• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آئی جیل تھراپی سے شدید بینائی کے نقصان میں حیران کن بہتری

فائل فوٹو
فائل فوٹو

طبی ماہرین نے ایک ایسی ممکنہ تھراپی دریافت کی ہے جو شدید بینائی کے نقصان کا شکار افراد کے لیے نئی امید بن سکتی ہے۔

 اس تحقیق میں ایک عام طور پر استعمال ہونے والا جیل HPMC (ہائیڈروکسی پروپائل میتھائل سیلولوز hydroxypropyl methylcellulose) استعمال کیا گیا، جو عموماً آنکھوں کی سرجری کے دوران لگایا جاتا ہے۔

لندن کے معروف مورفیلڈز آئی اسپتال میں کی گئی اس تحقیق کے مطابق جیل کے استعمال سے ایک نایاب اور پہلے ناقابلِ علاج سمجھی جانے والی بیماری ہائپو ٹونی (Hypotony) میں مبتلا 8 میں سے 7 مریضوں کی بینائی بحال ہو گئی، یہ بیماری آنکھ کے اندر دباؤ غیر معمولی حد تک کم ہونے کے باعث پیدا ہوتی ہے، جس سے آنکھ کی ساخت متاثر ہوتی ہے اور شدید بینائی کے مسائل یا حتیٰ کہ اندھا پن بھی ہو سکتا ہے۔

تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ مریضوں کو ایک سال تک ہر دو ہفتے بعد HPMC جیل کے انجیکشن دیے گئے، جس کے نتیجے میں آنکھ کی ساخت دوبارہ اپنی نارمل حالت میں آگئی اور بینائی میں واضح بہتری دیکھنے میں آئی، یہ تحقیق برٹش جرنل آف آپتھلمولوجی میں شائع ہوئی ہے۔

ماہرین کے مطابق ہائپو ٹونی مختلف وجوہات سے ہو سکتی ہے، جس میں آنکھوں کی بیماریاں، چوٹ، سوزش یا سرجری کے بعد پیچیدگیاں شامل ہیں، اس وقت اس بیماری کے علاج کے لیے عموماً سلیکون آئل استعمال کیا جاتا ہے، تاہم طویل عرصے تک اس کے استعمال سے آنکھ کو نقصان پہنچنے کا خدشہ رہتا ہے۔

کچھ مریضوں میں آنکھ کی حالت بہتر ہونے کے بعد انجیکشنز روک دیے گئے، مورفیلڈز آئی اسپتال اب تک ہائپو ٹونی کے 35 مریضوں کا HPMC جیل کے ذریعے علاج کر چکا ہے اور ماہرین کے مطابق اس کے مثبت نتائج وقت کے ساتھ برقرار ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق مستقبل میں شدید بینائی کے مسائل کے علاج میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

صحت سے مزید