• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان اس وقت ایک ایسے شدید آبی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے جو نہ وقتی ہے، نہ موسمی اور نہ ہی محض سیاسی نعرہ بازی کا نتیجہ۔ یہ بحران بتدریج قومی سلامتی، غذائی تحفظ اور معاشی استحکام کیلئےسنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں بھارت کی جانب سے دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ کو محدود کرنے اور سندھ طاس معاہدے پر نظرِ ثانی یا اسے منسوخ کرنے سے متعلق بیانات نے ایک بار پھر اس خدشے کو تقویت دی ہے کہ جنوبی ایشیا میں پانی کو مستقبل میں ایک اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ موقع جذباتی نعروں کا نہیں بلکہ ٹھنڈے دل سے حقیقت پسندانہ تجزیے اور سنجیدہ داخلی اصلاحات کا تقاضا کرتا ہے۔

چناب: وجہ نہیں، ایک وارننگ

دریائے چناب، جو پنجاب کے زرعی اور آبی نظام کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، حالیہ عرصے میں اس وقت خبروں میں آیا جب بھارت نے بالائی علاقوں میں اپنے آبی منصوبوں کے تحت پانی کے بہاؤ کو منظم کیا۔ بھارت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات سندھ طاس معاہدے کے دائرہ کار میں ہیں کیونکہ معاہدہ مغربی دریاؤں پر محدود اور غیر مصرفی استعمال کی اجازت دیتا ہے۔ قانونی طور پر ممکن ہے کہ بھارت نے معاہدے کی صریح خلاف ورزی نہ کی ہو، مگر سیاسی اور اسٹریٹجک سطح پر پیغام بالکل واضح ہے۔

2016 ءکے بعد، اور خصوصاً مئی 2025ءکی جنگ کے بعد، بھارتی قیادت اور پالیسی حلقوں کی جانب سے بارہا یہ اشارے دیے گئے کہ سندھ طاس معاہدے کو دوبارہ دیکھا یا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ معاہدہ باضابطہ طور پر منسوخ نہیں ہوا، تاہم پانی کے بہاؤ کو سفارتی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنا اب ایک عملی حقیقت بنتا جا رہا ہے۔ چناب میں پیش آنے والا واقعہ دراصل پاکستان کے پورے آبی نظام کا ایک اسٹریس ٹیسٹ ہے۔

کیا بھارت معاہدہ ختم کر سکتا ہے؟ حقیقت اور بیانیہ

1960 ءمیں عالمی بینک کی ثالثی سے طے پانیوالا سندھ طاس معاہدہ جنگوں، بحرانوں اور حکومتوں کی تبدیلیوں کے باوجود قائم رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اس کی قانونی مضبوطی اور بین الاقوامی ضمانتیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کیلئے اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کرنا آسان نہیں۔ تاہم ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ معاہدے کے اندر رہتے ہوئے، زیادہ سے زیادہ پانی استعمال کر کے اور منصوبوں کی رفتار تیز کر کے، خاص طور پر خشک موسم میں، پاکستان پر عملی دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔ یوں اصل مسئلہ بھارت نہیں بلکہ پاکستان کی اپنی اندرونی کمزوریاں ہیں۔

پاکستان کا آبی بحران: اندرونی ناکامیوں کی کہانی

ہر مسئلے کو بیرونی سازش قرار دینا سیاسی طور پر تو آسان ہے، مگر فکری دیانت کیخلاف ہے۔ آج پاکستان دنیا کے شدید آبی دباؤ والے ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔ فی کس پانی کی دستیابی ایک ہزار مکعب میٹر سے بھی کم ہو چکی ہے اور ہم تیزی سے مکمل آبی قلت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس بحران کی چند بنیادی وجوہات واضح ہیں۔ذخائر کی شدید کمی:پاکستان اوسطاً صرف 30دن کا پانی ذخیرہ کر سکتا ہے، جبکہ بھارت 200دن سے زائد۔ نتیجتاً سیلاب کا پانی ضائع ہو جاتا ہے اور خشک سالی جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔زرعی بدانتظامی:پاکستان کا تقریباً 90فیصد پانی زراعت میں استعمال ہوتا ہے، وہ بھی فرسودہ فلڈ اریگیشن نظام اور شوگرکین و چاول جیسی پانی خور فصلوں پر۔زیرِ زمین پانی کی بے لگام لوٹ مار: پاکستان دنیا کے بڑے گراؤنڈ واٹر استعمال کنندگان میں شامل ہے، مگر اسکے باوجود کوئی مؤثر ریگولیٹری نظام موجود نہیں۔ مفت یا انتہائی سستی سولر بجلی کے باعث اکثر ٹیوب ویل بلا ضرورت طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک چلتے رہتے ہیں، جس سے زیرِ زمین آبی ذخائر خطرناک حد تک تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ اصل ضرورت مفت بجلی نہیں بلکہ سستی مگر قابلِ پیمائش بجلی ہے، تاکہ پانی کا استعمال صرف ضرورت کے مطابق ہو۔شہری ضیاع:لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں 30 سے 40 فیصد پانی لیکیج کی نذر ہو جاتا ہے۔ گاڑیاں اور فرش دھونے میں پانی کا بے دریغ استعمال ایک معمول بن چکا ہے، جسے روکنے کیلئے مؤثر ضابطہ کاری ناگزیر ہے۔کالاباغ ڈیم: سیاست نے ایک نسل ضائع کر دی۔کالاباغ ڈیم تکنیکی لحاظ سے ممکن مگر سیاسی اعتبار سے ناممکن منصوبہ بن چکا ہے۔ سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے خدشات اس حد تک جڑ پکڑ چکے ہیں کہ قومی اتفاقِ رائے ممکن نہیں رہا۔ یوں کالاباغ اب کسی حل کے بجائے سیاسی عدم اعتماد کی علامت بن چکا ہے۔

آگے کا راستہ: قابلِ عمل حل

چناب کا واقعہ واضح کر چکا ہے کہ مزید تاخیر خودکشی کے مترادف ہے۔ دیامر بھاشا اور داسو جیسے بڑے منصوبوں کو جنگی بنیادوں پر مکمل کرنا ہوگا۔ تربیلا اور منگلا کی ڈی سلٹنگ ناگزیر ہے، جبکہ پہاڑی علاقوں میں چھوٹے ڈیم بنا کر بارشی پانی ذخیرہ کرنا ہوگا۔ اسی طرح آبی کھالوں کی بہتری انتہائی ضروری ہے۔ ماضی میں واٹر کورسز امپروومنٹ پروگرام کے تحت تقریباً دو ملین ایکڑ فٹ پانی بچایا گیا، مگر آج بھی آبپاشی نظام کا بڑا حصہ کچی کھالوں پر مشتمل ہے۔

روایتی فلڈ اریگیشن سے ڈرِپ اور اسپرنکلر نظام کی طرف منتقلی سے فی ایکڑ زمین 40 سے 70 فیصد تک پانی بچایا جا سکتا ہے۔ اگر یہ نظام وسیع پیمانے پر اپنایا جائے تو پاکستان کی آبی ضروریات موجودہ سطحی اور زیرِ زمین ذخائر سے پوری کی جا سکتی ہیں۔

بارش اور سیلابی پانی کے ریچارج کنویں

ریچارج واٹر ویلز ایک فوری، کم لاگت اور مؤثر پالیسی حل ہیں، جو بارش اور سیلابی پانی زمین کے اندر منتقل کر کے زیرِ زمین آبی ذخائر کو دوبارہ بھر دیتے ہیں۔ یہ شہری سیلاب میں کمی، خشک سالی سے تحفظ اور ٹیوب ویل کے پانی کو پائیدار بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہاؤسنگ اسکیموں، شہری منصوبوں اور زرعی علاقوں میں فلٹریشن اور باقاعدہ نگرانی کے ساتھ ریچارج کنوؤں کو لازمی قرار دینا وقت کی ضرورت ہے۔

نتیجہ

چناب میں پانی کی کمی اور سندھ طاس معاہدے پر بھارتی بیانات اصل مسئلہ نہیں بلکہ ہماری اندرونی کمزوریوں کا آئینہ ہیں۔ پاکستان کو زیادہ ذخیرہ، کم ضیاع، بہتر کاشت، سخت ریگولیشن اور پانی کو قومی اثاثہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ پانی کی جنگیں پہلے سرحد پر نہیں، گھر کے اندر ہاری جاتی ہیں۔

تازہ ترین