دہائیوں سے بے نور وطنی آنکھیں، شدت اور اضطراب کیساتھ دیدہ ور کی متلاشی ہیں ۔ ہزاروں برس کی بے نوری پر تو رونا کام آگیا، پیر و مرشدکی دعائیں، مناجاتیں، فریادیں اللّٰہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوئیں ، علامہ اقبال کی زندگی کے آخری سال میں دیدہ ور قائداعظم کی دھاک بیٹھ چکی تھی ۔ عظیم قائدکی بصیرت ، عزم ، قیادت کے جوہر پوری طرح عیاںہو چکے تو پیر و مرشد نے اطمینان کیساتھ آنکھیں موند لیں۔
علامہ اقبال کا خط نمبر 8بنام قائداعظم جو انہوں نے اپنی وفات سے چند ہفتے قبل تحریر کیا، میں پیر و مرشد کا اطمینان ثبت تھا ۔قائداعظم کی نظریاتی طور پر واضح، یکسو اور غیر متزلزل قیادت نے بالآخر برصغیر کے مسلمانوں کو ایک نظریہ، ایک قوم اور ایک وطن عطا کر کے تاریخِ انسانی میں ایسا محیرالعقول باب رقم کیا کہ 14 اگست 1947ء سے بہت پہلے مسلم قومیتی نظریہ اپنی برتری منوا چکا تھا ۔ کئی سال پہلے ہی کانگریس اور برطانوی مقتدرہ سنجیدہ گفت و شنید اور مذاکرات کیلئے قائداعظم کے محتاج بن چکے تھے۔ کیا مفلوک الحال پاکستانی قوم کا بھی نصیب جاگے گا؟
کیا فہم و فراست، صداقت، دیانت، حق کی قیادت ایک بار پھر نصیب بنے گی؟ اے میری قوم! خاطر جمع رکھیں، آج کی سیاسی قیادت دور دور تک فہم و فراست، اخلاص، صداقت، دیانت اور حق سے خالی ہے مگر مایوسی کفر ہے۔ اور برادر اسلامی ملک ترکی کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں فوج نے ملک فتح کیا اور اپنے آپکو آئین کا جزوِلاینفک حصہ سمجھا ۔ رجب طیب اردوان کا ظہور ، ترکی کی تاریخ کا غیرمعمولی واقعہ ہے۔ خلافت سے سیکولرازم تک، اور پھر مذہبی احیا تک ، اتاترک سے اردوان تک، ناقابل یقین سفر ہے۔ پہلی جنگِ عظیم (1918-1914ء) میں سلطنتِ عثمانیہ کی شکست کے بعد ، اکتوبر 1918ء میں معاہدہ مدروس کے نتیجے میں استنبول اتحادی طاقتوں کے قبضے میں چلا گیا ۔ معاہدہ سیورے (1920) نے عملاً عثمانی خودمختاری کو پارہ پارہ کردیا تھا۔
اسی تناظر میں 1919ء سے 1923ء کے درمیان مصطفیٰ کمال نے جنگِ آزادی میں ترک افواج کی قیادت کی، یونانی افواج کو شکست دی اور آزادی کا بھرم برقرار رکھا ۔ اتاترک بے پناہ طاقتور ہوا تو بہ یک جنبش قلم فوجی طاقت سے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ 29اکتوبر 1923ء کو جمہوریہ کا اعلان کیا اور مارچ 1924ء میں خلافت کو باضابطہ طور پر ختم کر ڈالا۔ تقریباً آٹھ دہائیوں (2000-1923ء) تک ترکیہ ایک کمالسٹ سیکولر اور لبرل نظام کے تحت چلتا رہا، جہاں فوج ریاست کی کلی اور حتمی محافظ تھی۔ سیاست میں براہِ راست مداخلت کا آئینی حق رکھتی تھی۔ جب چاہتی قابض ہو جاتی، مارشل لا، ہائبرڈ نظام، پس پردہ سیاسی و انتظامی معاملات کنٹرول کرنا معمول رہا۔ مضبوط قومی حصار اور منجمد ڈھانچے کے اندر طیب اردوان کا سیاسی سفر 1970ء کی دہائی میں طالب علمانہ سرگرمیوں سے شروع ہوا اور نجم الدین اربکان کی اسلامی تحریک میں پروان چڑھا ۔ اردوان 1994ء سے 1998ء میں میئر بنے اور بطور قومی لیڈر شناخت ملی۔
1997ء کی فوجی مداخلت اور اسلامی جماعتوں پر پابندی کے بعد ، اردوان نے کمال ہوشیاری سے 2001ء میں نئی جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (AKP) کی بنیاد رکھی، جس میں سیاسی اسلام اورقدامت پسند جمہوریت کےحسین امتزاج کےعوامی نعرے کو بے پناہ مقبولیت ملی اور اقتدار تک رسائی ملی ۔اگرچہ AKP نومبر 2002ء میں اقتدار میں آئی ، مگر اردوان مارچ 2003ء میں وزیرِاعظم بنے تو سول ملٹری تناؤ اور فوجی قیادت کا سیاستدانوں سے تحقیر آمیز سلوک اپنے عروج پر تھا ۔ فہم و فراست سے مالا مال اردوان نے کمال مہارت سے عسکری قیادت کی سنگینیوں کو خندہ پیشانی سے جھیلا، معاملات کو فہم و فراست سے آگے بڑھایا ۔ 2007ء کے صدارتی بحران،یورپی یونین سے جڑی قانونی اصلاحات ، اور 2010ء کے آئینی ریفرنڈم کو ڈھال بنا کر فوج کے آئینی کردار کو فوج کو آن بورڈ رکھ کر بتدریج کمزور کیا۔
آئین میں فوج کا کردار ختم کیا اور مکمل سول بالادستی حاصل کر لی۔2016ء میں فوج اور ایئرفورس نے جب منظم بغاوت کی تو اسکو عوام الناس کی مدد سے کچل ڈالا ۔ 80برس پر محیط فوجی سرپرستی کے دور کی مکمل بیخ کنی کرنا ، آگ کا دریا عبور کرنا تھا ، سویلین خودمختاری پر فوجی اثر و رسوخ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ۔ 2000ء کا ترکی ، سیاسی ابتری، معاشی بدحالی ، افراط و تفریط کی گرفت میں ، ڈیفالٹ کے دہانے پر تھا ، اور 2025ء کا ترکی بین الاقوامی طاقت بن چکا ہے ، 25سال بعد معاشی اور جغرافیائی سیاسی عروج پر ہے۔2001ء میں ترکی جانا ہوا ، تنور کی ایک روٹی ترکی میں اس وقت 100روپے کی ملتی تھی جب پاکستان میں فقط 2روپے کی تھی جبکہ ترکی میں فی کس آمدن پاکستان سے 8 گنا تھی اور اشیائے خوردنوش کی مہنگائی 45گنا تھی۔
2000 ءسے 2025 ءکے درمیان ترکیہ کی مجموعی قومی پیداوار تقریباً 274 ارب ڈالر سے بڑھ کر آج 1.6 کھرب ڈالر تک جا پہنچی ہے ۔ جبکہ فی کس آمدن قریب 2000ڈالر سے بڑھ کر18000 ڈالر کے لگ بھگ ہو گئی ۔ آج ترکیہ مشرقِ وسطیٰ، یوریشیا اور مشرقی بحیرہِ روم ، جنوبی افریقہ میں ایک مؤثر علاقائی طاقت بنکر اُبھرا ہے ۔ ترکی کا سفر’ مریضِ یورپ‘ کی خلافت سے، اتاترک کے سخت سیکولر قوم پرستانہ تجربے تک ، اور وہاں سے نئی مذہبی شناخت، نئی معاشی طاقت اورنئی عسکری خودمختاری کے احیا تک پھیلے سفر میں کسمپرسی اور برتری میں فرق صرف کمالسٹ نظریہ اور رجب طیب اردوان اسلامسٹ ڈاکٹرائن ہی تو ہے ۔
آج سے ایک دہائی پہلے اپنے کالموں میں صدر اردوان، صدر پیوٹن اور صدر شی جن پنگ کو بالترتیب اپنے اپنے ملک ترکی، روس اور چین کا بلاشرکت غیرے عظیم ترین رہنما بتایاتھا ۔ وقت نے ثابت کر دیا کہ ان تینوں رہنماؤں نے اپنے اپنے ملک کو خطہ ارضی میں آج غیرمعمولی مقام پر پہنچا دیاہے ۔ وطنِ عزیز اگرچہ ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف، عمران خان جیسے مقبولیت سے مالامال رہنماؤں سے مستفید ہو چکا ہے۔ علاوہ ازیں چند ایک خودفریبی میں لدے پھندے مسیحا فوجی ڈکٹیٹر بھی نصیب بنے مگر کوئی ایک ہوتا جو کہ عظیم قائد کے پیر کی خاک بھی نہ بن پاتا، طیب اردوان کا عشر عشیر ہوتا ۔ آج بھی میری قوم اندھا دھند انہی تیل کے بغیر چراغوں کو جلانا چاہتی ہے اور روشنی کی متمنی ہے ۔ خاطر جمع رکھیں!
ان تِلوں کا تیل نکلا بھی تو نہ چراغ جلاپائیگا اورنہ ہی چراغ روشنی دے پائیں گے۔ قائداعظم کی ذہانت، فطانت، فہم و فراست، صداقت و امانت کہاں سے لائیں؟
آج کے قائدین ایسے اوصاف سے کوسوںدور ہیں۔ ایک ممکنہ کام جو ہمارے قومی رہنما کر سکتے تھے کہ ایک دوسرے کیخلاف جھوٹ ، فریب ، ریاکاری کا سہارا نہ لیتے اور اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات کا تابع بناتے ۔ قومی یکسوئی ، یگانگت ، اتفاق پیدا کرتے تاکہ مملکت کےجغرافیہ کو صحیح سلامت اگلی نسل تک منتقل کر جاتے ۔ دیدہ ور تو ضرور آئے گا۔ میری زندگی میں نہ سہی آج کی جنریشن زی( نوجوان نسل ) کو ضرور ایک دن ایسی قیادت ملے گی اور آج یقیناً انکے درمیان پروان چڑھ رہی ہوگی، قربانیوں سے وجود پانے والی مملکت نے (انشاء اللّٰہ ) بالآخر سرخرو ہونا ہی ہے۔