وٹامن سی جسم کےلیے ایک اہم غذائی جز ہے جو زخم بھرنے، کولاجن بنانے اور مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے میں مدد دیتا ہے، چونکہ جسم خود وٹامن سی نہیں بناتا اس لیے اِسے خوراک کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔
ماہرین کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ وٹامن سی سپلیمنٹس کا زیادہ اور طویل مدت تک استعمال گردے کی پتھری کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق متوازن غذا لینے والوں کو عموماً سپلیمنٹس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ زیادہ مقدار میں وٹامن سی (خاص طور پر بغیر طبی ضرورت کے) لینے سے یہ جسم میں آکسیلیٹ میں تبدیل ہو جاتا ہے جو کیلشیم کے ساتھ مل کر گردے کی پتھری بناتی ہے۔
خطرہ کیسے بڑھتا ہے؟
تحقیقی رپورٹس کے مطابق روزانہ 1000 ملی گرام یا اس سے زیادہ وٹامن سی لینے سے پیشاب میں آکسیلیٹ کی مقدار 20 سے 60 فیصد تک بڑھ سکتی ہے جس سے پتھری بننے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
یہ خطرہ زیادہ تر سپلیمنٹس سے پیدا ہوتا ہے نہ کہ قدرتی غذاؤں سے۔
احتیاطی تدابیر:
وٹامن سی کی مقدار 500 سے 1000 ملی گرام روزانہ تک محدود رکھیں۔
سپلیمنٹس کے بجائے قدرتی غذائیں استعمال کرنے کی کوشش کریں۔
روزانہ وافر مقدار میں پانی پئیں۔
نمک اور زیادہ گوشت کے استعمال سے پرہیز کریں۔
گردے میں پتھری کے خطرے سے دوچار افراد سپلیمنٹس لینے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند اور متوازن غذا کے ساتھ وٹامن سی سپلیمنٹس کی غیر ضروری اور طویل مدت تک استعمال سے گریز کرنا ہی بہتر ہے۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔