امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلسل مظاہروں اور احتجاج کے بعد خبردار کیا ہے کہ وہ منیسوٹا میں فوج تعینات کرنے کےلیے صدیوں پرانا "محدود بغاوت کا ایکٹ" نافذ کرسکتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے منیسوٹا میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے خلاف جاری مظاہروں کے تناظر میں انسریکشن ایکٹ نافذ کرنے کی دھمکی دی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے انٹرنیٹ پر صدر ٹرمپ کا بیان شیئر کیا کہ اگر منیسوٹا کے کرپٹ سیاست دان قانون کی پاسداری نہیں کریں گے، پیشہ ورانہ احتجاج کو نہیں روکیں گے اور محب وطن آئس ایجنٹوں پر حملے نہیں روکے جائیں گے تو وہ "محدود بغاوت ایکٹ" نافذ کردیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان سے پہلے بھی کئی صدور یہ ایکٹ نافذ کرچکے ہیں، محدود بغاوت کے The Insurrection Act کے تحت مخصوص حالات میں فوج تعینات کی جاسکتی ہے۔
خیال رہے کہ امریکا میں 37 سالہ رینی نکول گُڈ پر منیاپولس میں ہونے والی جان لیوا فائرنگ نے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کو جنم دیا ہے اور اس کے سبب امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ایجنسی (آئی سی ای) کو مزید سخت جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انسریکشن ایکٹ کیا ہے؟
انسریکشن ایکٹ (1807) ایک امریکی وفاقی قانون ہے جو صدر کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ ریاست کی اجازت کے بغیر ملک کے اندر فوج یا نیشنل گارڈ کو تعینات کر کے بدامنی، بغاوت یا بڑے پیمانے پر شہری انتشار کو کنٹرول کریں۔
یہ قانون امریکی تاریخ میں بہت کم مواقع پر استعمال ہوا ہے، خاص طور پر شہری حقوق کی تحریک کے دوران۔ موجودہ حالات میں اس کا نفاذ ایک غیر معمولی اور انتہائی سخت قدم سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب منیسوٹا کے ریاستی حکام اور منیاپولس کے میئر نے صدر ٹرمپ کے بیان پر تنقید کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ فوجی نوعیت کی دھمکیاں صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہیں اور مقامی کمیونٹیز میں خوف پیدا کریں گی۔