سالِ نو کے پہلے سُپر مون کا آغاز ہوگیا، آسمان پر چاند غیرمعمولی طور پر بڑا دکھائی دے گا، یہ سپر مون روایتی طور پر وولف مون کہلاتا ہے۔
یہ سپر مون آخری سپر مون ہے، جس کا آغاز اکتوبر 2025ء میں ہوا تھا جبکہ یہ سال 2026ء کا پہلا سپر مون بھی ہے۔
اعلامیے کے مطابق یہ سپر مون سال کے فلکیاتی مظاہر میں ایک ابتدائی نمایاں واقعہ ہے، کیونکہ اسی دوران کوآڈرینٹڈ شہابی بارش اپنی انتہا پر ہوتی ہے، جو اس کی فلکیاتی اہمیت کو مزید بڑھا دیتی ہے۔
پاکستان میں سپر مون آج شام 5 بجکر51 منٹ پر طلوع ہوا، اس وقت چاند کی روشنی 99 اعشاریہ 8 فیصد ہوگی، جو 3 اور 4 جنوری کی رات کو نمایاں طور پر دیکھا جا سکے گا۔
اس موقع پر زمین اور چاند کے درمیان فاصلہ تقریباً 3 لاکھ 62 ہزار 312 کلومیٹر ہوگا جبکہ سپرمون پورے چاند کے مقابلے میں تقریباً 6 سے 7 فیصد بڑا اور 10 فیصد تک زیادہ روشن دکھائی دے گا۔
ماہرین فلکیات کا مزید بتانا ہے کہ سپر مون عموماً تین سے چار مسلسل واقعات کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں اور موجودہ سپر مون کا سلسلہ 3 جنوری کے سپر مون کے ساتھ اختتام پذیر ہو رہا ہے۔
اگلا سپر مون کا سلسلہ نومبر 2026ء میں شروع ہوگا، جو سال 2026ء کا دوسرا سپر مون کہلائے گا اور 2026ء کے اختتام تک اس کے بعد کوئی اور سپر مون نہیں ہوگا۔