• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

TTP پاکستانی ہے تو ہمارے حوالے کریں، یہ کیسے مہمان جو مسلح ہوکر آتے اور دہشت گردی کرتے ہیں، پاک فوج

راولپنڈی (نیوز ایجنسیاں) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ طالبان رجیم کا یہ دعویٰ کہ کالعدم TTP کے لوگ پاکستان سے ہجرت کرکے آئے ہیں، اگر وہ پاکستانی ہیں تو انہیں ہمارے حوالے کریں، یہ کیسے مہمان ہیں جو مسلح ہو کر پاکستان آتے ہیں اور دہشت گردی کرتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں انتہائی مضبوط پولیٹیکل ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ ہے، افغان حکومت نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کیلئے خطرہ بن چکی ہے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں دہشتگردی کے مراکز اور دہشت گرد قیادت موجود ہے، طالبان سہولت کاری بند کریں، نان کسٹم پیڈ گاڑیاں خودکش حملوں میں استعمال ہوتی ہیں، صوبوں میں گھوم رہی ہوں تو انہیں روکنا کس کی ذمہ داری ہے، پاک افغان تجارت کی بندش کا مسئلہ ہماری سیکیورٹی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے جڑا ہے،  خونریزی اور تجارت اکٹھے نہیں چل سکتے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی آرمی چیف کا آپریشن سندور کو ٹریلر کہنا خود فریبی ہے، 7 جہازوں کی تباہی، اسلحہ ڈپو، دفاعی نظام ایس 400 کا خاتمہ ان کیلئے ہارر مووی بن چکا ہے۔ 

اُنہوں نے سینئر صحافیوں سے ملکی سلامتی کے امور پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 4 نومبر 2025ء سے لے کر اب تک دہشت گردی کے خلاف 4 ہزار 910 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ رواں سال خیبر پختونخوا میں 12 ہزار 857 اور بلوچستان میں 53 ہزار 309 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے اور ان آپریشنز کے دوران 206 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال مجموعی طور پر 1873 دہشت گرد جہنم واصل ہوئے، جن میں 136 افغانی بھی شامل ہیں۔ پاک افغان بارڈر انتہائی مشکل اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد 1229 کلومیٹر پر محیط ہے، جس میں 20 کراسنگ پوائنٹس ہیں، پاک افعان بارڈر پر پوسٹوں کا فاصلہ 20 سے 25 کلومیٹر تک بھی ہے۔ 

اُنہوں نے کہا کہ بارڈر فینس اس وقت تک مؤثر نہیں ہوسکتی اگر وہ آبزرویشن اور فائر سے کور نہ ہو، اگر 2 سے 5 کلومیٹر کے بعد قلعہ بنائیں اور ڈرون سرویلنس کریں تو اس کیلئے کثیر وسائل درکار ہوں گے۔ افغانستان میں دہشت گردی کے مراکز اور القاعدہ، داعش اور دہشت گرد تنظیموں کی قیادت موجود ہے، افغانستان سے انہیں اسلحہ اور فنڈنگ بھی ملتی ہے جو پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی ہے، ہم نے افغانستان کے سامنے تمام ثبوت رکھے جنہیں وہ نظرانداز نہیں کرسکتے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کا افغان طالبان رجیم سے مطالبہ ہے کہ وہ ایک قابلِ تصدیق میکانزم کے تحت معاہدہ کریں، اگر قابلِ تصدیق میکنزم تھرڈ پارٹی نے رکھنا ہے تو پاکستان کو اس پر اعتراض نہیں ہوگا، پاکستان کے اس مؤقف کی مکمل آگاہی ثالث ممالک کو بھی ہے۔

اہم خبریں سے مزید