امریکا میں ایک شخص فیس بک پر دوستی کے بعد محبت کے جھانسے اور لالچ میں آ کر زندگی بھر کی کمائی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
سی این این کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست نیو جرسی سے تعلق رکھنے والے 52 سالہ جو نوواک کی زندگی گزشتہ برس ایک ایسے فیس بک پیغام سے اُلٹ گئی جسے وہ ابتداء میں محض دوستانہ سمجھ بیٹھا تھا، لیکن یہ رابطہ دراصل ایک منظم آن لائن فراڈ کا آغاز تھا، جس نے ناصرف اس کی جمع پونجی چھین لی بلکہ اس کی نجی زندگی بھی بکھیر دی۔
اکتوبر 2024ء میں نوواک نے فیس بک پر ایک پوسٹ کی، جس کے بعد اسی پوسٹ کے حوالے سے ایک اجنبی خاتون کا دوستانہ پیغام ان باکس میں آیا، جس میں ایک خاتون، ’ایلس ڈینر‘ نامی فیشن ڈیزائنر نے نوواک کی پوسٹ کو ’دل چھو لینے والا‘ قرار دیتے ہوئے رابطے کی خواہش ظاہر کی۔
پروفائل پر خاتون کی تصاویر اور لائف اسٹائل نے نوواک کو مطمئن کیا۔
جلد ہی گفتگو فیس بک سے واٹس ایپ پر منتقل ہو گئی، جہاں تعلق رفتہ رفتہ ذاتی نوعیت اختیار کرتا گیا۔
اس دوران نوواک نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا، طلاق اور بچوں کی کسٹڈی کی جنگ سے گزر رہا تھا اور ’ایلس‘ نے بھی خود کو ایک ہمدرد، طلاق یافتہ خاتون کے ساتھ دنیا بھر میں سفر کرنے والی فیشن ڈیزائنر کے طور پر ظاہر کیا، وہ نوواک کے بچوں سے محبت کی تعریف کرتی، اپنی مصیبتیں بیان کرتی اور گہرے تعلق کا تاثر دیتی۔
فروری تک دونوں نے ایک دوسرے سے محبت کا اظہار کر دیا، مگر جو چیز رومانس لگ رہی تھی، وہ دراصل جعلی کرپٹو انویسٹمنٹ اسکیم تھی۔
اپریل تک نوواک نے اس کے مشورے پر 2 لاکھ 80 ہزار ڈالرز یعنی اپنی زندگی کی جمع پونجی ایک ایسے انویسٹمنٹ پلیٹ فارم میں لگا دی جس کی وہ بھرپور تعریف کرتی تھی، کچھ ہی ہفتوں بعد اس کا فیس بک پروفائل، واٹس ایپ رابطہ، سب کچھ غائب ہو گیا۔
نوواک کا کہنا ہے کہ میں نے سب کچھ کھو دیا، بچوں کا مستقبل گیا، میرا اپنا مستقبل گیا، میں ہر روز روتا تھا، ماں کو کیا بتاتا کہ سب ختم ہو گیا؟
ماہرین کے مطابق نوواک انہی بے شمار امریکیوں میں سے ایک ہیں جو دھوکا دینے والی اسکیموں کا شکار ہوئے ہیں، یہ ایک ایسی جعل سازی ہے جس میں دھوکے باز رومانوی تعلق کا ڈھونگ رچاتے ہیں اور پھر اعتماد حاصل کر کے جعلی کرپٹو سرمایہ کاری کی طرف راغب کرتے ہیں، اس اسکیم میں پہلے جذباتی تعلق بنایا جاتا ہے، پھر فریبی لائف اسٹائل کی تصاویر دکھا کر اعتماد بڑھایا جاتا ہے اور آخر میں متاثرہ شخص کو کرپٹو میں پیسہ لگانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
تحقیقات کے مطابق خاتون نے نوواک کو مہنگی گاڑیوں، سینکڑوں فالوورز، سامنے کی نشستوں والے فیشن شوز، خوبصورت پالتو کتے، نیویارک کی برف باری اور روزمرہ لمحات کی ویڈیوز سمیت سب کچھ بھیج کر اعتماد جیتنے کی کوشش کی۔
دونوں کے درمیان صرف ایک مرتبہ مختصر ویڈیو کال ہوئی۔ باقی تمام بات چیت ٹیکسٹ اور وائس نوٹس پر رہی، جب بھی ملاقات کی بات ہوتی، وہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر بات ٹال دیتی۔
تحقیقات کے مطابق ’ایلس ڈینر‘ نامی کوئی خاتون نیویارک میں موجود نہیں، جبکہ اس کے نمبر کا کوئی ریکارڈ بھی نہیں ملا، ساری تصاویر اور ویڈیوز دراصل نیویارک کی ایک لائف اسٹائل انفلوئنسر کے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے لی گئی تھیں۔
نوواک کا کہنا ہے کہ میں دولت یا شان و شوکت سے متاثر نہیں ہوا تھا، میں صرف کسی سے کنکٹ ہونا چاہتا تھا اور اسی کمزوری کو انہوں نے استعمال کیا۔