اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان حکومت سے مذاکرات پر آمادہ ہوگیا، حکومت کو مثبت جواب دینے کا فیصلہ کرلیا۔
ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اسلام آباد میں گزشتہ رات اپوزیشن اتحاد کی مشاورتی نشست میں کیا گیا، مشاورتی اجلاس میں محمود خان اچکزئی، علامہ ناصر عباس، شاہد خاقان عباسی، مصطفیٰ نواز کھوکھر بھی شریک تھے۔
اجلاس میں رانا ثناء اللّٰہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا، سلمان اکرم راجہ، شاہد خاقان، دیگر نے اپوزیشن قیادت کو حکومت سے رابطے کا مشورہ دیا۔
محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس اپوزیشن اتحاد کے فیصلوں کے بعد مذاکراتی عمل پر پیشرفت کریں گے، اپوزیشن قائدین رمضان المبارک میں اہم حکومتی شخصیات سے رابطہ کریں گے۔
پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر کا کہنا ہے کہ ہم سیاسی لوگ ہیں اور مذاکراتی عمل پر یقین رکھتے ہیں، چاہتے ہیں مفاہمت اور ڈائیلاگ کے ذریعے مسائل کا حل نکلے، اداروں سے محاذ آرائی ختم ہو لیکن حکومت کو بھی اپنا رویہ درست کرنا ہوگا۔
جنید اکبر نے کہا کہ پولیٹیکل اسپیس نہیں دی جاتی تو پھر مذاکراتی عمل بھی آگے نہیں بڑھ سکتا، آپ مذاکرات کے لیے ماحول بنائیں، ہم بار بار کہتے ہیں آپ ایک قدم اگے بڑھیں گے تو ہم دو قدم ساتھ دیں گے، اگر حکومت حالات نارمل کر دے تو ہم بات چیت، مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما عاطف خان نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد کی نشست میں تمام جماعتوں کے ارکان شریک ہوئے، اپوزیشن ارکان نے محمود خان اچکزئی، علامہ ناصر عباس کو مذاکرات کا اختیار دے دیا ہے۔