• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ممکن ہے ہمارے بعض خوش فہم قارئین سمجھتے ہوں کہ ہم خوشامد کہ فن سے واقف نہیں یا یہ کہ ہم ارباب اختیار اور حکومت کے منظور شدہ اہل ثروت سیاستدانوں کی مدح خوانی نہیں کرنا چاہتے، حاشا و کلا ایسی کوئی بات نہیں ، ہم تو علاقے کے ڈپٹی کمشنر سے لیکر ملک کے صدر اور وزیراعظم تک کی خوشامد کرنا چاہتے ہیں کہ آخر ہماری بھی خواہشات ہیں، لیکن صحیح طور پر کر اسلئے نہیں پاتے کہ اس فن کی طرف متوجہ ذرا دیر سے ہوئے ہیں چنانچہ اس عرصے میں یہ فن ترقی کرتے کرتے کہیں کا کہیں پہنچ گیا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ہم جھجکتے جھجکتے ایک فقرہ ارباب اقتدار کی مدح میں لکھتے ہیں مگر اگلے روز کے اخبارات میں پورا پورا کالم ان کی تعریف میں چھپا ہوتا ہے ، جس سے ہماری ’ کیتی کرائی‘ پر پانی پھر جاتا ہے۔ ہم اپنے کسی ’ مڈل مین‘ کے ذریعے ارباب اقتدار کو بہت سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ جناب تعریف کی ’مقدار‘ پر نہیں ’معیار ‘ پر جائیں مگر وہ تو خوشامد کو بھی فٹوں سے ماپتے ہیں۔ ہمارا ’مڈل مین‘ انہیں یہ بھی سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ جناب! یہ شخص نیا نیا بے غیرت ہوا ہے اسلئے ذرا جھجکتے جھجکتے تعریف کرتا ہے ، اگر آپ کی نوازشوں کا سلسلہ جاری رہا تو انشاء اللّٰہ پوری طرح بے غیرت ہو جائیگا، مگر اتنی تعداد میں پلے پلائے مدح خوانوں کی موجودگی میں انہیں کسی نئے مدح خوان کو پالنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی، یعنی معاشیات کا اصول ڈیمانڈ اینڈ سپلائی خوشامدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے یہاں بھی لاگو ہونے لگا ہے۔

ہمیں ان ارباب اقتدار کی کج فہمی پر تو غصہ آتا ہی ہے، ان سے زیادہ غصہ ہمیں اپنے بعض قارئین پر بھی آتا ہے ، جن کے توصیفی خطوط نے ہمارا اور ہمارے بچوں کا مستقبل تاریک کر رکھا ہے ہمارے یہ’’اذیت پسند‘‘ قارئین ہمارے ان کالموں کو پڑھ کر بہت خوش ہوتے ہیں جن میں ہم نے ان ارباب اقتدار کے لتےلئے ہوتے ہیں ، یہ قارئین ہمارے اس جذبہ انتقام کو جذبہ حریت سمجھتے ہوئے ہم پر داد کے ڈونگرے برسانے لگتے ہیں ، جس پر ہمارا ضمیر ہمیں ملامت کرنے لگتا ہے اور ہم باقی کالم ضمیر کی آواز پر لکھنے لگتے ہیں جسکے نتیجے میں ماضی کی تمام مدح خوانی ایک بار پھر خاک میں مل جاتی ہے اور اس طرح ہمیں آئندہ ضرورت پڑنے پر ارباب اقتدار کے ہاں خوشامد کا ’’ اکاؤنٹ‘‘ نئے سرے سے کھولنا پڑتا ہے۔

اب جب کہ ہم نے اپنے پیٹ پر سے پردہ اٹھا ہی دیا ہے اپنے قارئین کو یہ بتلانے میں بھی کوئی حرج نہیں کہ ہمارے دوست اور فن خوشامد نگاری میں صاحب اسلوب ادیب، جناب رطب اللسان طومار پوری، فن خوشامد میں ہمارے خاطر خواہ کامیاب نہ ہونے کی مختلف وجوہ بتاتے ہیں، جن میں سے سرفہرست وجہ وہ ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ تم نے اپنی خواہشات بہت قلیل رکھی ہوئی ہیں، موصوف اس ضمن میں اکثر ہمارا مذاق اڑاتے ہیں کہ تمہاری جیب میں سگریٹ کی ڈبی اور آوارہ گردی کیلئے گاڑی میں چالیس لیٹر پیٹرول ہو تو تم اپنی اوقات بھول کر سب کو آنکھیں دکھانے لگتے ہو ، تم اگر فن خوشامد میں طاق ہو بھی گئے تو ارباب اختیار سے کیا مانگو گے گاڑی میں ڈلوانے کے لئے چالیس لیٹر پیٹرول اور مہنگی سگریٹ کا ایک ڈنڈا؟ چنانچہ ان کا کہنا ہے کہ بغیر لمبی چوڑی خواہشات کے خوشامدی کہلوانا گناہ بے لذت کے زمرے میں آتا ہے ، لہٰذا اس فن میں قدم رکھنے سے پہلے اپنے عزائم بلند کرو مثلا کوئی کاروبار شروع کرو لاکھوں کروڑوں کا لون لو۔

فیکٹریاں لگاؤ، ہر نئی اسکیم میں پلاٹ لو اور چوگنی قیمت پر بیچ ڈالو، پریس لگاؤ نمبر نکالو ،اخبار چلاؤ اخبار کو انڈسٹری بناؤ اگر یہ سب کچھ نہیں کر سکتے تو پھر اپنی چونچ بند رکھو کیونکہ اپنے آپ کو خوشامدی اسٹیبلیش کر کے خواہ مخواہ چھوٹے موٹے افسروں میں اپنی ’’ٹوہر‘‘ بنانے کی کوشش کرنا اس فن لطیف کے ضابطہ اخلاق کے منافی ہے۔

تاہم یہ نقطہ نظر ہمارے دوست حضرت رطب اللسان طومار پوری کا ہے، جس سے ہم کلی طور پر اتفاق نہیں کرتے، ہمارے بہت سے قریبی دوست ہم سے بھی چھوٹی چھوٹی خواہشات کی تکمیل کیلئے چھوٹے چھوٹے آستانوں پر سجدے کرتے پھرتے ہیں اور بہت خوش ہیں کیونکہ اصل چیز تو دل کی خوشی ہے جو حکام ہی سے ملتی ہے ، تاہم ہمارا ذاتی خیال یہ ہے کہ خوشامد ایک تو غیر مشروط نہیں ہونی چاہئے اور دوسرے پیشگی نہیں ہونی چاہئے۔ ہمارے کچھ دوست پیشگی خوشامد کرکے بہت ذلیل ہوئے ہیں۔ کیونکہ جب اس کا عوضانہ وصول کرنے کا وقت آیا تو حکومت بدل گئی، جس سے انہیں عوضانہ تو کیا ملتا ، النا وقتی طور پر انہیں لینے کے دینے پڑ گئے۔ وقتی طور پر ہم نے اس لئے کہا کہ تجدید خوشامد میں کچھ وقت تو بہرحال لگتا ہے۔ کچھ اس قسم کا معاملہ غیر مشروط خوشامد کا بھی ہے خوشامد میں اتنی گنجائش ضرور ہونی چاہئے کہ انسان بوقت ضرورت بیک آؤٹ کر سکے ، یعنی جب چاہے مجلس شوری کا رکن بن جائے ، جب چاہے مجلس شوری کو گالی دینے لگے ، جب چاہے اقتدار میں آجائے اور اقتدار سے رخصت ہوتے ہی صاحبان اقتدار بلکہ ملک تک کو گالیاں دینا شروع کر دے ، تاہم ہمارے بیشتر خوشامدی دوست ہماری اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے کہ ان کا کہنا ہے گداگر انتخاب کرنے کا حق نہیں رکھتے ، چنانچہ انہیں خوشامد بھی دوسروں کی شرائط پر کرنا پڑتی ہے۔ بہر حال یہ ساری باتیں ’’ فروعی‘‘ نوعیت کی ہیں بنیادی چیز خوشامد کرنا ہے، ہم نے اس سلسلے میں ڈرتے ڈرتے اپنی چند آرا دی ہیں ، جن کی حقانیت کا ہم دعویٰ نہیں کرتے کیونکہ ابھی ہم اس پوزیشن میں نہیں ، ہماری حیثیت فی الحال ایک زیر تربیت خوشامدی کی ہے ، چنانچہ اس سلسلے میں ہماری رائے کی بجائے اس ضمن کے اساتذہ کی رائے کو حتمی سمجھنا چاہئے کہ ہم نے جو کچھ سیکھا ہے ، انہیں سے سیکھا ہے ، ہم تو ان کی خاک پا بھی نہیں ہیں۔

تازہ ترین