوجھ کو برداشت کریں گی جیسا کہ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں پہلے سے ہی مردوں کے مقابلے میں لگ بھگ 50 فیصد زیادہ امکان ہے کہ وہ مستقل درد کا شکار ہوں۔
مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دائمی درد صرف خواتین کو زیادہ عام طور پر محسوس نہیں ہوتا ہے بلکہ یہ حقیقت میں زیادہ دیر تک چل سکتا ہے۔
ماہرین نے کہا کہ مدافعتی خلیے کم فعال ہوتے ہیں، اس لیے خواتین کو طویل عرصے تک درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عام دائمی درد کی حالتوں میں کمر درد، جوڑوں کا درد، سر درد یا درد شقیقہ اور اینڈو میٹرائیوسس سرفہرست ہیں۔