بالی ووڈ کی پروپیگنڈا فلم ’دھریندر‘ میں کراچی کے علاقے لیاری کی منظر کشی نے دونوں ممالک میں ایک زبردست بحث چھیڑ دی ہے۔
اس فلم میں بھارتی اداکار رنویر سنگھ ایک بھارتی جاسوس کا کردار ادا کرتے نظر آ رہے ہیں۔
آدتیہ دھر کی ہدایت کاری میں بننے والی ساڑھے 3 گھنٹے کے طویل دورانیے کی اس فلم میں 1999ء کے طیارہ ہائی جیکنگ، 2001ء کے پارلیمنٹ حملے اور 2008ء کے ممبئی حملوں سمیت حقیقی واقعات کو ایک خیالی اور منفی انداز میں پیش کیا گیا جہاں ایک بھارتی جاسوس کو ہیرو دکھایا گیا۔
اس فلم میں لیاری کو بھارت کے اندرونی مسائل سے جوڑنے کی کوشش بھی کی گئی جس کی وجہ سے اس فلم پر عالمی سطح پر شدید تنقید ہو رہی ہے جبکہ بھارت میں بھی اس کے خلاف آوازیں بلند ہونے لگی ہیں۔
تاہم اب بھارت میں کچھ فلمی ناقدین کو فلم ’دھریندر‘ پر تنقید کرنے کی وجہ سے آن لائن ہراسانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یہ تنازع اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کے درمیان تناؤ کو بھارتی فلم انڈسٹری صرف اپنے زاویے سے پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے سابق وزیر اعظم شہید بےنظیر بھٹو کی تصویر کے غیر مجاز استعمال اور پارٹی رہنماؤں کو دہشت گردوں کے ہمدرد کے طور پر دکھانے پر گزشتہ ماہ کراچی کی ایک عدالت میں بھارتی فلم ’دھریندر‘ کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی تھی۔