آج سے پچاس ،ساٹھ برس یا اس سے بھی پیشتر کی بات کریں تو انسان کی زندگی غذا اور فضا کے معاملے میں سادہ تھی۔ اس وقت غذائیں خالص تھیں، ہوا صاف تھی، پروسیسڈ فوڈ کی یلغار نہیں تھی ۔ انسان نسبتاً امن وعافیت کے دائرے میںیوں زندگی بسر کرتا کہ غیر محسوس طریقے سے غذا اور فضا سے بیماریاں اپنے اندر نہیں انڈیلتا تھا ۔ اس دور میں جب واقعی کالم کی ایک طاقت ہوتی تھی ،کالم نویس زیادہ ترسیاسی موضوعات پر ہی قلم اٹھاتے۔ وہ سادگی کا دور تھا نمود و نمائش کی بیماری عام نہیں تھی رابطے اور تعلق رشتوں انسانوں میں حقیقی تھے دور رہنے والے آپس میں خط سے رابطہ کر لیتے تھے اور خط تو ایک مرہم ہے جو دور رہنے والے تعلق کی مسیحائی کرتا ہے ایک دوسرے میں پیوست ،پرخلوص رشتے اور تعلق کی موجودگی میں بہت سی روحانی اور نفسیاتی بیماریاں سرے سےموجود ہی نہ تھیں جبکہ آج صورتحال بالکل بدل چکی ہے انسان تنہائی کی اس سرنگ میں نہیں تھا جس سرنگ میں آج رابطوں کے ڈیجیٹل سیلاب میں موجود ہے۔ وقت بدل چکا ہے مگر ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں قومی اور بین الاقوامی سیاسی موضوعات پر خامہ فرسائی کو ہی کالم کی کل کائنات سمجھ لیا گیا ہے۔ وقت بہت بدل چکا ہے اتنا کہ پلوںکے نیچے پانی، سیلاب کی صورت بہت کچھ بہا کر لے گیا ہے۔زندگی کے بہت سے موضوعات بدل چکے ہیں ان کی جگہ نئے سے نئے موضوعات کی ایک فصل پک کر تیار ہے، اخبار کے روایتی کالم لکھنے والے بہت کم نئے موضوعات پر قلم اٹھاتے ہیں۔ حالانکہ یہ موضوع بھی انسانی زندگی سے کشید کیے گئے ہیں اور براہ راست انسانی زندگی کو متاثر کرتے ہیں ان میں ایک اہم موضوع غذائی عادات کی تبدیلی انسانی رہن سہن کے بدلائو کا نتیجہ ہے۔بدلتے وقت نے بہت سی آسودگیاں ہمارے دامن میں ڈالی ہیں مگر اس کے ساتھ بہت کچھ ایسا بھی ملاجس نے انسانی زندگیوں کو نا آسودگی سے دوچار کیا۔ ان گزری دہائیوں میں جو کچھ انسان کے ساتھ مادیت پرستی کی آڑ میں ہوا اس نے زندگی کی صورت بدل دی ہے۔مارکیٹنگ اور کمرشلزم کے جنجال نےہمارے سامان میں وہ کچھ بھر دیا ہے،جسکی ہم نے کبھی تمنا نہیں کی تھی۔ وہ درد وہ تکلیفیں بھی ہمارے حصے میں آئیں بلکہ ہم سے اگلی نسل کے حصے میںبھی ،جو ان کے بزرگوں نے نہیں جھیلیں۔اس کی سب سے بڑی وجہ ہمارے لائف اسٹائل کا بدلاؤ ہے۔ لائف اسٹائل جس میں ہمارا کھانا پینا رہن سہن سب شامل ہیں۔اس سے پہلے کہ آگے بڑھوں اس کالم کے لکھنے کی تحریک کا سبب بتاتی ہوں۔ دو دن پہلے ہمارے بزرگ صحافی ممتاز دانشور الطاف حسن قریشی صاحب کی اپنی والدہ مرحومہ کی یادوں پر ایک دل پذیر تحریر پڑھی انہوں نے لکھا کہ جنگ عظیم دوم کا زمانہ تھا اور غربت بہت تھی گندم بہت مہنگی تھی والدہ ہمیں جو اور باجرے کی روٹی کھلاتی تھیں ۔ یہ جملہ پڑھا اوربے اختیار میرے ذہن میںخیال آیا جو اور باجرے جیسے غذائی صحت سے بھرپور اجناس کھانے کی تاثیر ہے کہ الطاف حسن قریشی صاحب عمر کے اس حصے میں بھی ذہنی طور پر چاق و چوبند ہیں ماشاءاللہ پروردگار ان کی صحت اور عافیت میں برکت دے۔آج ہر دوسرا غذائی ماہر لوگوں کو گندم چھوڑنے اورجو اورباجرے کی روٹی کھانے کی تر غیب دے رہا ہے۔ جدید ریسرچ بتاتی ہے کہ جو اور باجرا گندم کے مقابلے میں کہیں زیادہ انسانی صحت کیلئے فائدہ مند ہیں کیونکہ ان میں زیادہ فائبر ہوتا ہے یہ خون میں شوگر کو کنٹرول کرتے ہیں اور گندم کی طرح جسم کے اندر سوزش (Inflammation)پیدا نہیں کرتے۔
آٹزم کے علاج میں ایک ڈاکٹر نے بچے کو گندم کےبجائے مکئی کی روٹی کھلانے کا کہا ،اس کے واضح اثرات بچے کی صحت پر نظر آئے۔المیہ یہ ہے کہ خالص گندم کا آٹا بھی اب ایک نایاب چیز ہے اور کچھ دہائیوں سے اس کی جگہ سفید میدے نے لے لی ہے۔مارکیٹنگ اور کمرشل ازم نے انسانوں کے زیر استعمال خالص غذاؤں کی جگہ پروسسڈ فوڈ اور الٹرا پروسیسڈفوڈ کی مارکیٹنگ اس طرح کی کہ لوگ بہتر چیزیں چھوڑ کر غیر صحت مند غذاؤں کی طرف آگئے۔ جسکے نتیجے میں بیماریاں بڑھیں، ان بیماریوں کے علاج کیلئے پھر فارماسوٹیکل کمپنیوں کی مارکیٹنگ کا پہیہ گھوما نتیجتاً بیماری کا علاج کرواتے کرواتے دس اور بیماریاں انسانی جسموں میں پلنے لگیں۔غذائی اجزاء اور رہن سہن میں تبدیلیاں 80 کی دہائی میں نمایاں ہونا شروع ہوئیں اس سے پہلے کھانوں میں دیسی گھی کا استعمال ہوتا تھا بناسپتی گھی اور آئل کےاستعمال نے انسانی صحت کے ساتھ کھلواڑ کرنا شروع کیا نباتاتی آئل کو انسانی صحت کیلئے امرت دھارا بنا کر اشتہارات میں پیش کیا جاتا ہے، دل کا محافظ ماں کا پیار وغیرہ وغیرہ کاپی رائٹنگ مارکیٹنگ لفظوں میں جھوٹ کی دہشت گردی ہے۔تین چار دہائیوں سے نباتاتی تیل کا استعمال اب ایک پوری جنریشن میں کئی اقسام کی بیماریوں کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔فاسٹ فوڈ ،برگر شوارما، پیزا کی آدھی رات کی ڈیل جس پر ڈسکاؤنٹ دیا جاتا ہے نوجوان نسل کی پسندیدہ ہیں۔بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ آج کل کے نوجوان اس شکنجے میں ٹریپ ہو چکے ہیں۔ صحت مند غذا کی اہمیت بچوں کو نصاب کی سطح پرپڑھائی جائے تاکہ پروسسڈ میٹ اور میدے سے بنے فاسٹ فوڈز کو روزانہ کی بنیاد پر کھانے کے نقصانات وہ خود جان سکیں اور اس بنیادپر وہ اپنے لیے صحت بخش غذاؤں کا انتخاب کریں کبھی کبھار ذائقہ بدلنے کو فاسٹ فوڈ کھالیں تو کوئی حرج نہیں۔ پروسیسڈ میٹ ، غیر معیاری تیل میں تلے ہوئے چپس اور اس قسم کے دوسرے جنک سنیکس میں موجود نائٹ ریٹس اور آکسی ڈائزڈ عناصر جسم میں سکون اور خوشی پیدا کرنے والے ہارمونز جنہیں سریٹونن اور ڈوپامن کہتے ہیں کی سطح کو متاثر کر تے ہیں ۔ دماغی تھکن، چڑچڑا پن اور بڑھتا ہوا ذہنی دباؤ ایسی غذاؤں اور جسمانی ورزشوں سے عاری لائف اسٹائل کا نتیجہ ہے۔جدیدلائف اسٹائل سے جنم لیتے ان گنت موضوعات ہمارے منتظر ہیں کہ انہیں بھی احاطہ تحریر میں لایا جائے۔