یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ سال 2025ء میں روس کو یوکرین کے کُل رقبے کے صرف 0.8 فیصد علاقے کے بدلے میں شدید جانی نقصان اٹھانا پڑا۔
یوکرینی اندازوں کے مطابق گزشتہ سال روس کے تقریباً 4 لاکھ 20 ہزار فوجی ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔
دسمبر کے آخری دنوں میں روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے دعویٰ کیا تھا کہ یوکرین نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی ولدای میں واقع رہائش گاہ پر ڈرون حملہ کرنے کی کوشش کی تاہم یوکرین نے اس الزام کو سختی سے مسترد کر دیا تھا۔
دوسری جانب یوکرین کے وزیرِ خارجہ آندری سبیہا کا کہنا ہے کہ روس نے اب تک کوئی قابلِ اعتبار ثبوت پیش نہیں کیا اور یہ واقعہ پیش ہی نہیں آیا۔
روسی اپوزیشن میڈیا اور بین الاقوامی اداروں نے بھی اس دعوے پر شکوک کا اظہار کیا تھا۔
انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار کے مطابق مبینہ حملے کے کوئی واضح شواہد سامنے نہیں آئے جبکہ ماضی میں یوکرینی حملوں کی تصدیق سوشل میڈیا اور مقامی رپورٹس سے ہو چکی ہے۔
یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے جب یوکرینی صدر ولودیمیر زیلینسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد امن معاہدے کی صورت میں یوکرین کو امریکی سیکیورٹی ضمانتوں کی یقین دہانی حاصل کی۔
اس معاملے پر پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
دوسری جانب روس نے اعلان کیا ہے کہ مذاکراتی پوزیشن پر نظرِثانی کی جائے گی اور صدر پیوٹن نے جنوبی یوکرین میں مزید کارروائیوں کے احکامات دیے ہیں۔
ایسے میں زیلینسکی نے الزام لگایا کہ روس امن مذاکرات سے بچنے کے لیے بہانے تلاش کر رہا ہے۔
یوکرین کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک روس کا جانی نقصان مجموعی طور پر 12 لاکھ سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ ہزاروں ٹینک، بکتر بند گاڑیاں، توپ خانے، طیارے اور میزائل تباہ ہو چکے ہیں۔
یوکرین کا دعویٰ ہے کہ سال کے اختتام تک روس کئی اہم یوکرینی شہروں پر قبضہ کرنے میں ناکام رہا۔ اسی دوران روس نے یوکرین کے شہروں پر ڈرون اور میزائل حملے جاری رکھے تاہم یوکرینی فضائیہ کے مطابق زیادہ تر حملوں کو ناکام بنا دیا گیا۔