برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران میں سائبر حملوں کی تیاری رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران میں سیکڑوں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے ردِعمل میں ممکنہ سائبر حملوں کی تیاری کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی قیادت کو مظاہرین کے خلاف تشدد پر سزا دینے کے لیے سائبر آپریشنز کی منصوبہ بندی جاری ہے۔
ٹیلی گراف نے امریکی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ مجوزہ سائبر کارروائیاں تہران کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کو دبانے کے لیے طاقت کے استعمال کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کو فوجی کارروائی کے مختلف آپشنز پیش کیے گئے ہیں، تاہم حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس مرحلے پر براہِ راست فوجی حملہ قبل از وقت ہو سکتا ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ منگل کے روز امریکی حکام صدر ٹرمپ کو غیر مہلک اقدامات کے متعدد آپشنز پر بریفنگ دیں گے، جن میں آن لائن حکومت مخالف بیانیے کو تقویت دینا اور ایرانی فوجی و شہری تنصیبات کے خلاف خفیہ سائبر ہتھیاروں کا استعمال شامل ہے۔
اس بریفنگ میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کی شرکت متوقع ہے۔
دوسری جانب ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے سبب انٹرنیٹ بلیک آؤٹ تیسرے روز بھی جاری ہے، جس کے باعث عوام کا دنیا سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔
گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران میں انٹرنیٹ کی بحالی کےلیے ایلون مسک کی خدمات حاصل کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس طرح کے معاملات میں بہت ماہر ہیں اور ان کی کمپنی بھی نہایت بہترین ہے۔