وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ میرا سرکاری پاسپورٹ بلاک کیا گیا ہے۔ آئین و قانون کے ساتھ کھلواڑ سے اداروں کا نقصان ہو رہا ہے۔
کراچی میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز حکم دے رہے ہیں آپ اپنے قائد سے مل سکتے ہیں، اس حکم کو جیل سپرنٹنڈنٹ نے رد کردیا، یہ بے توقیری میری نہیں ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ جب تک وکلاء کھڑے نہیں ہوں گے، عدلیہ آزاد نہیں ہوگی، جتنی بھی تحریک چلیں سندھ ہائی کورٹ بار کھڑا رہا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشیت بری حالت میں ہے، نوجوان ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں، 45 فیصد سے زیادہ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 7.1 فیصد سے زیادہ بے زوزگاری کی شرح بڑھ چکی ہے، انہیں صرف حکومت بچانی ہے عوام کی ان کو فکر نہیں۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ سندھیوں کا دل بہت بڑا ہے، مہمانوں کو ہمیشہ عزت دیتے ہیں، کراچی میں تمام قومیت اور مکتبہ فکر کے لوگ موجود ہیں، سندھیوں نے کراچی میں تمام پاکستانیوں کو جگہ دی ہوئی ہے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل تحریک انصاف سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم آئین و قانون کی بات کرتے ہیں، آئین ہمیں آزادانہ نقل وحرکت اور اظہار رائے کی اجازت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئین کو تار تار کر دیا گیا، ہمیں آئین کو بحال کرنا ہے، عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈالا گیا، کراچی کی گلیوں میں آزادی کی لگن کا عزم ہے۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ مصلحت پسند خاموش لوگوں سے پوچھتا ہوں آئین و عدلیہ پر حملے پر خاموش کیوں ہو، سیاسی وابستگی کچھ بھی ہو آئین وقانون کی بحالی کے لیے ہمارے ساتھ چلیں۔
صدر کراچی بار عامر نواز وڑائچ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو وکلاء کی جانب سے ویلکم کرتا ہوں، جب بھی آئین پر کڑا وقت آیا بار ایسوسی ایشن نے بھرپور کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری کسی سیاسی جماعت سے وابستگی نہیں، رول آف لاء کے لیے کھڑے ہیں، ہم کسی پارٹی کو سپورٹ نہیں کرتے، چاہتے ہیں سب کام آئین کے مطابق ہوں۔
صدر کراچی بار کا کہنا تھا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترمیم کو ہم پہلے مسترد کیا، ایسی کوئی ترمیم قبول نہیں کریں گے جس سے عدلیہ کمزور ہو۔