• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شوبز اور صحافت ایسے شعبےہیں ، جن میں آدمی جتنا زیادہ خبروںمیں رہے ، اتنی ہی اس کی قیمت بڑھتی چلی جائیگی۔ خبروں میں رہنے کا ایک آزمودہ نسخہ یہ ہے کہ آپ ایسی اسٹوریز بریک کریں ، جہاں کسی کی رسائی نہ ہو ۔ فلمی دنیا کے اداکار ایسی اداکاری کریں ، جیسی کسی نے نہ کی ہو۔ یہ بڑا مشکل طریقہ ہے ۔ دوسرا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ بار بار متنازعہ حرکتیں کریں ۔ آپ متنازعہ لوگوں کے ساتھ بحث کریں ۔آپ بار بار جھگڑا کریں۔ آپ ہر وائرل ایشو پر ایک شدید موقف پوری قوت کے ساتھ اختیا رکریں ۔ آپ خود بخود خبروں میں جگہ بناتے چلے جائیں گے ۔

بھارت کی فلمی صنعت میں دیکھیں تو عرفی جاوید ، کنگنا رناوت اور راکھی ساونت جیسے کردار آپ کو نظر آئیں گے۔جتنے زیادہ آپ تنازعات میں گھریں گے ، اتنی زیادہ آپ کی قیمت بڑھتی چلی جائیگی ۔ ایک پاکستانی ایکٹریس کا بگ باس میں شرکت کیلئے بھارت جانا اور پھر راکھی ساونت کا اس کے تعاقب میں پاکستان آنا،یہ سب ہائی لائٹ ہونے کے طریقے ہیں ۔’’ لہور دا پاو ا‘‘ ایک کردار ہے ، عجیب و غریب حلیے میں بے سرا گاکر ہٹ ہونا، مارننگ شو کی ہوسٹ کا ایک ٹک ٹاکر کے زیورات کو جعلی ثابت کر نا ، ایک اداکارہ کا یہ بتانا کہ اس کا شوہر طلاق نامے پہ دستخط کرتے ہوئے بے ہوش ہو گیا ،ٹک ٹاکروں کی آپس میں دشمنیاں ، ایک انفلوئنسر کا متنازعہ طریقے سے نماز پڑھنا ، پرفیوم کا نام 295 رکھنا،یہ سب تنازعات کے ذریعے وائرل رہنے کے طریقے ہیں ۔

لاہور کی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میں سیلاب کا پانی آیا تو ایک انفلوئنسر نے ایک طوفان کھڑا کر دیا کہ میرا کروڑوں کا نقصان ہو گیا۔میرا مکان پانی میں ڈوب گیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ مکان کرائے کا تھا۔ مالک مکان بھاگ کر سامنے آیا کہ بی بی کہیںمیرے مکان پر قبضہ تو نہیںکرنے لگی ۔ اس کے بعد اس کا شادی میں چالیس تولے سونا اور ایک کروڑ کا لہنگا پہننے کا دعویٰ ۔میڈیا پر جگمگانے والی خاتون کا یہ دعویٰ کہ میں پلمبرتک سے پردہ کرتی ہوں ۔ایک ٹک ٹاکر کا شو کے دوران اچانک غیر ملکی کرنسی کا پیکٹ نکال کر لہرانا ۔اس کے سونے کے زیورات کا جعلی نکل آنا۔ ایک ٹک ٹاکر کا یہ دعویٰ کہ دوسرا دبئی میں سویپر ہوا کرتا تھا ، اسی لیے بات کرتے ہوئے وہ وائپر چلانے کے انداز میں بازو ہلاتا ہے ۔سینکڑوں لوگ اور بھی ہیں ، جو مذکورہ بالا افراد کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں لیکن اب تک وائرل نہیں ہو سکے ۔ اگر آپ کو یہ معاملات اہم نہیں لگتے تو ایک ٹک ٹاکر کی کراچی عدالت کے باہر پٹائی اورجواباً وکلا پر ایف آئی آر قومی میڈیا کا سب سے اہم ایشو بن گیا تھا ۔ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اس ایف آئی آر کی مذمت کی ۔سینئر ترین وکلا کو آپ دیکھیں گے کہ وہ ایف آئی آر کی مذمت کریں گے ، وکلا کی طرف سے سائل کو مارنے کی مذمت کبھی نہیں ۔ تنازعات ہی وہ پانی ہے ، جس میں متنازع یوٹیوبرز جیسی مچھلیاں زندہ رہتی ہیں ۔ وہ جتنا وائرل رہے گا ، اتنی اس کی ویلیو بڑھے گی لیکن اس کی ایک قیمت آدمی کو چکانا ہوتی ہے ۔ جو شخص بھی تنازعات میں رہتا ہے ، اس کے اعصاب پہ دشمن اور بے عزتی کا دباؤ رہتا ہے ۔ یہ دباؤ جسم اور دماغ کیلئے انتہائی نقصان دہ ہوتا ہے ۔

دس سال پہلے عجیب و غریب رمضان شو کرنے اور تنازعات میں رہنے والے ایک ہوسٹ کے بارے میں کہا تھا: میرا اندازہ ہے کہ اس شخص کو طبعی موت نصیب نہیں ہوگی ۔ یہ اینکر جس ادارے کو خیر باد کہتا، پلٹ کر اس پر حملہ آور ہوجاتا۔ کوئی شخص ذرا سی اس پر تنقید کرتا ،یہ اپنے آپ کو’’ ابو‘‘قرار دیتے ہوئے اس شخص سے انتقام کا اعلان کر دیتا۔ خیر موت تو اس کی طبعی تھی لیکن اس لحاظ سے طبعی نہیں تھی کہ ذہنی دباؤ کی وجہ سے دل جواب دے گیا۔ اس کی ایک مبینہ خفیہ شادی اس کا سبب بنی ۔ اینکر نے جب نکاح کا اعلان کرنے سے انکار کیا تو سہاگن نے اس کے فلیٹ کے باہر کھڑے ہو کر لائیو اسے ذلیل کرنا شروع کیا ۔ پھر مرتے مرتے اس نے آخری شادی اورکی ۔ یہ نئی بیوی خفیہ بیوی کی بھی ماں نکلی اور یوںوہ اینکر کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی۔ بیچارہ چل بسا ۔ایک کوالیفائیڈ ڈاکٹر اگر انسانی جسم پر میڈیکل سائنس کی روشنی میں دس سال گفتگو کرتا رہے تو اسے وہ شہرت نہیں مل سکتی ، جو وہ سموسے کو ایٹم بم قرا ر دے کر راتوں رات حاصل کرسکتاہے ۔ ایٹم بم تو ایک پورے شہر کو تباہ کرڈالتا ہے ۔ کیا سموسہ کھانے والے کا جسم دھماکے سے پھٹ جاتا ہے ۔ ہاں یہ کہا جاسکتا تھا کہ اس قسم کی خوراک صحت کیلئے نقصان دہ ہے ، خصوصاً اس وقت جب آپ کا وزن اور کولیسٹرول بڑھا ہوا ہو اور آپ کوئی جسمانی سرگرمی نہ کرتے ہوں ۔ اسی طرح یہ دعویٰ کہ تربوزوں کو انجکشن لگا کر سرخ کیا جا رہا ہے ، جو فیزیبل بھی نہیں ، پبلسٹی سٹنٹ ہے۔ اگر تربوز اگانے اور بیچنے والوں کا نقصان ہوتا ہے تو کیا، وڈیو تو وائرل ہو گئی ۔

آج کل صحافت میں ہٹ ہونے کے بھی دو طریقے ہیں ۔ یا تو آپ عمران خان کے غیر مشروط حامی بن جائیں یا مخالف لیکن جو بھی سائیڈ آپ نے لینی ہے ، غیر مشروط لینا ہوگی ، جیسا کہ دین میں انسان پورے کا پورا داخل ہوتا ہے ۔آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ عمران خان کی بیوی جعلی عامل ہے ۔ آپ کو ہر وی لاگ کی سرخی یہ لگانا ہوگی : ڈیل ہو گئی ، عمران خان رہاہونیوالے ہیں ۔اب تو ہیڈ لائنزClickbaitپہ چل رہی ہیں ۔ ایسے میں ٹک ٹاکروں سے کیا گلہ ۔

ہم طالبِ شہرت ہیں، ہمیں ننگ سے کیا کام

بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا

تازہ ترین