پاکستان کرکٹ بورڈ نے بنگلا دیش کے خلاف تیسرے ون ڈے میچ میں متنازع ڈی آر ایس ریویو کے معاملے پر باضابطہ شکایت درج کرا دی ہے۔
پی سی بی نے میچ ریفری نیامور سے رابطہ کرتے ہوئے آن فیلڈ امپائر دھرماسینا کمار کے فیصلے پر اعتراض اٹھایا ہے۔
پاکستان ٹیم مینجمنٹ کا مؤقف ہے کہ بنگلا دیش نے ایل بی ڈبلیو ریویو اس وقت لیا جب گیند کی ری پلے اسٹیڈیم کی بڑی اسکرین پر دکھائی جا چکی تھی۔
یہ واقعہ شیر بنگلا اسٹیڈیم میں کھیلے گئے تیسرے ون ڈے کے آخری لمحات میں پیش آیا، جب پاکستان کو جیت کے لیے آخری 2 گیندوں پر 12 رنز درکار تھے۔
بنگلا دیش کے بولر رشاد حسین کی گیند لیگ سائیڈ کی طرف مڑی اور امپائر نے ابتدائی طور پر اسے وائیڈ قرار دیا، تاہم بنگلا دیشی کھلاڑیوں نے مختصر مشاورت کے بعد ایل بی ڈبلیو کے لیے ریویو لے لیا۔
قواعد کے مطابق ریویو لینے کا فیصلہ اس سے پہلے کیا جانا چاہیے جب اسکرین پر گیند کا ری پلے دکھایا جائے، تاکہ ویڈیو سے فائدہ نہ اٹھایا جا سکے، پاکستان کا مؤقف ہے کہ ری پلے پہلے دکھایا گیا جس سے بنگلا دیشی ٹیم کو ممکنہ طور پر معلومات حاصل ہوئیں۔
مزید یہ کہ پی سی بی نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ ریویو مقررہ 15 سیکنڈ کی مدت کے بعد لیا گیا، تاہم براڈکاسٹ میں کوئی ٹائمر نظر نہیں آیا جس سے اس کی تصدیق ہو سکے۔
جب ڈی آر ایس کے تحت ہاک آئی استعمال کیا گیا تو معلوم ہوا کہ گیند شاہین آفریدی کے بیٹ کے نچلے حصے کو چھو کر گزری تھی، جس کے باعث وائیڈ کا فیصلہ واپس لے لیا گیا، اس کے بعد پاکستان کو آخری ایک گیند پر 12 رنز درکار رہ گئے۔
آخری گیند پر شاہین آفریدی اسٹمپ ہو گئے اور یوں بنگلادیش نے 11 رنز سے میچ جیت کر سیریز 2-1 سے اپنے نام کر لی۔
پی سی بی کی جانب سے ابھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وہ میچ ریفری سے کیا کارروائی چاہتے ہیں، تاہم ذرائع کے مطابق بورڈ کم از کم اس معاملے میں باضابطہ وضاحت یا غلطی کے اعتراف کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
اس سے قبل دوسرے ون ڈے میں سلمان علی آغا کو اس وقت رن آؤٹ قرار دیا گیا تھا جب وہ گیند واپس کرنے کے لیے کریز سے باہر آئے تھے، جس پر ان کا بنگلا دیشی آل راؤنڈر مہدی حسن سے تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا تھا۔