• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشرقِ وسطیٰ میں ڈی سیلینیشن پلانٹس پر حملوں سے خلیجی شہر خالی ہونے کا خطرہ

—اے آئی تصویر
—اے آئی تصویر

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتِ حال ایک نئے خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے، فوجی فضائی اڈوں اور جوہرہ تنصیبات کے بعد اب پانی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر سمندر کے پانی کو پینے کے قابل بنانے والے ڈی سیلینیشن پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا تو خلیجی ممالک کے بڑے شہر چند ہی دنوں میں پانی کے شدید بحران کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے قشم جزیرے پر ایک ایرانی پلانٹ پر فضائی حملہ کیا جو 30 دیہاتوں کو پانی فراہم کرتا تھا، بعدازاں گزشتہ ہفتے کے آخر میں بحرین نے ایران پر ایک اہم ڈی سیلینیشن پلانٹ پر ڈرون حملے کا الزام عائد کیا ہے۔

بحرین کی وزارتِ داخلہ کے مطابق ایرانی جارحیت نے اندھا دھند شہری اہداف پر بمباری کی جس سے 8 مارچ کو ایک پلانٹ کو نقصان پہنچا۔

اگرچہ فی الحال پانی کی فراہمی مستحکم ہے، لیکن اس واقعے نے خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔

ایران کے وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے اس دعوے کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے ایک امریکی حملے نے ایرانی پلانٹ کو نشانہ بنایا جس سے 30 دیہات متاثر ہوئے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر خبردار کیا کہ یہ مثال امریکا نے قائم کی ہے، ایران نے نہیں، ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ ایک خطرناک قدم ہے جس کے سنگین نتائج ہوں گے۔

خلیجی ممالک جیسے کویت اور سعودی عرب اپنی پینے کے پانی کی 90 فیصد تک فراہمی ڈی سیلینیشن کے ذریعے حاصل کرتے ہیں، اس تنازع سے خطے کو ممکنہ نقصان تباہ کن ہو سکتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی بڑے کمپلیکس کو صرف ایک کامیاب حملے میں بھی شدید نقصان پہنچ جائے تو چند ہی دنوں میں پورے شہروں کو خالی کرانے کی نوبت آ سکتی ہے۔

پانی کی معیشت کی ماہرین کے مطابق جو بھی پانی کے نظام کو نشانہ بنائے گا، وہ ایسی پانی کی جنگ چھیڑ سکتا ہے جو موجودہ جنگ سے بھی زیادہ تباہ کن ہو سکتی ہے۔

پانی کی تنصیبات کیوں اتنی اہم ہیں؟

خلیجی خطہ دنیا کے خشک ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں قدرتی میٹھے پانی کے ذخائر نہایت محدود ہیں، اسی وجہ سے یہاں کے ممالک اپنی زیادہ تر پینے کے پانی کی ضرورت سمندر کے پانی کو صاف کر کے پوری کرتے ہیں۔

کویت تقریباً 90 فیصد پینے کا پانی ڈی سیلینیشن کرتا ہے، عمان تقریباً 86 فیصد، سعودی عرب تقریباً 70 فیصد، متحدہ عرب امارات تقریباً 42 فیصد پانی سمندری پانی کو میٹھا کر کے حاصل کرتے ہیں۔

پورے خلیج میں 400 سے زائد ڈی سیلینیشن پلانٹس ہیں اور یہ خطہ دنیا کا تقریباً 40 فیصد ڈی سیلینیٹڈ پانی پیدا کرتا ہے۔

ان پلانٹس کے بغیر دبئی، کویت سٹی، ریاض یا دوحہ جیسے بڑے شہر اپنی موجودہ آبادی کو برقرار نہیں رکھ سکتے۔

خاص رپورٹ سے مزید