ایک اور سال بیت گیا، ذرا سی آنکھ کیا لگی کہ اک برس پلکوں سے گر کر وقت کی تیزی سے جاری گردشوں کے ساتھ رقصندن کہیں ماضی کی گہری کھائیوں میں ڈوب گیا۔ سب نے حال کو ماضی میں ڈھلتے دیکھا، جس کے حصار میں نئی دنیا کی وسعتوں نے ہمیں اپنے فریبوں میں جکڑے رکھا۔
بے شک وقت تھمتا نہیں، یہ اپنی مستی میں گم حالات و واقعات کو جنم دیتا، بے شمار خوابوں کو تعبیریں بخشتا اور وقت کو ماضی میں دفن کرتا ہوا نہایت سرعت سے گزر جاتا ہے، اسے کسی کی فکر دامن گیر نہیں ہوتی کہ کون اس کی قہر کی زد میں آیا۔
دنیا کہہ رہی ہے کہ2025ء تاریخ کے ان چند سالوں میں شمار ہوگا جہاں دہائیوں کا عمل ہفتوں میں سمیٹتے دکھائی دیا۔ ترقی کے نام پر ’’ دنیا کو ڈیجیٹل ہوتے، مصنوعی ذہانت کو چھاتے دیکھا، مغرب سے مشرق تک تیزی سے پھیلتا بائیو میٹرک نظام، پاسپورٹ، بینک اکاؤنٹ، موبائل فون، فیس آئی ڈی اور بھی بہت کچھ نظر آیا، کسی نے اسے ترقی کا زینہ کہا تو کسی نے ترقی کے نام پر شخصی آزادی پر کنٹرول اور کچھ نے تو پیش گوئی ہی کردی کہ2026ء کا سورج غروب ہوتے سمے انسان نہیں ’’روبوٹ‘‘ کام کرتے نظر آئیں گے۔
کچھ جھلکیں2025ء میں دیکھی بھی گئیں، ہر چند کہ حالات و واقعات کا تسلسل تبدیلی کے احساس پر حاوی ہے اور یہ محسوس نہیں ہورہا کہ، گزرا سال جو اندازوں سے بڑھ کر وسائل لایا تھا، اپنا بوجھ نئے سال کے کاندھوں پر منتقل کرکے ماضی کا حصہ بن چکا ہے۔
سال گزشتہ کا مکمل حساب کتاب کون جانے، بدلتی دنیا کا رونا اپنی جگہ ہمارا نوحہ بھی کچھ کم نہیں، جس کو چند سو الفاظ میں نہ تو سمویا جاسکتا ہے، نہ ہی بیان کیا جاسکتا ہے، لیکن سال نو کا جشن منانے میں ہم یوں حق بجانب ہیں کہ کل ہم دنیا میں تنہا تھے، آج ہمارے رازدارں اور بھی ہیں۔
یہ سال2025ء کا خوش کن پیغام تھا، جس کی گونج اس وقت پوری دنیا میں سنائی دی جب چار روزہ پاک بھارت جنگ میں دنیا خصوصاً عالمی طاقتوں کی سانسیں رکی ہوئی تھیں، دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے تھیں، اختتام جنگ پر عالمی برادری میں پاکستان کا نام توقیر اور وقار کے ساتھ لیا جانے لگا۔
کاش ہتھیاروں کے زور پر تاریخ بنانے والے یہ بات سمجھ جائیں کہ وہ کرہ ارض کا جغرافیہ نہیں بدل سکتے، اس وقت تو بعض انسانوں کے اندر پورے پورے آدم خور قبیلے آباد ہیں۔ دہشت گردی کے نام پر ایک مکمل نسل نفرت کے کٹہرے میں کھڑی جھانک رہی ہے۔ اس سب کے باوجود پاکستان نے یہ ثابت کردیا کہ ہم مستقبل کی بڑی اُمید ہیں۔
ہمارے محل وقوع کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، جس کا احساس سُپر پاور سے لے کر دشمنوں تک کو ہوگیا۔ یہ وہ سال تھا جس نے جنوبی ایشیا کی سیاست اور واشنگٹن کی ترجیحات بدل دیں۔ امریکا کا انڈیا فرسٹ بیانیہ دفن ہو گیا۔ پاک امریکا تعلقات میں انقلابی تبدیلیاں آئیں۔
ہمارے لئے بھی 2025بہت زیادہ اہمیت کا حامل رہا۔ کمانڈ اسٹرکچر میں تبدیلی، چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے کا فعال ہونا، اس کے ساتھ ساتھ فیلڈمارشل عاصم مینر کی قیادت امریکی عسکری اور سیاسی قیادت کی خصوصی توجہ کا مرکز بن گیا۔
رخصت ہوتے سمے2025ء پاکستان میں ایک اور تاریخ رقم کرگیا۔ تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہو گیا ۔ پہلی بار پاکستان کے سب سے معتبر اور مقتدر ادارے ’’آئی ایس آئی‘‘ کے سربراہ پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا، وہ مجرم قرار پائے اور انہیں، 14سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی، یوں پاک فوج نے اپنے ہی اعلیٰ افسر کو عدالت میں کھڑا کرکے خود احتسابی کی مثال قائم کردی،ایسا محسوس ہوا دسمبر2025ء’’سزاؤں کا سندیسہ‘‘ لے کر طلوع ہوا تھا۔ فیض حمید کے بعد جسٹس طارق محمود جہانگیری کو جعلی ڈگری کیس میں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کیس میں سترہ، سترہ سال کی سزائیں سنائی گئیں، ابھی ان سزاؤں کی بازگشت مدہم بھی نہ پڑی تھی کہ چار معروف سیاست دانوں کو دس، دس سال کی سزائیں سنا دی گئیں، یوں دسمبر کا چاند سورج قیدوبند کی سزائیں سناتے سناتے غروب ہوگیا۔
سال گزشتہ سزائیں ہی نہیں ہوئیں، آئین کی دھجیاں بھی خوب بھیکریں ،26ویں اور27ویں آئینی ترامیم ہوئیں، 28ویں ترمیم بلند ہوتی آوازوں اوردھمکیوں کے باعث موخر تو ہوگئی، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔
گزرے سال کے تو اوراق کھولتے ہی گواہی دینا شروع کردیتے ہیں کہ ایوانوں میں کیا ہوا، عوام پر کیا بیتی، سیاست کا بازار کتنا گرم رہا۔سارا سال اتنا شور شرابہ تھا کہ بقول امجد اسلام امجد
تیرے اردگرد وہ شور تھا، مری بات بیچ میں رہ گئی
نہ میں کہہ سکا، نہ تو سن سکا، مری بات بیچ میں رہ گئی
سیاست کھیلتے کھیلتے ’’عوام‘‘ کو یک سرنظرانداز کر دیا گیا، جن کے کانوں میں 2025ء کے بارہ ماہ کتنی تقریریں سماعتوں سے ٹکرائیں، کتنے جلسے، جلوس، ریلیاں طوفان بن کر اُبھریں، کتنے وعدے کانوں میں رس گھولتے رہے، لیکن آخری غروب ہوتے چاند سورج نے روشنیاں نہیں بکھیریں، اگر وقت گزشتہ کے اس نقصان پر سرسری نظر ڈالی جائے تو دل کا دیا بجھنے لگتا ہے اور یاد آنے لگتی ہے، فرانسیسی مفکر، سارتر کی یہ بات کہ ’’کبھی کبھی اُمیدیں خواب آور گولیوں کی طرح ہمارا ہوش چھین لیا کرتی ہیں۔
کچھ ایسا ہی2025ء کے باب میں نظر آیا۔ حسب سابق، سال گزشتہ کے پہلے ماہ سے آخری شب و روز تک اقتدار کے بلند ایوانوں سے لے کر عوام کے کچے گھروں تک ایک ہی بات تواتر سے سنی گئی، عوام کی تقدیر بدل دیں گے۔ تعلیم، روزگار، طبی سہولتیں، روٹی کپڑا، مکان سب کو ملے گا، کچھ افتتاحی تقریبات ہوئیں، کسی نے انڈر پاس کا افتتاح کرکے اپنے نام کی تختی لگوا دی تو کسی نے اسپتال، تعلیمی ادارے کا فیتہ کاٹ کر وہ کچھ بول دیا، جو اخبارات کی ہیڈ لائن، چینلز کی بریکنگ نیوز بن کر چھائی رہیں۔ ہر افتتاحی تقریب، سنگ بنیاد کی تصاویر ایسے منظر عام پر آئیں کہ عوام خوشی سے سرشار ہوگئے۔
جس دیس کے سادہ لوح انسان وعدوں پر ہی ٹالے جاتے ہوں
اس دیس کے ہر ایک لیڈر پر سوال اٹھانا واجب ہے
لیکن جب سوال کرنے والے ہی کو اٹھالیا جائے تو جواب کس سے مانگا جائے، فیض احمد فیض زندہ ہوتے تو اس کا جواب ضرور دیتے۔ سال گزشتہ کا مکمل حساب کتاب کون جانے، کس کے بھاگ جاگے، کس کے لیے مسند اقتدار خوش بختی بنا اور کون پس زنداں گیا۔ یہ2025ء کی طویل داستان ہے، لیکن ہلکی سی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔ مفاد پرستی، دھوکا، دکھاوا، ریاکاری قوم اور ملک کا چلن بنتے نظر آئے، دولت کا حصول مقصد حیات ٹھہرا۔
ملک میں انصاف ہوتا نظر آیا نہ سازگار حالات، جس کے لیے سیاسی استحکام، اداروں کی مضبوطی اور رول آف لاء لازمی سمجھے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی ایک بھی پورا ہوا، کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا۔ سال گزشتہ کے بارہ ماہ میں بہت کچھ بدل گیا مگر ہماری سیاست کے خدوخال نہ بدلے۔
معاشی وسماجی ترقی، سیاسی توا زن اور ہم آہنگی سے مشروط ہوتی ہے، گرچہ حکومت معاشی استحکام کے لیے جدوجہد کا دعویٰ کرتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ معاشی حالات میں بہتری کے آثار نظر آئے۔ عالمی اداروں کا اعتماد پاکستان کی معیشت پر بحال ہوا۔
ہمارے دوست ممالک کی جانب سے معاشی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے فیصلوں میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی، تاہم ایک چیز جس نے اس منظرنامے کو گہنایا، وہ مسلسل سیاسی عدم استحکام ہے۔ حکومت اور اپوزیشن میں دوریاں نقصان دہ ہوتی ہیں اور ایسا ہی ہوا، سال کے اختتام میں پے در پے سیاسی فیصلوں اور سزاؤں نے جلتی پر تیل کا کام کیا، جس کے اثرات شاید26ء میں نظر آئیں لیکن عام آدمی کو نہیں معلوم کہ سیاسی منظر نامہ جو انہیں نظر آیا، اس سے انہیں کیا فائدہ ہوا یا مستقبل میں کیا ہوگا؟
وہ تو زندگی کی سانسیں رواں دواں رکھنے کے لیے دو وقت کی روٹی کے لیے مارے، مارے پھرتے رہے، مگر روٹی پھر بھی نہ ملی، مرنے کے ساماں بہت نظر آئے، پر جینے کے حوالے دکھائی تک نہ دیے، وہ تو لٹتے رہے، ڈوبتے رہے، کہیں سیلاب نے انہیں نگل لیا، تو کہیں کھلے گٹروں نے، کہیں ڈمپروں نے ان کی سانسیں چھین لیں تو کہیں غربت نے معاشرتی فرسٹریشن درندگی میں بدل دی۔
انسانوں کی موجودگی میں سقوط انسانیت، حیوانیات انسانیت کی سفاکیت پر شرماتی رہی، بجلی اور پانی چوروں کی دیدہ دلیری، مفاد عامہ کے ذمے داروں کی بے بسی، مافیا کی اجارہ داری، پسند کی شادی پر موت کی سزا کا روایتی فیصلہ، الیکٹرونک میڈیا پر سیاست کاروں کی گرما گرمی، سب کچھ وہی تو دیکھنے سننے کو ملا جو اس سے پہلے کے سالوں میں ہوتا رہا۔
سال گزشتہ کے365اوراق کھولتے ہی اندازہ ہوجائے گا کہ صرف 24 کاہندسہ تبدیل ہوکر 25میں ڈھل گیا تھا، باقی تو وہی محکومیاں، مجبوریاں، غربت و افلاس، سب کچھ تو پہلے جیسارہا، گلی محلوں کی حالت، پھل فروش، سبزی فروش، دیہاڑی دار مزدور، تن خواہ دار ملازم، غرض ہر ایک کے چہرے پر محرومیوں کی چھاپ واضح نظر آئی۔
طوفان ہر دل میں ہے، آنسوؤں کا طوفان، ضروریات زندگی کا طوفان، نظام سے نفرت کا طوفان جو شاید سال نو میں بھپرجائے گا۔ جب طاقت کے سب وسائل زر، زمین سے لے کر حکومتی اور سیاسی راہ داریوں پر قبضے تک ہوں تو عام آدمی کیا کرسکتا ہے، وہ تو اپنے لیڈروں کی کہانیاں، ان کے بلند و بانگ دعوے سنتے رہتے، مگر ترامیم اور اضافوں کے ساتھ۔
عوام کے ووٹوں سے منتخب نمائندوں کی زبان پر ایک ہی گردان رہی کہ 2025ء ہماری ترقی کا سال تھا۔ سارا سال پریس کانفرنسوں، تقاریر، پیغامات اور ترقی کے منصوبوں کی داستانیں اس طرح سنائی گئیں کہ ایسا محسوس ہوا، جہاں دیگر ترقی یافتہ ممالک پہنچ چکے ہیں، ہم ان سے زیادہ فاصلے پر نہیں، اگر ایسا ہے تو ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، گندے پانی کے جوہڑ، تجاوزات اور گندگی کے ڈھیر میں لگی آگ کے دھوئیں تو کچھ اوربتا رہےہیں،جنہیں دیکھ کر تو یہی کہا جا سکتا ہےکہ، سب اعتبار، وعدے دھواں دھواں ہوگئے، عام آدمی کو نہیں۔
معلوم کہ سال بھر سیاسی منظرنامہ جو نطر آتا رہا اس سے انہیں کیا فائدہ ہوا۔ منتخب حکومت، اب اُسے جعلی کہیں یا اصلی، کرتا دھرتا تو وہی ہے، اپنی کارکردگی سے جمہوریت ہی نہیں، عوام کو بھی زندہ رکھنا چاہیے، مگر دونوں ہی دم توڑتے نظر آئے۔
تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم ایسی قوم کا روپ دھار چکے ہیں جسے جمہوریت میں آمریت اور آمریت میں جمہوریت کی یاد بڑی شدت سے آتی ہے۔ سچ بیانی یہ ہے کہ موجودہ دور حکومت کو نہ تو جمہوری کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی آمرانہ لیکن ہر دو سطحوں سے نشانہ بننے والے عوام سارا سال تذبذب کا شکار نظر آئے،اب اس میں قصور کس کا ہے؟
عوام کا یا سیاسی زعماء کی کج ادائیوں کا۔ بظاہر ایک دوسرے کے مخالف نظر آنے والے سیاست داں ایک دوسرکے محافظ نظر آئے۔ انہیں سیاست کے بکھیڑوں پر اپنی معرفت کے موتی بکھیرنے سے فرصت ملتی تو کوئی اور کام کرتے، حالاں کہ حکام کو آگے کی طرف پیش قدمی کرنے کے لیے سب سے پہلے ان زخموں پر مرہم رکھنے کا عمل شروع کرنا چاہیے تھا، جن سے ہمارا آئین، ہمارے قومی ادارے، ہمارا عدالتی نطام، ہماری قومی ثقافت اور ہماری ملکی معیشت جو درد سے بلبلا رہی تھی لیکن تلخیاں اور نفرتیں جو زہر کی طرح معاشرے میں سرایت کرچکی ہیں، سال کے اختتام پر زبانوں میں بھرا ہوا زہر تھوک کر کانوں میں گھولا جاتا رہا۔
کسی نے یہ یاد نہیں رکھا کہ جس کو ’’میں‘‘ کی ہوا لگی، اسے پھر نہ ’’دوا‘‘ لگی ، نہ ’’دعا‘‘ لگی۔ نئے سال آتے رہیں گے۔ چاند، سورج طلوع و غروب ہوتے رہیں گے لیکن قسمت چاند، سورج سے نہیں بدل سکتی۔ ہمیں سب کچھ نیا درکار ہے۔ نیا نظام، نئے چہرے، دنیا بدل چکی ہے، اب ہمیں بھی بدلنا ہوگا۔ یہ دور جس کے بارے میں کہا جاتا ہےکہ ،خوابوں کا دورہے ،جن کی تعبیر ممکن نظر نہیں آرہی۔
یہ نااُمیدی ہے، اسی دور میں اسٹاک ایکس چینج کے جلتے بجھتے، مٹتے، اُبھرتے ہندسوں کی طاقت بھی دیکھی گئی، سونے کی ریکارڈ توڑ قیمتوں کے ساتھ خریدار بھی خوب نظر آئے، لال ٹین کی روشنی میں پڑھنے والے بچوں نے سائنسی ایجادات کر کے اپنی علمی طاقت بھی بتادی، اس لیے نااُمید نہ ہوں، خوابوں کو ضرور تعبیر ملے گی، یہ الگ بات ہے کہ خواب دکھانے دیکھنے والی آنکھیں کتنی ہیں اور تعبیریں سوچنے اور مانگنے والے ذہن اب کتنے ہیں۔ لیکن قدم آگے بڑھانا تو ہوں گے۔
ہر نیا سال یہ ضرور بتاتا ہے کہ، قدرت کے پیڑوں میں ابھی رس بھرے پھولوں کے خوشے موجود ہیں۔ دیکھیں2026 میں وقت کیا تحریر کرتا ہے۔ تاریخ ہماری منتظر ہے۔ عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، جس فرسودہ نظام نے انہیں اپنے جسمانی اعضا اور جگر کے ٹکڑے بیچنے پر مجبور کیا، اس سے جان چھڑانے کا فیصلہ کرنا ہو گا۔ نئے سال کی بانہوں میں امتحان کڑے اور سوال کڑوے نظر آرہے ہیں۔ لیکن یہ یاد رکھیں مشکل فیصلے ہی نئی تاریخ رقم کرتے ہیں۔
رضیہ فرید
میگزین ایڈیٹر، جنگ کراچی