• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وطنِ عزیز سیاسی عدمِ استحکام اور معاشرتی ہیجان کی گرفت میں ہے ۔ عظیم قائدکے قد کاٹھ کا مدبر، دوراندیش، دیدہ ور (STATESMAN) چاہئے تھا، نوزائیدہ مملکت کو بامِ عروج ملتا تاکہ پہلی ترجیح ملک و ملت بن پاتی۔ قسمت پھوٹی ، یکے بعد دیگرے ہیجان انگیز ، جذبات بھڑکانے والے ، لاٹھی برادر قائدین مملکت پر سوار رہے جن کی پہلی ترجیح انکی ذات مبارکہ تھی ۔

عالمی منظر نامہ پر وقتی طور پر ایران کے سر پر سے امریکی خطرہ ٹل چکا ہے ، یقیناً پس پردہ سفارتی سرگرمیاں کام آئیں ۔ دو ہفتوں سے میری یکسوئی اور تکرار کہ نہ صرف ایرانی قیادت مظاہرین پر قابو پاء لے گی ، امریکی دھمکیاں بھی بس گیدڑ بھبکیوں تک محدود رہیں گی ۔ یقین کامل کہ آنیوالے دنوں میں ایران کیلئے چین اور چین ہی رہیگا۔ دو رائے نہیں کہ پاکستان کا وجود کُلیتاً عظیم قائد کی غیرمعمولی قائدانہ صلاحیتوں کا مرہون منت ہے۔ آج جب مملکت خداداد پاکستان کے مقبولِ عام قائدین کا تقابلی جائزہ قائداعظم سے کرتا ہوں تو حقیقتاً ’’ سورج کو چراغ دکھانا‘‘کا محاورہ برمحل نظر آتا ہے۔ 20ویں صدی اس لحاظ سے منفرد کہ آزاد و غلام ہر قوم نے اپنے اپنے حصہ کا کوئی نہ کوئی ایسا قائد پیدا کیا جو اپنی اپنی قوم کی تقدیر بدل گیا یا گیم چینجزثابت ہوا۔ کسی نے ہجوم کو قوم بنایا تو کسی نے قوم کی خامیاں مار بھگائیں اوراسےاوجِ ثریا تک پہنچایا ۔ 20ویں صدی عظیم رہنماؤں سے مالا مال رہی ۔ لینن ( روس)، مصطفیٰ کمال اتاترک ( ترکی)،  روز ویلیٹ ( امریکہ )، ماوزے تنگ ( چین ) ، ایڈولف ہٹلر ( جرمنی )، گاندھی ( بھارت ) ، چرچل ( برطانیہ ) ، ھو چی من ( ویتنام ) ، لی کوان یو ( سنگاپور ) ، ہیل سلاسی ( ایتھوپیا ) نہ ختم ہونیوالی فہرست ، بلا توقف دعویٰ ہے کہ محمد علی جناح ان سب سے فکری سیاسی لحاظ سے کہیں بلند قامت نظر آئیں گے۔

نابغہ روزگار مورخ سٹینلے والپرٹ کا قائداعظم کو خراج تحسین ،’’ بہت کم لوگ تاریخ کا دھارا بدلتے ہیں ، اس سے بھی کم دنیا کا نقشہ ، اور شاید ہی کوئی ایک نئی ریاست تخلیق کرتا ہے ، محمد علی جناح نے یہ تینوں کام کیے۔ محمد علی جناح نہ تو نعرے باز سیاستدان تھے اور نہ ہی عوام الناس کے جذبات سے کھیلنے کا شوق رکھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ قومیں ہجوم سے نہیں بلکہ مذاکرات، قانونی دستاویزات سے بنتی ہیں، نعروں سے نہیں ۔ عظیم قائد بلا کے ذہین اور ان میں فہم و فراست کی فراوانی تھی۔ ہندو اکثریتی جمہوریت میں مسلمانوں کے مستقل اقلیت بننے کا ادراک ہوتے ہی انہوں نے غصے یا انتشار کی بجائے مسلم قومیت کا ایک آئینی خاکہ پیش کیا اور مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ وطن بنا لیا ۔ انہوں نے ہجوم نہیں بھڑکائے، قانون کو متحرک کیا ؛ نفرت نہیں پھیلائی بلکہ سیاسی مساوات کا مطالبہ کیا ۔

بندوق کے بجائے دلیل سے برطانوی سلطنت کو جھکایا اور کانگریس کو آئینی تعطل کے ذریعے مجبور کیا ۔ جناح کی سیاست نپی تلی، آئینی اور جمہوری تھی ؛ تھیوکریسی نہیں بلکہ وقار اور شہریت پر مبنی ایک ایسی مسلم ریاست کا تصور دیا ، جس نے مثال بننا تھا ۔ انہوں نے تاریخ نعروں سے نہیں بلکہ مذاکرات سے بنائی، انکی بے پناہ قابلیت ہی پاکستان کی اصل بنیاد تھی ‘‘۔

اگرچہ آج تک قائداعظم بارے سینکڑوں کتابیں ، سینکڑوں تحقیقی مقالے اور بہت کچھ لکھا جا چکا ہے ۔ ولیم مِٹز ( WILLIAM METZ) کا PHD مقالہ ( THE POLITICAL CAREER OF MOHAMMAD ALI JINNAH) اس لحاظ سے منفرد کہ 1950 ءمیں ولیم مِٹز کوا س مقالہ پر PHD کی ڈگری ملی ، جب قائداعظم کی زندگی پر مواد عملاً موجود ہی نہ تھا۔ اللّٰہ بھلا کرے ڈاکٹر رضا کاظمی کا کہ اپنے جذب و شوق میں سرگرداں ، 2010 میں اندھیروں سے نکال کر کتابی شکل میں سامنے لے آئے ۔ اس مقالہ کی خصوصیت یہ کہ یہ مقالہ ہیکٹر بولیتھو ( BOLITHO) کی کتاب’’ محمد علی جناح ‘‘سے 4سال پہلے لکھا گیا ۔ ہیکٹربولیتھو ( BOLITHO) کے سامنے حکومت پاکستان نے قائداعظم سےمتعلق اخباری مواد ، تقاریر ، انٹرویوز ، آل انڈیا مسلم لیگ ، کانگریس کے کاغذات ، سب رکھ دیئے ۔ بولیتھو نے اعتراف کیا کہ کم وپیش انڈیا و پاک سے 600ایسے بندوں کے انٹرویو کیے جو قائداعظم کے قریبی تھے۔ مشکل یہ کہ 45سالہ سیاسی زندگی میں محمد علی جناح نے اپنی ذات نہ تو کہیں متعارف کروائی اور نہ ہی انکی زندگی کی بہت تفصیل میسر تھی۔ اپنے بارے کوئی خود نوشت یا سوانح عمری اور نہ ہی اپنے معمولات پر کوئی دستاویز بنوائی ۔ ایسے حالات میں ولیم مٹز کا شاندار کارنامہ کہ انکے ڈاکٹریٹ مقالہ نے جناح کی سیاست کا جو سماں باندھا ہے ، سر دھننے کو دل چاہتا ہے ۔

برسبیل تذکرہ ، کتاب نے مجھے اس قدر متاثر کیا کہ 14سال پہلے ولیم مٹز کی درجنوں کتابیں وطنی اکابرین میں تقسیم کیں ۔ پڑھنے کے بعد پہلی فرصت میں ایک عدد نسخہ عمران خان کی نذر کیا تھا ۔ شاید 2017ءمیں جب مریم نواز صاحبہ سے پہلی ملاقات ہوئی تو تحفہ کے طور پر ولیم مٹز کی کتاب پیش کی ۔ میرے نزدیک یہ سیاست کے طالب علموں کیلئے سیاست کرنے کے اصول اور اسلوب پر ایک نادر کتاب ہے ۔ وطنی رہنماؤں کیلئے مستند رہنمائی کا مواد پیش کرتی ہے ۔ ولیم مٹز کا مقصد تحقیق تو ایک ہی نکتہ کہ20سال ہندو مسلم یونٹی کا راگ الاپنے والے مستقل مزاج محمد علی جناح اپنی زندگی کے آخری 13 سال دو قومی نظریہ کا نقیب کیونکر بنے ؟ اس تحقیق میں ولیم کو قائداعظم کی 45 سالہ سیاست کا احاطہ کرنا پڑا ۔

جذباتی تقریروں ، کھوکھلے نعروں ، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے مبراء سیاست کی ۔ انشاء اللّٰہ اگلے کالم میں’’پاکستان کا وجود میںآنا عظیم قائد کا مخیرالعقول کارنامہ‘‘ پر قلم آزمائی کروں گا ۔ آج میرا اصل موضوع تو وطنی قسمت کا رونا رونا تھا کہ جذباتی ، ہیجان انگیز ، کھوکھلے نعرے لگانے والے ، لاٹھی بردار قائدین ہی کیوں ہمارا مقدر بنے ، جنہوں نے 78 سال میں مملکت کا بھرکس نکال دیا۔ بھٹو ، نواز شریف ، عمران خان جیسے DAMAGOGES یا پھر فوجی ڈکٹیٹر کی کوئیک مارچ ہی وہ غلطی کہ جس نے مملکت کو ہلکان کر رکھا ہے ۔ چنانچہ قائداعظم کی زندگی یا انکی تعلیمات کسی وطنی حکمران کا کیونکر آئیڈیل بن پاتیں ۔ محمد علی جناح ایک ایسےحقیقی ریاست دان تھے جنہوں نے قانون اداروں اور آئینی حکمت عملی کے ذریعے قوم بنانے کی ٹھان رکھی تھی ۔ انہوں نے ہجوم کو نہیں بلکہ نظام کو متحرک رکھا اور اپنی حدود و قیود میں پاکستان وجود میں آیا ۔ کاش مقبول رہنماء بھٹو ، نواز شریف اور عمران خان تینوں اپنی اپنی صورت میں ہیجان انگیز عوامی سیاستدان بننے کی بجائے ، ہجوم کو اشتہاء پر لگانے کی بجائے ، ملک و قوم کو اپنی ترجیح بناتے ۔ یہی وجہ کہ قائداعظم کا نام رہتی دنیا تک زندہ و تابندہ رہنا ہے ۔ جبکہ مقبول رہنماؤں کی اپنی زندگیوں میں انکا نام و نشان کملاتےہم نے خود دیکھا ہے۔ نتیجتاً وطنِ عزیز اگرچہ مقبول مگر غیر مدبر رہنماؤں کی مار سے نڈھال ہو چکا ہے ۔

تازہ ترین