سادہ خون کے ٹیسٹ سے شدید آنتوں کی بیماری کی علامات کی برسوں پہلے تشخیص ممکن ہے۔
سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ ایک سادہ خون کا ٹیسٹ کروہن کی بیماری جیسی شدید اور دائمی آنتوں کی بیماری کی علامات ظاہر ہونے سے کئی سال پہلے اس کی پیشگوئی کر سکتا ہے۔
یہ تحقیق نیو یارک کے ماؤنٹ سائنائی اسپتال میں کی گئی، جس میں 380 سے زائد ایسے افراد شامل کیے گئے، جو اس بیماری کے زیادہ خطرے میں تھے، آنتوں کے بیکٹیریا کے پروٹین فلی جیلن کے خلاف اینٹی باڈیز کو بیماری سے جوڑا گیا۔
نتائج سے پتا چلا کہ ایک تہائی سے زیادہ شرکاء میں اینٹی باڈی کی سطح بلند پائی گئی، ان افراد میں یہ مدافعتی ردِعمل پہلے سے موجود تھا۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق بیماری کی علامات ظاہر ہونے سے کئی سال پہلے مدافعتی نظام میں تبدیلیاں آنا شروع ہو جاتی ہیں، قریبی رشتہ داروں، خاص طور پر بہن بھائیوں میں خطرہ زیادہ دیکھا گیا۔
تحقیق سے جینیاتی اور ماحولیاتی عوامل کے مشترکہ کردار کی تصدیق ہوئی، مستقبل میں اعلیٰ خطرے والے افراد کے لیے ویکسین تیار کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا۔
یہ تحقیق بروقت تشخیص، بہتر علاج اور بیماری کی روک تھام میں اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، کروہن کی بیماری کے علاج کے لیے نئی دوا امید افزا نتائج دکھا رہی ہے۔
اس بیماری کے نتیجے میں پیٹ میں درد ہوتا ہے اسہال اور پاخانے میں خون کی موجودگی ہوسکتی ہے، بیماری کی عام علامات میں شدید تھکن، عمومی کمزوری، بھوک میں کمی، بغیر وجہ کے وزن میں کمی اور بچوں میں بلوغت میں تاخیر شامل ہیں، برطانیہ میں تقریباً 5 لاکھ افراد اس شدید بیماری میں مبتلا ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔