• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چند روزقبل لاہور میں ایک ڈی ایس پی کو گرفتار کیا گیا۔ جری افسر نے اپنی بیوی اور سگی بیٹی کو قتل کر کے شواہد مٹا دیے تھے۔ سفاکیت کی انتہا یہ تھی کہ بیٹی کی لاش ایک گندے نالے میں پھینک دی ۔’’اور جب زندہ دفن کی گئی بچی سے پوچھا جائے گاکس جرم پر تجھے قتل کیا گیا ؟‘‘ التکویر8،9۔

ایک شخص رسالت مآب ﷺ کے پاس حاضر ہوا ۔ کہا: یا رسول اللّٰہ! زمانہ جاہلیت میں ہم بت پرست اپنی بیٹیوں کو قتل کردیتے تھے۔ میری ایک بیٹی تھی۔ اس کا حال یہ تھا کہ جب میں اسے بلاتا تو وہ خوش ہوتی۔ ایک دن میں نے اسے بلایا، وہ میرے پیچھے ہو لی۔ میں چلا یہاں تک کہ اپنے قبیلے کے کنویں پر آیا۔ پھر میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے کنویں میں ڈال دیا۔ آخری الفاظ جو اس نے مجھے کہے، وہ یہ تھے ’’اے میرے ابا، اے میرے ابا‘‘۔ نبی کریم ﷺ روتے رہے۔ داڑھی گیلی ہوگئی۔پھر فرمایا: اللّٰہ تعالیٰ نے جاہلیت کے افعال معاف فرما دیئے ہیں۔ نئے سرے سے اعمال کرو۔

ایک شخص رسالت مآب ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا۔ کہنے لگا:اسلام قبول کرنے سے پہلے میں نے کچھ نیک کام کیے تھے ۔ کیا مجھے انکا اجر ملے گا۔ میں نے قیمتی اونٹ دے کر360 لڑکیوں کو زندہ دفن ہونے سے بچایا اور انکی پرورش کی۔ رسالت مآب ﷺکا چہرہ ء مبارک متغیر ہوگیا اور داڑھی آنسوؤں سے تر ۔فرمایا: اسی وجہ سے تجھے ایمان نصیب ہوا۔

ڈی ایس پی کا معاملہ کیا تھا؟ معاملہ دوسری کا تھا، دوسری عورت کا۔ دوسری جب زندگی میں آتی ہے، پہلی بری لگنے لگتی ہے۔ انجان اور نئی عورت سب کو اچھی لگتی ہے۔ ہنی مون پیریڈ کے بعدچیزیں نارمل ہوتی ہیں۔ اسکے بعد ذمہ داریاں، زندگی کے مسائل اورکبھی کبھار تلخی بھی۔ دوسری نئی عورت کیساتھ صرف ہنسنا کھیلنا ہوتاہے، زندگی کی تلخیوں کا سامنا تو نہیں کرنا ہوتا۔ ایسے میں مرد دوسری شادی کی آرزو پالنے لگتا ہے۔ بہت سے مرد سوچتے ہیں ، میری بیوی مر جائے تو دوسری کر لوں ۔ یہ نہیں سوچتا کہ میں بھی تو پہلے مر سکتا ہوں ۔

ہمارا معاشرہ دوسری شادی کو سپورٹ نہیں کرتا ۔ دوسری کرنے والے کی پہلی بیوی مذاق بن جاتی ہے ۔ بے عزتی سے بچنے کیلئے وہ دوسری کی مزاحمت کرتی ہے۔ تلخی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ بعض اوقات معاملہ شادی کا نہیں ہوتا بلکہ ناجائز افیئرز کا ہوتا ہے جو چلتے رہتے ہیں۔ امیر مردوں کا تعاقب کرنے والیاں بھی کم نہیں۔

برصغیر ہندو معاشرہ تھا ۔ یہاں دوسری کا کوئی تصور تھا ہی نہیں ۔ دوسری اگر کبھی آتی بھی تو پہلی کا گلا دبا کر۔ پہلی کے تمام حقوق ختم کر دیے جاتے ہیں ، جس نے مشکل وقت میں ساتھ دیا ہوتاہے۔ مال سارے کا سارا دوسری کا ہو تا ہے ، جو عموماً ایک سازشی عورت ہوتی ہے ۔ وہ مرد کے گلے میں رسی بلکہ پٹہ ڈال لیتی ہے۔ وہ پہلی اطاعت گزار بیوی کو چھوڑ کر دوسری شاطر عورت کا نوکر بن جاتا ہے۔ دراصل ایسے مرد نیک عورت کے مستحق نہیں ہوتے تو ایسی عورت اللّٰہ ان پر مسلط کر دیتاہے۔

دنیا اس وقت دنگ رہ گئی ، جب شعیب ملک نے سپر اسٹار ثانیہ مرزا کو چھوڑ کر دوسری شادی کر لی۔ فیمنسٹ چونکہ عام ہوتے جا رہے ہیں ؛لا محالہ وہ پوچھیں گے :کیا بیویوں کو شوہر برے نہیں لگتے ۔ میرے خالہ زاد کی بیوی ایک نئے مرد کے چکر میں دو بیٹیوں کو چھوڑ کر چلی گئی ۔ بڑی ، چار سالہ بیٹی آنکھوں میں آنسو بھر کے اپنی دادی سے پوچھتی رہتی ہے : ماما کیوں نہیں آتی ۔ ایک بار کہنے لگی: جب ماما آئے گی تو آپ نے اس سے بہت سا کام کروانا ہے تاکہ( وہ مصروف رہے اور پھر) کہیں نہ جائے ۔ دل پتھر ہو جاتے ہیں بلکہ پتھروں سے بھی زیادہ سخت !

ہمارے معاشرے میں مرد غالب ہیں ۔ بیویاں روتی رہتی ہیں یا تعویذ دھاگے کرنے لگتی ہیں کہ مرد دوسری کو چھوڑ دے ۔ انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ دوسری نہیں ہوگی تو تیسری آجائے گی ۔ بعض لوگ خفیہ شادی رچا لیتے ہیں جو ذلالت کا ایک ایسا طوق ہے ،جو انہیں ذلیل کر کے رکھ دیتاہے ۔ رسالت مآب ﷺنے فرمایا: سچ نجات دیتا ہے اور جھوٹ ہلاک کرتاہے۔ خفیہ شادی سے بڑا جھوٹ اور کیا ہوسکتاہے۔

مرد اس بات کو کبھی سمجھ نہیں پاتا کہ دوسری عورت ایک سراب کی طرح ہوتی ہے ۔ دوسری عورت ہنی مون پیریڈ تک ہی دوسری ہوتی ہے ، پھر وہ پہلی ہوجاتی ہے ۔ پہلی بیوی تب ہی اچھی لگ سکتی ہے ، جب آدمی پرہیزگار ہو ۔دوسریوں والے ایک شخص نے ایک بار مجھے بتایا: میں بیوی کی طرف پیٹھ کر کے گھرمیں داخل ہوتاہوں ۔ میں نے حساب لگایا: اس کی بیوی یقیناً نیک عورت ہوگی ۔ ظاہر ہے اس کی کیسے نبھ سکتی ہے اس کے ساتھ ۔

اللّٰہ دوسری شادی کی اجازت دیتاہے ، حکم نہیں ۔ قرآن کہتاہے کہ انصاف کرو ۔مکمل انصاف کر نہیں سکوگے مگر کوشش کرتے رہنا اور ایک کی طرف جھک کر دوسری کو لٹکتا ہوا نہ چھوڑ دینا۔ (مفہوم) النساء 129۔رسالت مآب ﷺجب شدید بیمار تھے تو ازواج مطہرات کو جمع کر کے ان سے اجازت مانگی کہ باقی دن میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓکے حجرے میں بسر کر لوں ؟ 

دوسری شادی کے ساتھ پیچیدگیاں لازم و ملزوم ہیں ۔ عرب ان پیچیدگیوں کا سامنا کرتے ہیں ۔ وہاں چونکہ ہر مرد شادیاں کرتا ہے ، اس لیے پہلی بیوی کی تذلیل ہرگز نہیں ہوتی ۔ دوسری شادی کی پہلی پیچیدگی یہ ہوتی ہے کہ آدمی اپنی پہلی اولادسے کم از کم پچاس فیصد دور ہوجاتا ہے ۔ برصغیر میں تو اکثر 100فیصد کیونکہ دوسری نے گلے میں رسی باندھی ہوتی ہے اور پہلی بیٹھی رو رہی ہوتی ہے۔بیوی نہیں تو اولاد کیلئے سوچیں ۔دوسری شادی چاردن کی چاندنی ہوتی ہے ۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ دوسری شادی کریں اور پہلی بیوی غمگین نہ ہو اور اس غمگینی کا اثر اولاد پہ نہ پڑے ۔ ایک نئی عورت سے آپ جو خوشی کشید کرنا چاہ رہے ہیں ، اس کی قیمت آپ کی اولاد ادا کرے گی ۔ قرآن کہتا ہے کہ اگر تمہیں اپنی بیویاں اچھی نہ لگیں تو دنیا میں کچھ چیزیں انسان کو اچھی نہیں لگتیں مگر ان میں بھلائی ہوتی ہے۔ بہت سی چیزیں انسان کو اچھی لگتی ہیں مگر ان میں نقصان ہوتا ہے ۔ اللّٰہ جانتاہے اور تم نہیں جانتے۔ مفہوم البقرہ 216

تازہ ترین