اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں آباد مسیحی اساتذہ کے پرمٹ محدود اور منسوخ کرنے کے بعد مقبوضہ بیت المقدس میں مسیحی اسکولز نے ہڑتال کردی۔
اسرائیلی اقدام کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مقبوضہ بیت المقدس میں درجنوں نجی اسکولوں نے کلاسز معطل کر دی ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں طلبہ کی تعلیم متاثر ہونا شروع ہوگئی۔
یہ ہڑتال جنرل سیکریٹریٹ آف کرسچن ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنز ان یروشلم کی جانب سے کی گئی، جس میں بعد ازاں مقبوضہ بیت المقدس کے تمام نجی اسکول شامل ہو گئے۔
اس اقدام سے تقریباً 20 ہزار طلبہ متاثر ہوئے ہیں، جن میں 15 مسیحی اسکولوں کے 8,500 طلبہ بھی شامل ہیں۔
جنرل سیکریٹریٹ نے بتایا کہ اسرائیلی فیصلے کے باعث 171 اساتذہ اور عملے کے ارکان براہِ راست متاثر ہوئے ہیں، یہ تعداد شہر کے تمام نجی اسکولوں میں کام کرنے والے تقریباً 300 اساتذہ میں سے نصف سے زیادہ بنتی ہے۔
اسرائیل نے فلسطینی ڈگری رکھنے والے مقامی اساتذہ کی بھرتی پر بھی پابندی لگا رکھی ہے، قابض ریاست نے مقبوضہ بیت المقدس کے فلسطینی اسکولوں کو ان اساتذہ کی خدمات حاصل کرنے سے بھی روکا جنہوں نے فلسطینی جامعات سے ڈگریاں حاصل کی ہیں، چاہے وہ خود مغربی کنارے کے رہائشی ہی کیوں نہ ہوں، جبکہ گزشتہ برس سے مغربی کنارے سے نئے اساتذہ کی بھرتی پر بھی پابندی عائد ہے۔
اسرائیل نے غزہ جنگ کے بعد فلسطینی مہاجرین کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے انروا (UNRWA) کے زیرِ انتظام بیت المقدس کے 6 اسکول بھی بند کر دیے ہیں۔