ملتان (سٹاف رپورٹر)محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب کی جانب سے کیے گئے293 مرد و خواتین کالج اساتذہ کے تبادلوں پراساتذہ تنظیمیں تحفظات کا شکار، سوالات اٹھنے لگے۔ تبادلوں کی فہرستیں سامنے آنے پر متعدد کالجز کے پرنسپلز نے بھی حیرت کا اظہار کیا ہے کہ جن شعبہ جات میں پہلے ہی اساتذہ کی تعداد ضرورت سے زیادہ تھی، وہاں مزید اساتذہ تعینات کر دیے گئے ہیں، جبکہ بعض چھوٹے اور دور دراز علاقوں کے کالجز اساتذہ سے خالی ہوتے جا رہے ہیں۔تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ سکولوں کی نجکاری کے تجربے کے بعد اب کالجز میں بھی وہی ماڈل آزمایا جا رہا ہے، مبینہ حکمتِ عملی کے تحت پہلے مرحلے میں بھرتیوں کا سلسلہ بند ، دوسرے مرحلے میں چھوٹے اور دور افتادہ علاقوں کے کالجز سے اساتذہ کو بڑے شہروں کے کالجز میں منتقل کیا جا رہا ہے، اور پھر یہ مؤقف اختیار کیا جائے گا کہ بعض کالجز میں انرولمنٹ نہ ہونے کے برابر ہے،بعد ازاں ان اداروں کو ناکام قرار دے کر آؤٹ سورسنگ یا نجکاری کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔