فوٹوز اینڈ ویڈیوز شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام کے 1 کروڑ 75 لاکھ (17 ملین) صارفین کا ڈیٹا لیک ہوگیا، صارفین کی ذاتی معلومات ڈارک ویب پر شیئر کردی گیئں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسٹاگرام صارفین کے ڈیٹا لیک سے صارفین کی پرائیویسی اور پلیٹ فارم کی سیکیورٹی سے متعلق سنگین خدشات جنم لے رہے ہیں۔
سائبر سیکیورٹی فرم مالویئر بائٹس کے مطابق لیک ہونے والے ڈیٹا سیٹ میں صارفین کے یوزر نیم، مکمل نام، ای میل، فون نمبرز، جزوی رہائشی پتہ اور دیگر رابطہ معلومات شامل ہیں۔
اگرچہ اس ڈیٹا میں پاس ورڈز شامل نہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معلومات شناخت کی چوری (آئیڈنٹیٹی تھیفٹ) یا مالی فراڈ کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔ اسی کے پیشِ نظر ماہرین احتیاطاً صارفین کو پاس ورڈز تبدیلی کا مشورہ دے رہے ہیں۔
سائبر سیکیورٹی پبلکیشنز سائبر انسائیڈر کے مطابق اس ڈیٹا لیک کا سراغ انسٹاگرام کے اے پی آئی میں 2024 میں سامنے آنے والی ایک کمزوری سے ملتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ہیکرز نے میٹا کی معیاری حفاظتی تدابیر کو بائی پاس کرتے ہوئے حساس ڈیٹا حاصل کیا جس کے بعد ’سولونک‘ نامی ایک تھریٹ ایکٹر نے رواں ہفتے کے آغاز میں بریچ فورمز پر یہ ریکارڈز مفت میں شائع کر دیے۔
ماہرین نے بتایا کہ اتنے بڑے پیمانے پر ڈیٹا لیک ہونے سے فِشنگ مہمات (phishing campaigns) اور ٹارگٹ فراڈ کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔
ڈیٹا لیک کے بعد مختلف خطوں میں صارفین نے غیر معمولی تعداد میں پاس ورڈ ری سیٹ ای میلز موصول ہونے کی اطلاع دی، جس سے اکاؤنٹس کے متاثر ہونے کے خدشات مزید بڑھ گئے۔
دوسری جانب انسٹاگرام کی مالک امریکی کمپنی میٹا نے ڈیٹا لیک کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پاس ورڈ ری سیٹ ای میل موصول ہونا لازمی طور پر ہیک ہونے کی علامت نہیں، مگر سائبر سیکیورٹی ماہرین صارفین کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق لیک ہونے والا ڈیٹا دنیا بھر کے انسٹاگرام اکاؤنٹس کو متاثر کرتا ہے، جن میں عام صارفین کے ساتھ ساتھ انفلوئنسر پروفائلز بھی شامل ہیں۔