• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سال 2025ءعالمی منظر نامہ سے لیکر وطنی طول و عرض میں اپنے ساتھ نئی نویلی ہولناکیوں کی داستان لیکر غروب ہوا۔ عالمی منظر نامہ پر کئی محاذوں پر کئی بار یوں لگا کہ تیسری عالمی جنگ کا کسی وقت بھی آغاز ہوا چاہتا تھا ۔ بدقسمتی اتنی ! چشم تصور میں نیا سال 2026ء کے بھیانک منظر آنکھوں کے سامنے گھوم رہے ہیں۔ چین اور امریکہ کا تائیوان کے اوپر ٹکراؤ تو جیسے سال کے آغاز ہی میں دہلیز ٹاپنے کو ہے ۔ مشرق وسطیٰ ، مشرقی یورپ ، جنوبی امریکہ ، وینزویلا ، افریقہ کے اندر بگڑے معاملات بھی عالمی جنگوں کو مزید ہوا دینے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں ۔ وطن عزیز کو جن مسائل کا جنوری 2025ءمیں سامنا تھا ، چند دیگر نئے مسائل اور بھی جُڑ چکے جبکہ پہلے سے موجود مسائل کی شدت دوچند ہو چکی ہے ۔ تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو ، سیاسی بحران سے لیکر دہشتگردی تک ، ہر طرف ہیجان و ہنگامہ برپا ہے ۔ اگر کوئی حل ہے بھی تو کسی طور عوام الناس یا میڈیا کے دائرہ علم میں نہیں ۔ عقیدہ پختہ کہ ملکی ہمہ جہتی بحران کا ماخذ موجودہ سیاسی عدمِ استحکام ہے جو ہماری مقتدرہ اور اہل اثر و رسوخ برگزیدہ سیاستدانوں کی ملی بھگت کا نتیجہ ہی تو ہے ، اقتدار و اختیار کی ہوس میں محنت شاقہ سے ملک کو بند گلی میں لاکھڑا کیا ہے ۔ کروڑوں عوام ، ایک کڑاہی سے دوسری کڑاہی میں منتقل ضرور ہوئے ، مگر دہائیوں سے مستقل تلے جا رہے ہیں ۔ آنیوالے دنوں میں مملکت کیا رُخ اختیار کرئیگی، یقین جانیے اسکا تعین نہ تو مقتدرہ کو نہ ہی مفلوک الحال عوام الناس کو ہے ۔

پچھلے سال کے کالموں کا لب لباب بھی یہی کچھ، مملکت کیلئے سیاسی استحکام کی بھیک مانگنا رہا ۔ چار سال قبل جب جنرل باجوہ نے اپنے مایہ ناز بلند پایہ پراجیکٹ کو ٹھکانے لگانے کا عندیہ دیا ، ایسے آثار نمایاں ہوئے تو شد ومد سے نمایاں سیاسی شخصیات سے رابطے جوڑے ، TV پروگرام کئے ، کالم لکھے کہ دیکھنا اس آگ سے نہ کھیلنا یہ آپکو بھی بھسم کر دے گی۔ دسمبر 2021ءسے ہی تباہی و بربادی سے بھرپور ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا ۔ جنرل باجوہ اپنے پراجیکٹ کو ٹھکانے کیا لگا پاتا ، وطنی سیاست کا شیرازہ بکھیر ڈالا ، ملک کو سیاسی عدمِ استحکام کی ایک ایسی گہری دلدل میں دھکیل گیا کہ مجھے اس دلدل سے نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ۔ جو کوئی بھی ایوان طاقت و اقتدار میں یا پھر اپوزیشن کی صفوں میں نمایاں ، سب اپنے اپنے مفاداتی ایجنڈا کے اسیر ہو چکے ہیں۔

ذاتی مفادات ہمیشہ وطنی مفادات کی کاٹ ، آج پورا نظام متزلزل ہے ۔ خدشہ اتنا کہ نظام زمین بوس ہوا تو وطنی چولیں ہلا جائیگا ۔بین الاقوامی سطح پر پچھلے کئی ماہ جو پذیرائی اور شان و شوکت پاکستان کا نصیب بنی ، اسکے فوائد و ثمرات کیا سمیٹتے ، اندرون خانہ منقسم قوم باہمی تصادم کو اپنی ترجیح بنا چکی ہے ۔ 70 کی آشفتہ حال دہائی میں جو خون آشام تقسیم دیکھی ، آج کی سیاسی عداوتوں اور دشمنیوں کے سامنے ماند پڑ چکی ہے ۔ میرا واہمہ کہ کہیں باہمی نفرتیں بدنما خانہ جنگی کا روپ نہ دھار لیں ؟

دُہرانے میں حرج نہیں کہ ایک طرف ریاستی طاقت بااختیار اور منظم ہے تو دوسری طرف عوام الناس کی طاقت اگرچہ بکھری اور بے سمت ضرور مگر انارکی اور انتشار بڑھانے میں ہمیشہ موثر رہی ہے ۔ ہر دو فریقوں نے اپنے آپ کو حق سچ کا علمبردار اور دینِ حق کا نمائندہ سمجھ رکھا ہے ۔ چونکہ وطنی امانتیں مقتدرہ کے پاس چنانچہ وطنی مفادات کی ترجیحات انکی اولیں ذمہ داری بنتی ہی ،وگرنہ خائن تصور ہونگے ۔ جب جنوری 2025ءمیں داخل ہوئے تھے تو اس وقت مقتدرہ کی واحد ترجیح مقبولیت کو زیر کرنا تھا ۔ اگرچہ یہ ترجیح جنوری 2022ءسے رائج تھی مگر کیا کیا جائے ،’’ ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں ، کہیں ایسا نہ ہو جائے ایسا نہ ہو جائے ‘‘ ۔ دسمبر 2025ءتک یہ تعین نہیں ہو سکا کہ اگلے نظام کا آغاز کب ہوگا ، کس قسم کی تطہیر اور تزکیہ سے آراستہ مستقبل کا مستقل راہ عمل بنے گا۔

وطنی بدنصیبی کہ آج جبکہ 2026ءکا آغاز ہوا چاہتا ہے ، نئی ترجیحات کی دھکم پیل سامنے ہے ۔ سہیل آفریدی کے پشاور اور کوہاٹ کے دو جلسے کامیابی سے دور تھے ، جبکہ تین روزہ لاہور کا دورہ ناکامی کا منہ بولتا ثبوت تھا ، چنانچہ مقتدرہ کا حوصلہ بڑھا گئے ۔ دوسری طرف عمران خان کی بہنوں کا منگل اڈیالہ جیل کے باہر ٹوکن دھرنا غیرمتاثر کن اور اثر انگیزی سے محروم ہے ۔ ہر آنیوالا منگل مزید مدھم نظر آئیگا اور بالآخر ٹوکن دھرنوں سے جان چھڑانا مشکل ہو جائیگا ، عمران خان کی رہائی کیلئے دباؤ یا سوشل میڈیا کا بچا کھچا رول بھی اپنا اثر کھو چکا ہے ۔ جو کچھ باقی بچا ہے ، مقتدرہ کے معمولات زندگی کا اب حصہ بن چکا ہے ۔ دوسری ترجیح نہروں ، NFC ، مزید صوبوں کی مد میں پیپلز پارٹی ہر قسم کے تعاون سے انکاری ، 28ویں آئینی ترمیم کو پس پشت رکھ کر 2026 ءمیں نئے الیکشن اور شہباز حکومت کو 2/3 اکثریت سے لیکر پیپلز پارٹی سے سندھ کو چھٹکارا دلوانا زیر غور ہے ۔ کچھ ہفتے پہلے PPP اور PTI کو ایسے ممکنہ اقدامات بارے خدشات بتائے تھے ۔ دونوں کو امابعد تعاون بڑھانے کی ترغیب بھی دی تھی ۔ تیسرا امکان ، بظاہر بھائی لوگ حکومتی وزراء کی کارکردگی سے غیر مطمئن ہیں اور کابینہ میں قابل اور اہل لوگوں کی شمولیت کے خواہاں ہیں ۔ اور آخر میں اگرچہ دور کی کوڑی ، ریاست کا ایک حلقہ اس بات پر مصر کہ جب یہ لاٹھی میری ہے اور سارا سر درد ہمارا ہے تو کیوں نہ پھر بھرپور کردار ادا کیا جائے اور کیوں نہ انتظامی معاملات مکمل طور پر ’’اپنے کسی بندے‘‘ کو سونپے جائیں ۔ یقیناً یہ چاروں آپشن بیک وقت روبہ عمل نہیں ہو سکتے ۔ اگر آخری تین میں سے کوئی اختیار کیاگیا تو عمران خان کے جیل معاملات میں لمبا عرصہ نرمی موخر رہے گی ۔ اگر عمران خان کیخلاف کوئی سخت گیر تادیبی کارروائی کا فیصلہ ہوا تو پھر اگلے تین آپشنز متروک رہنے ہیں ۔ کاش اس وقت اہل طاقت و اقتدار و اختلاف ایک اور آپشن کو بھی اپنی ترجیح بناتے ۔ سب اپنے اپنے کئے کی معافی مانگتے اوراپنی غلطیوں کا ادراک کرتے ، ازالہ کرتے ۔ خدا کے واسطے 2026ءکا ریزولوشن یہی کچھ، پاکستان کیلئے ایک دوسرے کو معاف کرکے اکٹھے بیٹھ جائیں ۔ پانچ سال کیلئے سب مل کر ایک قومی حکومت بنا ڈالیں ۔ یقین دلاتا ہوں ، وطنی سلامتی کا یہی ایک راستہ ، باقی سب راستے فقط تباہی کا گڑھا اور کچھ نہیں۔

تازہ ترین