پیر صاحب پگاڑا شریف بڑے ہی جہاندیدہ اور باغ و بہار شخصیت تھے اللّٰہ بخشے انکی حسِ مزاح بہت تیزتھی میرے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ ٹام اینڈ جیری نامی کارٹون بہت شوق سے دیکھتے ہیں یہ کارٹون 1940ء میں شروع ہوئے ولیم حنا نامی مصنف نے اس میںکامیڈی، چھوٹے ڈائیلاگ اور ٹام نامی بلّی اور جیری نامی چوہے کے درمیان ختم نہ ہونے والی مہم دکھائی تھی ٹام نامی بلّی تفاخر، ضد اور طاقت کا استعارہ تھی تو جیری نامی چوہا ذہانت، شرارت اور ہوشیاری کی علامت تھا۔ پیر پگاڑا شاید ٹام اینڈ جیری کے مقابلے کو پاکستان کی سیاست میں سیاست اور طاقت کے مقابلے سے تعبیر کرتے تھے بلّی طاقت کے نشے میں چوہے کو پکڑنے کیلئے پلان بناتی ہے اور چوہا اپنی ذہانت سے بلی سے بچتا رہتا ہے۔ پاکستان کی سیاست میں پچھلے 70سال بلّی چوہے کا کھیل ہی تو جاری رہا اہل سیاست اور اہل طاقت کی زور آزمائی میں کمزور سیاسی چوہے ہمیشہ سے بلّی کا نشانہ بنتے رہے۔ دیکھنا یہ ہے کیا بلّی چوہے کا یہ کھیل اب بھی جاری ہے یاپھر بلّی اور چوہے کی ایسی دوستی ہوگئی ہےجسے محاورتاً کہا جاتا ہے کہ اب شیر اور بکری ایک ہی جگہ سے پانی پینےلگے ہیں۔
پیر پگاڑا مہنگے سگار، قیمتی گھڑی، شاندار گھوڑے اور منفرد لباس کے علاوہ علم نجوم کا بھی شوق رکھتے تھے وہ دوستوں، دشمنوں حتیٰ کہ اپنے گھوڑوں کی کنڈلی یا جنم پتری نکلوایا کرتے تھے اور پھر کسی کی جیت یا ہار یا حکومت کے رہنے یا جانے کی پیش گوئی کیا کرتے تھے۔ موجودہ حکومت میں ٹام اور جیری کی مقابلہ بازی نہیں یہ تو ہائبرڈ حکومت ہے جو بقول وزیر دفاع خواجہ آصف مقتدرہ اور فوج کے باہمی اشتراک و تعاون سے چل رہی ہے اسلئے نہ کبھی اس حکومت نے ختم ہونا ہےاور نہ کبھی جانا ہے جب تک دنیا ہے یہی حکومت قائم رہے گی فی الحال علم نجوم کی کتابیں بند ہیں ستارہ شناس ملک چھوڑ گئے افسانوں اور کہانیوں کی تردید ہو چکی ہے انصار عباسی جیسے معتبر گواہ اور تحقیقی ایڈیٹر اگر ’’متعلقہ ذرائع‘‘ سے خبردے رہے ہیں کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فوجی سربراہ میں سب بہترین چل رہا ہے تو میرے جیسے سند یافتہ جھوٹے اور من گھڑت صحافی کی کیا مجال کہ ذرا برابر بھی ان پر شک کروں۔اصل مسئلہ حکومت کے جانے یا ونڈر بوائے کا آنے کا نہیں مسئلہ شہباز شریف کی سونے جیسی حکومت کو ہیرے جیسی حکومت سے تبدیل کرنے کا بھی ہرگزنہیں، مسئلہ بیانیے اور ڈیلیوری کا بھی نہیں اصل مسئلہ بلّی اور چوہے کے چلتے کھیل کا ہے یہ کارٹون بنا تو امریکہ میں تھا مگر اس کا عملی اطلاق تضادستان میں ہی ہوتا آیا ہے۔ بلّی اور چوہے کا ہائبرڈ کہنے کو تو بڑا مضبوط ہے مگرماضی کی مثالوں کو سامنے رکھا جائے تو یہ چلتا نہیں ہے اس لیے ’’گنہگار‘‘ اس نظام کی پائیداری پر سوال اٹھاتے ہیں دوسری طرف’’ پارسا‘‘ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس بار کا نظام بہت پائیدار ہے اب پارساؤں کو جھٹلانے کی طاقت کس میں ہے؟
جناب انصار عباسی سے میرا برسوں پرانا تعلق ہے امریکہ کے ایک طویل مطالعاتی دورے میں ہم روم میٹ بھی رہے وُہ متقی اور پرہیزگار ہیں اصولی اختلافات کے باوجود ان سےباہمی احترام کا رشتہ ہے وُہ صحافت کے مفتی اعظم ہیں ہر معاملے کو مذہب کی عینک سے دیکھتے ہیں جبکہ میں عامی احقر ہوں اس لئے انکے کہے کو رد نہیں کر سکتا ان سے میرا کیا مقابلہ، وہ صفحہ اول کے جلّی شہ سرخیوں والے نامور صحافی اور میں اندر کے صفحات میں شائع ہونیوالا گم نام قلم گھسیٹیا، ان کے ذرائع معتبر، مصدقہ اور متعلقہ جبکہ اس فقیر کے ذرائع غیرمعتبر، غیر مصدقہ اور غیر متعلقہ ہیں وہ اسلام آباد جیسے طاقتوروں کے شہر کے رہائشی ہیں انکی ہر بات اور دلیل میں طاقت ہوتی ہے میں لاہور جیسے مضافاتی شہر کا ایک کمزور جس کی ہر بات میں افسانہ فسوں اور جھوٹ ہوتا ہے۔ انصار عباسی کے اس اعلیٰ ترین مرتبے پر فائز ہونے کے باوجود یہ پرتقصیر یہ ماننے کو تیار نہیں کہ بلّی چوہے کا کھیل مکمل بند ہو چکا ہے پیر پگاڑا کے دور میں یہ کھلے عام ہوتا تھا اور اب یہ بند دروازوں کے پیچھے جاری ہے۔ کارٹون کی دنیا میں تو چوہا جیری کبھی بلّی ٹام کے ہاتھ نہیں آتا ہمیشہ طرح دے جاتا ہے لیکن حقیقت کی دنیا میں اکثر بلّی چوہے کا شکار کر کے اسے کھا لیتی ہے۔
میرے دوست انصار عباسی ہوں یا معتبر، طاقتوراورمتعلقہ حلقے سب سرکاری دعوی کرتے ہیں کہ یہ نظام بہترین طریقے سے چل رہا ہے نہ کوئی اس نظام کاظاہری مخالف ہے اور نہ اندر سےہی اسے کوئی مسئلہ ہے افواہوں، سازشوں اور منصوبوںکےافشا کو چھوڑیں کہ وہ تو کہیں نہ کہیں سے ہاتھ آہی جاتےہیں ،مگرتلخ حقائق بیانیے کے نہ ہونے، ڈیلیوری آہستہ ہونے اور معیشت میں بہتری نہ ہونے کی علانیہ کہانی سنا رہے ہیں ہائبرڈ میں مقتدرہ اور سول دونوں شریک کار ہیں اگر بیانیہ نہیں بن پا رہا، ڈیلیوری نہیں ہو رہی یا معیشت کے حوالے سے نہ برآمدات بڑھ رہی ہیں نہ غیر ملکی سرمایہ کاری آ رہی ہے تو اس کی ذمہ دار سیاسی حکومت ٹھہرے گی یا کوئی اور؟
صحافتی تجربہ تو یہی بتاتا ہے کہ اگر نون، پیپل اور مقتدرہ کی مشترکہ عمارت میں سے ایک اینٹ بھی نکلی تو نظام کی عمارت دھڑام سے آگرے گی ۔ماضی میں جونیجو کی فراغت اورق لیگ کی چھٹی سےسارا نظام گرگیاتھا۔ اگر اس تکونی عمارت نے محفوظ رہنا ہے تو تینوں کو مل جل کر گزارا کرنا ہوگا۔ تضادستان کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ طاقتور اور کمزور کے اتحاد میں غلطی،خامی اور ہر برائی کمزور کے کھاتے میں پڑتی ہے اور ہر فتح اور کامیابی کا کریڈٹ طاقتور کو ملتا ہے۔طاقت ہمیشہ غالب رہنے کی کوشش کرتی ہے اب بھی بلّی طاقتور ہے اور چوہا اِدھر ادھر بھاگا پھر رہا ہے تا کہ جان بچ جائے ۔
پیر پگاڑا اور ضیاء الحق حلیف بھی تھے اور کئی حوالوں سے حریف بھی۔ پیر صاحب فوج کی طاقت کو تسلیم کرتے تھے اسلئے ہمیشہ فوج کے اتحادی رہے۔ جنرل ضیاء الحق سے ان کا تعلق خاطر بھی تھا اور انہیں جنرل صاحب کی طاقت اور ذہانت دونوں کا اندازہ تھا اسلئے وہ ہنسی مذاق میں بلّی چوہے کا کھیل جاری رکھتے تھے۔ آج کل ہمارے دوست بلّی اورچوہے کے دوستانہ تعلقات کا احوال سناتے نہیں تھکتے۔ مگر کہاوت ہے کہ پرانی عادتیں مشکل سے چھٹتی ہیں بلّی اور چوہے لاکھ چاہیں کہ ان کی مخاصمت ختم ہو جائے ایک ان دونوں کی جبلّت اور پھردونوں طرف کے خوشامدی اوروفادارانہیں لڑا کر ہی چھوڑتے ہیں۔
پیرپگاڑا کی آخری اور پوشیدہ خواہش صدر پاکستان بن کر برطانیہ کا سرکاری دورہ کرنا تھاتاکہ ملکہ برطانیہ ان کا استقبال کرے۔ وہ شاید اس طرح برطانیہ میں اپنے زمانہ طالب علمی میںیرغمال رہنے کا نفسیاتی مداواکرنا چاہتے تھے۔ مگر وہ صدر پاکستان بن کرتو برطانیہ نہ جاسکے مگر آخری بیماری انہیں ایئر ایمبولینس میں لندن لے گئی۔ ہو سکتا ہے اس دنیا سے جاتے جاتے انہوں نے برطانیہ کی فضا میں ہی اپنانفسیاتی مداوا کر لیا ہو اور اسی آزاد لمحےمیں انکی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ہو۔ پیر پگاڑا تو چلے گئے مگر بلّی چوہے کاکارٹون اب بھی جاری ہے ونڈربوائے کو 78سال سے تلاش کیا جارہا ہے اب بھی آئیڈیل کی تلاش جاری ہے ۔ پی ایچ ڈی کابینہ جس کسی کا خواب ہے وہی اس خواب کی تعبیر جانے۔ میری دعا ہے کہ شہباز شریف تاقیامت وزیراعظم رہیں مگر اندیشہ لگا ہوا ہے کہ کہیں قیامت وقت سے بہت پہلے نہ آجائے……