• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کا بار بار آئی ایم ایف کے پاس جانا نہ تو کسی بدقسمتی کا نتیجہ ہے، نہ بیرونی سازشوں کا اور نہ ہی عالمی سطح پر آنیوالے عارضی جھٹکوں کا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ہماری گہری سیاسی اور معاشی کمزوریوں کا نتیجہ ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے جمع ہوتی چلی آ رہی ہیں۔ہماری معیشت تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنےکیلئے اپنی پیداواری اور برآمدی صلاحیت میں اضافہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ہم جتنا برآمد کرتے ہیں اس سے کہیں زیادہ درآمد کرتے ہیں، جتنا کماتے ہیں اس سے کہیں زیادہ قرض لیتے ہیں، اور ایک جدید ریاست کو چلانے کیلئے جتنے محصولات کی ضرورت ہے اس سے کہیں کم ٹیکس جمع کر پاتے ہیں۔ گویا آئی ایم ایف پر انحصار ہم پر باہر سے مسلط نہیں کیا گیا بلکہ یہ ہماری اپنی پیدا کردہ صورتحال ہے۔یہ تشخیص بے شک تلخ ہے، لیکن اس میں امید کی کرن بھی موجود ہے۔ جب مسئلہ اندرونی ہے تو اس کا حل بھی ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ حقیقی معاشی خودمختاری محض بحرانوں کے انتظام یا یکے بعد دیگرے آئی ایم ایف پروگراموں کی مذاکراتی میزوں پر نہیں ملے گی، بلکہ پاکستان کی پیداواری بنیادوں کو مضبوط اور وسیع کرنے سے ملے گی۔ استحکام کی کوششیں علامات کا علاج کر سکتی ہیں، لیکن اصل مرض کا علاج تو اقتصادی ساختی تبدیلیوں میں ہے۔ سیدھے الفاظ میں کہیں تو پاکستان کو اپنی پیداواری صلاحیت، عالمی منڈیوں میں مقابلے کی طاقت اور برآمدی استعداد بڑھانی ہوگی۔ اسکے علاوہ کوئی پائیدار راستہ موجود ہی نہیں۔یہی وہ بنیادی سوچ ہے جس پر اُڑان پاکستان اور اسکا قومی معاشی تبدیلی کا منصوبہ استوار ہے۔ ہمارا مقصد قلیل المیعاد ریلیف نہیں بلکہ طویل المیعاد مضبوطی حاصل کرنا ہے۔آئی ایم ایف سے نکلنے کے حوالے سے جو بحث چل رہی ہے، وہ ایک غلط تصور میں پھنسی ہوئی ہے۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ مالیاتی کفایت شعاری ہی معاشی مشکلات کا واحد ذمہ دارانہ حل ہے۔ بلاشبہ مالیاتی نظم و ضبط انتہائی اہم ہے، مگر اسے معیشت کا گلا گھونٹنے کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔ کفایت شعاری عارضی طور پر خسارے کو کم تو کر سکتی ہے، مگر یہ معیشت کی آمدنی، برآمدات اور محصولات پیدا کرنیکی صلاحیت میں کوئی اضافہ نہیں کرتی۔ طویل عرصے تک کفایت شعاری کی پالیسیاں اختیار کرنے سے وہ شعبے بھی کمزور ہو جاتے ہیں جو پیداواریت اور ترقی کے اصل محرک ہوتے ہیں۔اسکے برعکس، ترقیاتی اخراجات مستقبل میں مالیاتی استحکام کی بنیاد رکھتے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے، توانائی، پانی، ڈیجیٹل رابطے، تعلیم، ہنر اور تحقیق میں حکومتی سرمایہ کاری سے پیداواریت میں اضافہ ہوتا ہے، نجی شعبے کو سرمایہ کاری کی ترغیب ملتی ہے اور ٹیکس وصولی کی بنیاد وسیع ہوتی ہے۔ ترقیاتی اخراجات مالیاتی نظم و ضبط کیخلاف نہیں بلکہ اسکی بنیادی شرط ہیں۔ انکے بغیر پاکستان کم پیداواری، کم برآمدات اور کم محصولات کے اُس جال میں پھنسا رہے گا جو بیرونی انحصار کو مزید مضبوط کرئیگا۔اعداد و شمار خود اپنی کہانی بیان کرتے ہیں۔ کل وفاقی جاری اخراجات سولہ ہزار دو سو چھیاسی ارب روپے ہیں جن میں سے تقریباً نصف یعنی آٹھ ہزار دو سو سات ارب روپے یعنی انچاس فیصد محض قرضوں کی ادائیگی میں چلے جاتے ہیں۔ دفاع پر تقریباً 16 فیصد خرچ ہوتا ہے جبکہ گرانٹس اور منتقلیاں بشمول بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام مزید 12 فیصد لے جاتے ہیں۔ پوری وفاقی حکومت کا نظام محض 6 فیصد پر چل رہا ہے۔ وفاقی ترقیاتی اخراجات یعنی پی ایس ڈی پی تو 2018 میں جی ڈی پی کا 2. 8 فیصد تھے جو 2024 میں گر کر محض 0.9فیصد رہ گئے ہیں۔ یہ کوئی اپنی حیثیت سے زیادہ خرچ کرنیوالی معیشت نہیں ہے، بلکہ اپنے مستقبل میں بہت کم سرمایہ کاری کرنیوالی معیشت ہے۔ پاکستان کے ترقیاتی ماڈل کی ایک اہم کمزوری فزیکل انفراسٹرکچر اور انسانی ترقی کے درمیان عدم توازن ہے۔ ماضی میں حکومتوں نے ایسے بڑے منصوبوں کو ترجیح دی جو نظر آتے ہیں اور جن سے سیاسی فوائد حاصل ہوتے ہیں، جبکہ طویل المیعاد پیداواریت بڑھانے والے سماجی شعبے کی سرمایہ کاری کو پسِ پشت ڈال دیا گیا۔کوئی بھی ملک پائیدار خوشحالی کی توقع نہیں رکھ سکتا جب اسکی شرح خواندگی 63 فیصد ہو، تقریباً 40 فیصد بچے اسٹنٹنگ کا شکار ہوں، آبادی میں اضافے کی شرح 2.55فیصد ہو اور خواتین کی لیبر فورس میں شرکت تقریباً 23 فیصد پر جمی ہوئی ہو۔ یہ محض سماجی اشاریے نہیںبلکہ معاشی ترقی کی راہ میں وہ رکاوٹیں ہیں جنھیں دور کرنےکیلئے اُڑان پاکستان فائیوایز فریم ورک بنایا گیا ہے۔اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم، صحت اور سماجی ترقی کی بنیادی ذمہ داری صوبوں کے پاس ہے۔ لیکن کمزور مقامی حکمرانی اور بااختیار ضلعی اداروں کی غیرموجودگی کیوجہ سے فراہمی کا نظام متاثر ہوا ہے۔ انسانی سرمائے کی اسٹرٹیجک اہمیت کے پیشِ نظر ایک مضبوط ضلعی سطح کا مقامی حکومتی نظام اور مربوط قومی کوشش ناگزیر ہے۔ اس وقت ہماری ترقیاتی منصوبہ بندی منتشر ہے، صوبوں میں ضرورت سے زیادہ مرکزیت اختیار کر گئی ہے ، وفاقی و صوبائی ترجیحات میں مناسب ہم آہنگی نہیں رہی۔ صوبوں کا ترقیاتی بجٹ وفاق سےبھی بڑھ چکا ہے۔ اُڑان پاکستان فائیو ایز فریم ورک کے تحت یہ تجویز دی گئی ہے کہ قومی اقتصادی کونسل کو دوبارہ فعال کیا جائے تاکہ یہ وفاقی اور صوبائی حکمت عملیوں اور بجٹ کو ہم آہنگ کرنے اور اصلاحات کو تیز کرنے کیلئے اعلیٰ ترین آئینی فورم کے طور پر کام کرے۔ انسانی ترقی کو صوبائی ذمہ داری کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، اسے قومی معاشی ترجیح کے طور پر لیا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان پر قرضوں کا بھاری بوجھ بالآخر دائمی طور پر کمزور محصولات اور برآمدی کارکردگی کا نتیجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیکس اصلاحات حکومتی ایجنڈے کے مرکز میں ہیں۔ ایف بی آر کی تنظیم نو، ٹیکنالوجی کے استعمال اور بہتر نفاذ سے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام کی پابندیوں کے باعث ابتدائی کوششیں موجودہ ٹیکس دہندگان سے بہتر وصولی پر مرکوز رہیں، جس سے ٹیکس دینے والوں پر غیرمعمولی بوجھ پڑا۔لہٰذا اب اگلا اہم مرحلہ ٹیکس بیس کو وسیع کرنا ہے یعنی غیرٹیکس شدہ شعبوں، آمدنیوں اور لین دین کو ٹیکس نیٹ میں لانا تاکہ نظام میں انصاف اور پائیداری آئے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان کا ٹیکس سے جی ڈی پی کا تناسب مالی سال 2025 ءمیں بڑھ کر10.3فیصد ہو گیا ہے جو پچھلے سال 8.8 فیصد تھا۔ اب اس پیشرفت کو سیاسی عزم اور پالیسیوں میں تسلسل کے ذریعے مستقل بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔اسی کے ساتھ کاروبار کو آسان بنانے کی اصلاحات بھی جاری ہیں۔ رجسٹریشن اور لائسنسنگ کو ڈیجیٹل بنایا جا رہا ہے، سنگل ونڈو کسٹمز کا نظام نافذ کیا جا رہا ہے، اور تنازعات کے حل کو خودکار بنایا جا رہا ہے۔ (جاری ہے)

(صاحب ِ مضمون وفاقی وزیر منصوبہ بندی ترقی اور خصوصی اقدامات ہیں)۔

تازہ ترین