• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی جغرافیائی، نظریاتی اور عسکری تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اس ریاست کی بقا محض سیاسی بیانیوں یا سفارتی، کاغذی کاروائیوں کی مرہونِ منت نہیں بلکہ وہ ایک ایسے فولادی عزم، اجتماعی غیرت اور عسکری تیاری کے سائے میں پروان چڑھی ہے جس نے بارہا بڑے سے بڑے دشمن کو سوچنے پر مجبور کیا۔

1947کے نوزائیدہ پاکستان سے لے کر 1965کے معرکے تک، پھر 1971کے سانحے سے2019کی فروری کے معرکے اور پھر2025کی کشیدگی تک، ہر موڑ پر ایک ہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ قوم جب بھی دشمن کے مقابلے میں صف آرا ہوئی اس نے خود کو بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص ثابت کیا۔

5ستمبر1965کےدن، ہندوستان کو لاہورفتح کرنے کا اس قدر اعتماد تھا کہ مُلکی اور غیر مُلکی صحافیوں کو پیشگی دعوت نامے جاری کر دیے گئے تھے کہ 6ستمبر کو ہندوستانی ملٹری اپنی فتح کا جشن لاہور جم خانہ کلب میں منائے گی۔ لیکن ابھی ہندوستان کے ٹینک سرحد عبور کر کے پاکستانی علاقے میں داخل ہوئے ہی تھے کہ اُن پر19 اسکوارڈرن کے ہوا بازوں نے حملہ کرنا شروع کر دیا۔ جان فریکر (Jhon Fricker)اس خصوصی مشن کا ذکر اپنی کتاب’’ ایئر بیٹل فار پاکستان‘‘میں کچھ اس طرح کرتا ہے :

’’انڈین فارمیشنز جو جی ٹی روڈ کے ساتھ لاہور کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی، پر اسکوارڈرن لیڈر ایس ایس نوزی حیدر نے صبح تقریباً 9بج کر تیس منٹ پرچھ سیبر F-86sطیاروں سے ایسا شدید حملہ کیا کہ 3Jatکی پیش قدمی رُک گئی۔

بٹالین ڈویژن، جس کی قیادت لیفٹیننٹ کرنل ڈیسمنڈ حیدی کر رہے تھے، اُس پر پاک فضائیہ کے چھ سیبر طیاروں نے اتنی گولیاں اور راکٹس برسائےکہ یونٹ کی تمام RCL گنز تباہ ہو گئیں۔ حیدی کی مددکے لیے بھیجے گئے شرمن ٹینکوں کے گروپ کا بھی صفایا کر دیا۔ اس طرح 3Jatبٹالین ڈویژن کو بری طرح پسپا ہونا پڑا۔‘‘

پاک فضائیہ کے19اسکوارڈرن کا 6ستمبر 1965کو پٹھان کوٹ پرحملہ بھی ایک مثالی فتح کا منفرد درجہ رکھتا ہے۔ بھارتی فضائیہ کے ایئر مارشل ایس رغوندراں، جنہیں 65کی جنگ میں پٹھان کوٹ پر ایک جی نیٹ اسکوارڈرن کو کمانڈ کرنے کا موقع ملا تھا ،بیان کرتے ہیں :

’’اینٹی ایئر کرافٹ گنز شعلے اُگل رہی تھیں اور ہمیں ہر طرف سیبر ہی سیبر طیارے بھارتی جہازوں کا چن چن کر شکار کرتے ہوئے نظر آرہے تھے۔اس حملے میں بھارتی فضائیہ کے 13جہاز جس میں 6مسٹیئرز ، MIG21-2ایک جی ایٹ اور ایک ٹرانسپورٹ طیارہ C-119شامل تھا، مکمل تباہ کر دیےگئے۔

تین جہاز، جنہیں ری فیول کیا جانا تھا، کو بری طرح نقصان پہنچا کر ناکارہ بنا دیا گیا۔ یعنی اس حملے نے بھارتی فضائیہ کی کمر توڑ کر رکھ دی اور اُن کے پائلٹس کے حوصلے بھی انتہائی پست کر دیے ۔‘‘

عمومی طور پر پاک آرمی اور پاک فضائیہ نے بھارت کی جارحیت کے خلاف کئی کام یابیاں حاصل کیں، جس کی تعریف انڈین ایئر فورس کے سربراہ ایئر مارشل پی سی لال اپنی کتاب’’انڈیا پاک ایئر وار‘‘ میں کرتے نظر آتے ہیں: ’’پاک فضائیہ نے1965ء کی22روزہ جنگ میں بھارتی فضائیہ کے75جہاز تباہ کیے، جبکہ 1971ء کی صرف13 روزہ جنگ میں بھی75جہاز تباہ کیے۔

ان میں سے19جہاز مشرقی محاذ پر تباہ کیے جو ایک انتہائی قابلِ تعریف کارکردگی ہے۔ ڈھاکا کے مقام پر پاک فضائیہ کا صرف ایک اسکواڈرن تعینات تھا اور بھارتی فضائیہ کی طرف سے اُن پر دس اسکواڈرنز کے ساتھ بغیر کسی وقفے کے مسلسل حملے کیے جا رہے تھے۔ 1965ء میں پاک فضائیہ نے کل2364فلائنگ مشنز کیے جن کا اوسط تقریباً ایک دن میں107مشنز بنتا ہے جبکہ1971ء میں کل 3027 اڑانیں بھریں جن کا ایک دن کا اوسط 201 پروازیں بنتا ہے‘‘۔

بھارت نے 27فروری 2019ء کو پاک فضائیہ کے قابلِ فخر عقابوں کے ہاتھوں اپنے دو فائٹر جہاز، MIG-21اور SU-30 سنحوئی گنوا کر بھی کوئی سبق نہ سیکھا، بلکہ پہلگام واقعے میں 26سیّاحوں کے قتل کا الزام لگایا۔ پاکستان نے ثبوت مانگے اور تفتیش میں تعاون کی پیش کش بھی کی، مگر تکبّر اور اَنا میں مست بھارت نے اسے ٹھکرا دیا۔

6اور7مئی 2025کی درمیانی شب بھارت نے ’’آپریشن سندور ‘‘ کا آغاز کیا۔مسجدوں، مدرسوں اور گھروں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ اس کارروائی میں مظفرآباد کی ایک مسجد کو بھی نشانہ بنایا گیا جس کی چھت اور 3دیواریں گر گئیں، مگر ایک دیوار سلامت رہ گئی جس پر قرآن مجید کی یہ آیت لکھی ہوئی تھی۔ جس کا اردو ترجمہ ہے:

’’بے شک اللہ کو وہ لوگ بہت پسند ہیں جو اس کی راہ میں اس طرح صفیں باندھ کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔‘‘۔ (سورۃ الصف ۔آیت نمبر4)

اس آیت کے آخری دوعربی الفاظ تھے ’’ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص ‘‘، جس کا مطلب ہے 'سیسہ پلائی ہوئی مضبوط دیوار '۔ پاکستان نے جب بھارتی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کا فیصلہ کیا تو اپنے آپریشن کو یہی نام دیا ’’ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص ‘‘۔

ہندوستان نے آپریشن سندور کا آغاز کرنے سے پہلے دو خلیجی ممالک کے ذریعے پاکستان کو پیغام بھجوایا کہ وہ ہندوستانی حملوں کے جواب میں خاموشی اختیار کرے یا کوئی بڑا جواب نہ دے۔ اس پیغام کے آنے کی تصدیق سینئر صحافی اعزاز سید نے بھی کی۔ لیکن فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دلیرانہ جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ ہمارے ملک پاکستان کی بقاء کا معاملہ ہے، لہٰذا یہ ناممکن ہے کہ ہم اپنے ملک پر حملے کا سختی سے جواب نہ دیں۔ 

اقوامِ عالم نے دیکھاکہ بھارت نےآپریشن سندور کو پورے پاکستان میں پھیلا دیا۔ سویلین آبادیوں، کرکٹ اسٹیڈیمز اور صنعتی علاقوں کو یہ کہہ کر ٹارگٹ کرنا شروع کر دیا کہ وہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور اُن کے انفرااسٹرکچر کو پاکستان میں تباہ کر رہا ہے۔ پاکستانی شہریوں میں خوف اور غصہ پھیلنا شروع ہوگیا۔

ہندوستانی ذرائع ابلاغ نے افواہیں پھیلانا شروع کر دیں کہ انڈین آرمی اور نیوی نے کراچی فتح کر لیا ہے، لاہور، شورکوٹ مصحف، بلہاری اور نور خان بیسز پر ڈرون حملے کیے جن سے معمولی نقصان بھی پہنچا مگر بھارت کوئی بھی بڑا نقصان پہنچانے اور اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔

بھارتی بلاجواز حملے میں 33معصوم بچّے، خواتین، بوڑھے ، شہری اور 16پاکستانی فوجی شہید کر دیے گئے۔ دشمن نے مساجد کو نشانہ بنایا اور قرآنِ مجید کی بے حرمتی کی، جس کی کوئی مذہب قطعاً اجازت نہیں دیتا۔ المختصر، جب عدونے ڈرون حملوں سے بلہاری، شور کوٹ، لاہور، راول پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم اور نور خان بیس جیسے حسّاس مقامات کو نشانہ بنانا شروع کیا، تو پھر پاکستان نے بھی کم ظرف دشمن کو سبق سِکھانے کا فیصلہ کیا۔

مودی حکومت نے اپنی ماضی کی روایت کے مطابق، پہلگام کےواقعے میں مارے جانے والے 26 سیّاحوں کے قتل کے الزام میں پاکستان کے زیرِ انتظام علاقوں پر اپریل 2025ء کے آخری ہفتے میں حملہ کیا۔ SCALPکروز میزائل رات کے آخری پہر سرحد پار سے گرے اور ساتھ ہی بھارتی میڈیا نے جھوٹی خبریں نشر کرنا شروع کر دیں کہ بھارت کے بموں نے مشتبہ ٹھکانے تباہ کر دیے۔ 

بھارتی فضائیہ نے اپنی تیکنیکی اور نظریاتی برتری پر بھروسا کرتے ہوئے جارحانہ انداز میں پرواز کی اور اس پرواز میں سیریل کوڈ BS0001، بھارت کے فرانسیسی فراہم کردہ فضائی بیڑے کا پرچم بردار رافیل بھی تھا۔

جسے ہر سال بھارتی فضائیہ کے فلائی اوورز میں نمائش کے لیے لایا جاتااور یہ کہا جاتا کہ یہ برّصغیر میں’’اسٹریٹیجک گیم چینجر‘‘ہے۔ اخبارات اور عالمی ٹیلی ویژن نیٹ ورکس پر اِس طرح کی تصاویر وائرل ہو چُکی تھیں۔ فرینچ اکاؤنٹ کے ذریعے نہیں، بلکہ ٹیلی گرام چینلز پر دفاعی تجزیہ کاروں اور پرواز کی شناخت کرنے والے اداروں کی طرف سے تصدیق کی گئی کہ بھارتی رافیل BS0001کو پاک فضائیہ کے جہاز نے مار گرایا۔

جب تمام دنیا نے دیکھ لیا کہ بھارت نے پاکستان پر بلا جواز حملہ کیا تو پاکستان نے جوابی کارروائی کا آغاز کیا۔ کیوں کہ بھارتی فضائیہ کے72کے لڑاکا طیارے چار مختلف سمتوں سے بڑے حملے کرنے کے لیے فضا میں تیار نظر آرہے تھے اور اب42 پاکستانی لڑاکا طیارے بھی دفاعی جنگ لڑنے کے لیے ہوا بردوش ہو چکے تھے۔ پہلی مرتبہ تاریخ میں سب سے بڑی فضائی جنگ کا تھیٹر سج چکا تھا، جس میں تقریباً114طیارے ایک دوسرے کو بصری آنکھ سے دیکھے بغیر آنکھیں چارکیے ہوئے تھے۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ، اسحاق ڈار اور ڈی جی آئی ایس پی آر، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اپنی متعدّد پریس کانفرنسزکے دوران معرکۂ حق وباطل میں اپنی مکمل فتح کا اعلان کیا۔ ڈی جی ایئر، ایئروائس مارشل اورنگ زیب احمد نے ملکی اور غیرملکی ذرائع ابلاغ کے سامنے الیکڑانک آئی ڈیز کے ذریعے واضح کیا کہ کس طرح اور کس کس جگہ پاک فضائیہ کے ہوا بازوں نے ہندوستانی فضائیہ کے جہازوں کو مار گرایا۔

المختصر ہندوستانی فضائیہ ’’آپریشن سندور ‘‘ کے نتیجےمیں آٹھ لڑاکا طیارے گروا چکی تھی جس میں سے چار رافیل طیارے تھے جس پر اُسے بڑا گھمنڈ تھا۔ جس کا اظہار جنرل (ر)خالد قدوائی نے سعودی عرب کے دورے کے دوران کیا۔

اس کے علاوہ اُس کا دوسرا بڑا ہتھیار رشین میزائل سسٹم ، S-400-تھا جسے ہمارے تھنڈر طیارے نے اس طرح تباہ کیا کہ اُس کا ریڈار والا حصۃ بالکل نیست ونابود اور ناکارہ ہو چکا تھا اور ساتھ ہی بھارت کے 78سے زیادہ اسرائیلی ڈرونز مار گرائے یا انہیں اُن کے اصل ٹارگٹ سے بھٹکا دیا گیا۔ براہموس میزائلوں کا بڑا ذخیرہ بھی تباہ کر دیا گیا تھا۔

پاک فضائیہ نے سات انڈین بیسز کو یقینی طور پر ہٹ کیا۔ جن میں آدم پور، پٹھان کوٹ، بھوج، اودھم پور، بھٹنڈہ، سری نگر اور اونتی پورہ بیسز شامل ہیں۔ سائبر سیٹلائیٹ اٹیک کے ذریعے 70فیصد بجلی کی سپلائی مفلوج کر دی گئی۔ پاکستانی ڈرونز مودی کے شہر گجرات اور دہلی تک آزادانہ پرواز کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ انڈیا نے شرمندگی اور ذلت کے ساتھ سیز فائر پر آمادگی ظاہر کی جس کا 10مئی کی شام ساڑے چار بجے آغاز کر دیا گیا۔

وہ لمحہ تاریخ کا حصہ بن گیا جب بھارتی فضائیہ نے پاکستانی حدود کے قریب آنے کی کوشش کی۔ بھارتی منصوبہ ساز اس خوش فہمی میں تھے کہ وہ ’’سرپرائز‘‘ دیں گے، مگر انہیں یہ علم نہیں تھا کہ پاکستان نے کئی روز پہلے ہی ان کی غیر معمولی فضائی نقل و حرکت،S-400کی ری ڈپلائیمنٹ، راجستھان اور گجرات کے فارورڈ بیسز پر سرگرمیوں اور NTRO کی سرگرم فریکوئنسی مانیٹرنگ کو نوٹ کر لیا تھا۔ 

پاکستان کی فضائیہ نے اس بار صرف روایتی دفاع پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ایک ایسے مربوط، ہم آہنگ اور کثیر الجہتی ملٹی ڈومین آپریشن کا آغاز کیا جس نے بھارتی حربوں کی کمر توڑ دی۔ پاکستان کے ردِعمل نے نہ صرف بھارت کی مہم کو ناکام بنایا بلکہ پوری دنیا میں یہ پیغام دیا کہ پاکستان اب دفاعی نہیں، بلکہ فعال، مربوط اور جدید ملٹی ڈومین جنگی صلاحیت رکھتا ہے۔ 

پاکستانی فضائیہ نے بہترین پیشہ ورانہ کارکردگی دکھائی، جس میں ’’ریئل ٹائم اسکائی ڈوم کنٹرول‘‘، ’’ڈی سینٹرالائزڈ انٹیلی جنس فیوژن‘‘، ’’ہائبرڈ الیکٹرانک ویور‘‘ اور ’’کمبائنڈ ریسپانس نیٹ ورک‘‘ جیسی صلاحیتیں شامل تھیں۔ یہ کارروائیاں پاکستان کی عسکری تاریخ میں ایک نئی جہت کا اضافہ ثابت ہوئیں۔

بھارت کی سیاسی و عسکری قیادت اس ناکامی کو چھپانے کے لیے جھوٹ، مبالغہ اور میڈیا کنٹرول کا سہارا لینے لگی۔ بھارتی چینلز نے اپنی ناکامی کا الزام ایک بار پھر پاکستان پر دہشت گردی، پراکسی نیٹ ورکس اور داخلی مداخلت کے نام پر تھوپنے کی کوشش کی، مگر عالمی فوجی مبصرین، امریکی تھنک ٹینکس، روسی اور چینی عسکری اداروں کی رپورٹس نے واضح کر دیا کہ بھارت نے ایک بڑی جنگی مہم کا آغاز کیا تھا اور پاکستان نے اسے مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔

مودی حکومت نے اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کو بحال کرنے کے لیے اپنی افواج کو ایک ایسی جنگ میں جھونک دیا۔ جس کے لیے وہ قطعا تیار نہ تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی ساختہ لڑاکا طیارہ تیجس ایک بار پھر عالمی سطح پر بھارت کے لیے شرمندگی کا باعث بنا۔ 

دبئی ایئر شو کے دوران تیل رِسنے کی تصاویر اور پھر اسی طیارے کا کریش ہونا اس حقیقت کو سامنے لاتا ہے کہ 40سالہ ’’میڈ اِن انڈیا‘‘ پروگرام شدید تیکنیکی کم زوریوں کا شکار ہے۔ بھارتی فضائیہ خود اس طیارے پر اعتماد نہیں کرتی، جس کی تصدیق اس بات سے ہوتی ہے کہ اس کا 60 فیصد بیڑہ گراؤنڈ ہے۔

پاکستانی دفاعی ماہرین کے مطابق، حادثے کی بنیادی وجہ صلاحیت سے زائد مظاہرہ کروانے کی سیاسی مجبوری تھی۔ دبئی ایئر شو دنیا کے چند اہم ترین ایئر شوز میں شامل ہے، جہاں دنیا بھر کی فضائی افواج اپنے جدید طیارے پیش کرتی ہیں۔ JF-17 تھنڈر نے وہاں بہترین کارکردگی دکھائی، جب کہ بھارتی ٹیم خود اسی کے ساتھ تصاویر بنواتی نظر آئی۔

اس کے برعکس، تیجس کے تیل کے اخراج کو شاپنگ بیگز رکھ کر چھپانے کی کوشش کی گئی جسے دفاعی ماہرین نے بھارتی فضائیہ کا انتہائی کم زور پروفیشنلزم قرار دیا۔ 

مزید غلطی یہ ہوئی کہ بغیر Functional )CheckFlight (FCF کے، اسی طیارے کو ائیر شو میں ایروبیٹکس کے لیے اڑا دیا گیا۔ یہ فیصلہ ’’سیاسی دباؤ‘‘ اور ’’مودی سرکار کی پروپیگنڈا خواہش‘‘ کے باعث کیا گیا۔

JF-17پاکستان کا ثابت شدہ اور معیاری پلیٹ فارم 

پاکستان نے 2000 کے بعد چین کے ساتھ مل کر JF-17 پروگرام شروع کیا، جبکہ بھارت نے 1985 میں Tejas کا آغاز کیا تھا۔ اس کے باوجود پاکستان نے 2010 میں JF-17 کو اپنی فضائیہ میں شامل کرلیا۔ لیکن بھارت اپنے تيجس کو 2015 تک تیار نہ کرسکا۔ پاکستان نے170–JF-17,150 تیار کرلیے جب کہ تيجس کی پیداوار آج بھی سست ہے۔ پاکستانی طیارہ مسلسل لڑائیوں اور آپریشنز میں استعمال ہو رہا ہے۔ 

ضربِ عضب، ردالفساد، ایران کے ساتھ کارروائی اور 2019سے آج تک کے متعدد واقعات اس کے گواہ ہیں۔ اس تجربے نے JF-17 کو ایک بااعتماد جنگی پلیٹ فارم بنا دیا، جب کہ تيجس آج تک کسی حقیقی جنگ میں استعمال نہیں ہوا۔ اسی تجربے کی بنیاد پر JF-17 آج چار ممالک نائیجیریا، میانمار، آذربائیجان اور پاکستان میں استعمال ہورہا ہے اور بہت جلد اس کے چھ ملکوں تک پہنچنے کے امکانات ہیں۔

پاکستان فضائیہ کی برتری، ٹیکنالوجی سے زیادہ ذہانت 

ریٹائرڈ وائس ائیرچیف ائیرمارشل، سعید محمد خان کے مطابق،1971سے آج تک ،54برسوںمیںپی اے ایف کا ایک بھی جنگی طیارہ کریش نہیں ہوا اور اس نے دشمن کے 28 طیارے مار گرائے۔ اسی طرح پی اے ایف نے دنیا کو پہلی بار200کلومیٹر کے BVR kill کے ذریعے حیران کر دیا جو امریکی F-15C کے 140کلومیٹر کے ریکارڈ سے زیادہ تھا۔ یہ سب جدید ترین ٹیکنالوجی کی وجہ سے نہیں بلکہ بہتر ٹریننگ، بہتر منصوبہ بندی، اور بہتر ’’برین پاور‘‘ کے باعث ہوا۔

امریکی کانگریس کی رپورٹ

چار روزہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان فاتح ہے۔ ’’امریکی US-China Economic & Security Review Commission ‘‘کی 800 صفحات پر مبنی رپورٹ نے اعتراف کیا کہ پلوامہ/پہلگام حملہ بھارت کا اپنا’’انسرجنسی‘‘ واقعہ تھا، پاکستان اس میں ملوث نہیں۔ جنگ میں پاکستان کو فوجی فتح حاصل ہوئی۔بھارت نے اپنے عوام سے جھوٹ بولا کہ وہ جیت گیا۔بھارت کے کئی طیارے گرانے کی تصدیق ہوئی۔

پاکستان نے پہلی بار J-10C- PL-15، HQ-9 جیسے چینی ہتھیار استعمال کرکے دنیا کو ان کی برتری دکھائی۔ بھارت کی خاموشی کی وجہ یہی ہے کہ رپورٹ نے پوری دنیا کے سامنے اس کا جھوٹ بےنقاب کردیا۔

پاکستان خلیجی ممالک، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیائی دنیا کو پائلٹ ٹریننگ فراہم کرتا ہے۔ عراق کی نئی فضائیہ کا بڑا حصہ پاکستان نے تیار کیا۔ پاکستان کی فضائیہ نے امریکا، چین، سعودی عرب، یو اے ای اور آذربائیجان کے ساتھ اعلیٰ درجے کی مشترکہ مشقوں میں حصہ لیا۔ پی اے ایف کے Combat Commanders School کو امریکی’’Top Gun‘‘ سے بہتر قرار دیا جاتا ہے، مگر اس کی ٹریننگ کے طریقۂ کارکو خفیہ رکھا جاتا ہے۔

پاکستان کی فضائیہ اس وقت خطے کی سب سے تجربہ کار اور پروفیشنل فضائی قوت سمجھی جاتی ہے۔ پاکستانی قوم کو بھی اس حقیقت کا علم ہوا کہ دشمن کی جانب سے یہ سب کچھ محض ایک خطرناک سیاسی مہم جوئی تھی، جس میں بھارت نے نہ صرف اپنی فضائیہ بلکہ پورے خطے کو غیر مستحکم کرنے کا خطرہ مول لیا۔ لیکن پاکستان نے اپنے صبر، حکمت، تدبّر اور بروقت عسکری صلاحیت کے ساتھ اس جنگی خطرے کو نہ صرف ٹال دیا بلکہ دشمن کو اس بات کا بھرپور احساس دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کے خلاف اٹھنے والا ہر ہاتھ توڑ دیا جائے گا۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید