وفاقی وزیر مملکت برائے مذہبی امور کھیئل داس کوہستانی نے کہا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کو جو مذہبی آزادی اور تحفظ حاصل ہے، ہم چاہتے ہیں کہ بھارت میں بھی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کو وہی حقوق اور احترام میسر آئے۔
جنگ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مذہبی ہم آہنگی، برداشت اور باہمی احترام کو فروغ دیا ہے اور یہی پیغام پوری دنیا تک پہنچایا جا رہا ہے۔
کھیئل داس کوہستانی نے حالیہ دنوں میں بھارت میں پیش آنے والے اس واقعے کی شدید مذمت کی جس میں ایک مسلمان خاتون کا نقاب زبردستی کھینچا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی صریح خلاف ورزی ہے، جس کے خلاف پاکستان نے نہ صرف آواز بلند کی بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کی مذمت کی گئی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اقلیتوں کے ساتھ ایسا سلوک کسی بھی مہذب معاشرے میں قابل قبول نہیں۔
انکا کہنا تھا کہ بطور وزیر مملکت ان کی اولین ترجیح پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانا اور اقلیتوں کے تحفظ کو ہر سطح پر یقینی بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا آئین تمام شہریوں کو بلاامتیاز مذہب مکمل حقوق فراہم کرتا ہے اور حکومت ان حقوق کے عملی نفاذ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
کھیئل داس کوہستانی نے حجاج کرام کے حوالے سے اپنی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ حج سیزن میں متعدد مسلمان حجاج کے کاغذات بروقت مکمل نہ ہو سکے تھے، تاہم انہوں نے ذاتی دلچسپی اور مسلسل کاوشوں سے ان کی حج پر روانگی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی خدمات کسی ایک مذہب یا طبقے تک محدود نہیں بلکہ وہ اقلیتوں اور مسلم برادری سمیت تمام شہریوں کے لیے یکساں جذبے سے کام کرتے رہیں گے۔
آخر میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان میں مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کا سفر مزید مضبوط ہوگا اور دنیا کے سامنے ایک مثبت مثال کے طور پر ابھرے گا۔