• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا سے تجارتی معاہدہ غیر یقینی، بھارتی اقتصادی ترقی دھندلا گئی

کراچی (رفیق مانگٹ) امریکی تجارتی معاہدے کی غیر یقینی سے بھارت کی اقتصادی ترقی دھندلا گئی، بلوم برگ کے مطابق 50 فیصد امریکی ٹیرف سے بھارتی برآمدات دباؤ کا شکار ہیں، مودی حکومت کی کوششیں جاری، مگر سرمایہ کار تذبذب کا شکار ہیں ، آئی ایم ایف نے بھارت کی شرحِ نمو 6.4 فیصد سے کم کر کے 6.2 فیصد کر دی ہے۔ بھارت کی معیشت اور مالیاتی منڈیاں اس وقت ترقی کے حوالے سے ایک دوسرے کے متضاد اشارے دے رہی ہیں، جس سے پالیسی سازوں کے لیے معاشی سرگرمیوں کا سہارا دینا مشکل ہو گیا ہے۔بلوم برگ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ 50 فیصد بلند ترین ٹیرف نے بھارت کی برآمدی فضا پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ کیونکہ برآمد کنندگان کو امریکہ سے آرڈرز ملنا کم ہو گئے ہیں۔ وزیر اعظم مودی صارفین اور کاروباری اخراجات کو بڑھا کر معیشت کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن متضاد معاشی اشارے بتاتے ہیں کہ سرمایہ کار ابھی تک مستقبل بارے میں پُر اعتماد نہیں ہیں۔ امریکاکے ساتھ تجارتی معاہدے میں مسلسل تاخیر بھارت کی معاشی سمت پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ اگرچہ بھارتی حکام رابطوں کے قریب ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن آئی ایم ایف نے اگلے مالی سال کی شرح نمو کا اندازہ 6.4 فیصد سے کم کر کے 6.2 فیصد کر دیا ہے۔ نئی دہلی اس تخمینے کو مبالغہ سمجھتی ہے اور دعویٰ کرتی ہے کہ بھارت نئے برآمدی بازاروں میں تیزی سے جگہ بنا رہا ہے۔بینکار دھیرج نم کہتے ہیں مختلف معاشی اشاریے بتا رہے ہیں کہ معیشت مکمل رفتار سے نہیں چل رہی۔ کچھ شعبے مضبوط نتائج دے رہے ہیں، جبکہ کئی شعبے آرڈرز میں کمی اور سرمایہ کاری کی کمزوری کا سامنا کر رہے ہیں۔ آکسفورڈ اکنامکس کی چیف معیشت دان الیگزینڈرا ہرمن نے کہاکھپت بڑھ رہی ہے مگر اسے مجموعی جی ڈی پی سے زیادہ ہونا چاہیے۔ بھارت جیسے ملک میں کھپت ہی ترقی کی بنیادی محرک ہونی چاہیے۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے چیف معیشت دان سومیا کانتی گھوش کے مطابق بھارت کا مارکیٹ شیئر متحدہ عرب امارات، چین، ہانگ کانگ اور کئی ایشیائی معیشتوں میں بڑھ رہا ہے، جو بیرونی جھٹکوں سے نمٹنے میں مددگار ہوگا۔ حکومت آئندہ پارلیمانی اجلاس میں درجن بھر اہم بلز منظور کروانے کی تیاری کر رہی ہے، جن میں لیبر ریفارمز کے بعد سرمایہ کاری اور روزگار بڑھانے پر توجہ مرکوز ہے۔

اہم خبریں سے مزید