• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا کا ’ڈومز ڈے میزائل‘ منیوٹ مین III کا کامیاب تجربہ

— تصویر بشکریہ عالمی میڈیا
— تصویر بشکریہ عالمی میڈیا

امریکا نے ایران کے خلاف جنگ کے دوران ’ڈومز ڈے‘ میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے، یہ میزائل دنیا کے کسی بھی مقام کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے غیر مسلح منٹ مین III بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے، جسے ’ڈومز ڈے میزائل‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ایئر فورس گلوبل اسٹرائیک کمانڈ نے 3 مارچ کو کیلی فورنیا کے وینڈین برگ اسپیس فورس بیس سے اس میزائل کے 2 ٹیسٹ لانچ کیے۔

کمانڈ کے مطابق یہ لانچ دنیا کے حالات کے تناظر میں نہیں بلکہ کئی سال پہلے شیڈول کیا گیا تھا۔

ایئر فورس گلوبل اسٹرائیک کمانڈ کا کہنا ہے کہ یہ ایک ڈیٹا پر مبنی پروگرام کا اہم جزو ہے جو دہائیوں سے جاری ہے اور اس میں 300 سے زائد ایسے ٹیسٹ شامل ہیں جو ہتھیار کے نظام کی کارکردگی کی تصدیق کے لیے کیے جاتے ہیں، ان معمول کے تجربات سے حاصل شدہ ڈیٹا موجودہ اور مستقبل کی فورس ڈیولپمنٹ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

ٹیسٹ کے دوران 2 میزائل ہزاروں میل کا سفر کرتے ہوئے کواجالین ایٹول، مارشل آئی لینڈز میں مقررہ ہدف تک پہنچے۔

اس طویل فاصلے کی پرواز سے انجینئرز اور ہتھیاروں کے ماہرین 377 ویں ٹیسٹ اینڈ ایویلیوشن گروپ کو میزائل کی درستگی کے بارے میں قیمتی ڈیٹا حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے، جس سے ہر جزو کی کارکردگی کی تصدیق ہوتی ہے۔

گزشتہ سال نومبر میں بھی امریکا نے منٹ مین III کا تجربہ کیا تھا۔

منٹ مین III کو ’ڈومز ڈے میزائل‘ کیوں کہا جاتا ہے؟

منٹ مین III  میزائل کی رینج 13 ہزار کلومیٹر ہے، یعنی یہ زمین کے کسی بھی حصے تک پہنچ سکتا ہے۔

یہ امریکا کا واحد زمین سے لانچ ہونے والا، نیوکلیئر وار ہیڈز لے جانے والا بیلسٹک میزائل ہے۔

یہ 3 آزاد وار ہیڈز لے جا سکتا ہے جو مختلف سمتوں میں جا کر ہدف پر حملہ کر سکتے ہیں، تاہم موجودہ معاہدے کے تحت ہر میزائل میں صرف ایک وار ہیڈ ہے۔

ڈومز ڈے کا نام اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ اس کے فائر ہوتے ہی زمین پر تابکاری کے پھیلاؤ کے سبب زندگی مشکل ہو سکتی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید