کچھ چہرے ایسے ہوتے ہیں جو محض عہدوں سے نہیں پہچانے جاتے، بلکہ اپنے اندازِ کار، اپنی رفتار اور اپنے فیصلوں سے یاد رکھے جاتے ہیں۔ میاں شہباز شریف بھی انہی میں سے ایک ہیں، وہ نتائج کے آدمی ہیں۔ ان کے نزدیک الفاظ کی قیمت اسی وقت ہوتی ہے جب وہ عمل میں ڈھل جائیں۔ وہ جن پر اعتماد کرتے ہیں، انہیں اپنے ساتھ رکھتے ہیں، مگر یہ اعتماد آرام نہیں، مسلسل دوڑ ہے—کام کی دوڑ۔ پنجاب میں شہباز شریف کی وزارتِ اعلیٰ کے دور میں چند شخصیات اس کڑی آزمائش سے گزریں، جن میں رانا مشہود احمد نمایاںرہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں میاں شہباز شریف کی قربت بھی ملی اور میاں نواز شریف کا اعتماد بھی۔
دو ہزار چوبیس کے انتخابات کے بعد ملک کی فضا بوجھل تھی۔ تحریک انصاف کو بھی شکایات تھیں، مسلم لیگ (ن) کو بھی۔ میاں نواز شریف خود ان رہنماؤں میں شامل تھے جو اپنی جیتی ہوئی نشست پر شکست کا سامنا کر گئے۔ رانا مشہود احمد بھی انہی میں سے تھے۔ ان کے پاس جیت کے شواہد تھے، دلائل تھے، مگر وہ نہ سڑکوں پر نکلے، نہ شور مچایا، خاموشی سے کام کو ترجیح دی۔ جب دو ہزار چوبیس میں شہباز شریف وزیراعظم بنے تو انہوں نے رانا مشہود احمد کو اسلام آباد طلب کیااور انہیں چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام مقرر کیا دیاگیا۔ وزیراعظم کے ذہن میں نوجوانوں کا جو نقشہ تھا، اس کا خاکہ رانا مشہود کے ہاتھ میں دیا گیا۔
پرائم منسٹر یوتھ پروگرام بظاہر ایک سادہ نام ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک غیر معمولی تصور ہے۔ ایک ایسا ادارہ جس کا اپنا بجٹ صفر ہے، مگر اسکے ہاتھ سے اربوں روپے کے منصوبے نکل رہے ہیں۔ مختلف وزارتوں، محکموں اور اداروں کے اشتراک سے نوجوانوں کیلئےمواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔ صرف ایک سال کے مختصر عرصے میں دو سو ارب روپے کے ایگری کلچر اور کاروباری قرضے—یہ محض اعداد نہیں، یہ لاکھوں نوجوانوں کی امیدیں ہیں جو اب خواب نہیں رہیں۔
کرکٹ کے حوالے سے لاہور قلندرز کے اشتراک سے لاکھوں بچوں کے ٹرائلز لیے گئے۔ رانا مشہود فخر سے بتاتے ہیں کہ اب140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی بولنگ کوئی حیرت نہیں رہی۔ 145، 148 بلکہ 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کروانے والے نوجوان سامنے آ رہے ہیں۔
یہ پروگرام صرف کرکٹ تک محدود نہیں۔ ایک لاکھ سے زائد لیپ ٹاپ تقسیم ہو چکے ہیں، ہزاروں طلبہ کو اسکالرشپس مل چکی ہیں، آئی ٹی ٹریننگ کے درجنوں منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کیلئے بیرونِ ملک بھیجا جا رہا ہے۔ کئی اور منصوبے ابھی جاری ہیں۔ یہ سب اس پروگرام کے تحت ہو رہا ہے جسے کبھی محض ایک سیاسی نعرہ سمجھ کر بند کر دیا گیا تھا۔
رانا مشہود کے ساتھ گفتگو میں شہباز شریف کی شخصیت کے وہ پہلو بھی سامنے آئے جو عام طور پر کیمروں سے اوجھل رہتے ہیں۔شہباز شریف کی وزارت اعلیٰ کے دور میں ایک رات اطلاع ملی کہ لاہور میٹرو کے منصوبے پر کام سست پڑ گیا ہے۔ گھڑی نے گیارہ بجائے تھے۔ فیصلہ ہوا کہ رات تین بجے اچانک انسپیکشن ہوگی۔ جب رانا مشہود مقررہ وقت پر پہنچے تو فلائی اوور پر ایک شخص حفاظتی ہیلمٹ پہنے پہلے سے موجود تھا۔ قریب جا کر دیکھا تو وہ خود شہباز شریف تھے—۔ ایک منظر اور بھی گہرا تھا۔ ایک بچہ جس کے دونوں ہاتھ حادثے میں ضائع ہو چکے تھے، مگر اس نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ پیروں سے لکھتا تھا۔ جب اس بچے نے شہباز شریف کے سامنے لکھ کر دکھایا تو الفاظ رک گئے، آنکھیں نم ہو گئیں۔ اسی لمحے فیصلہ ہوا کہ اس بچے کی تعلیم کا ہر خرچ شہباز شریف اپنی ذاتی جیب سے ادا کریں گے۔ یہ کوئی سرکاری اعلان نہیں تھا، یہ دل کا فیصلہ تھا۔
تیسرا واقعہ زندگی اور موت کے بیچ کا ہے۔ دو ہزار کے آغاز میں، کینسر کی تشخیص، امریکہ کا ایک معروف اسپتال، ڈاکٹر کا جملہ کہ یہاں صرف چند فیصد لوگ صحت یاب ہو پاتے ہیں۔ اس لمحے شہباز شریف نے دل ہی دل میں عہد کیا اگر زندگی ملی تو عوام کے نام۔ زندگی ملی، اور اس کے بعد ان کی سیاست واقعی اسی عہد کا عکس بن گئی۔
پرائم منسٹر یوتھ پروگرام اسی عہد کی توسیع ہے۔ یہ پروگرام میاں نواز شریف نے دو ہزار تیرہ میں شروع کیا، عمران خان نے اسے دو ہزار اٹھارہ میں بند کردیا، دو ہزار چوبیس میں شہباز شریف نے اسے دوبارہ زندہ کیا، اور آج یہ نوجوانوں کیلئے ایک امید بن چکا ہے۔یہ محض ایک حکومتی اسکیم نہیں۔یہ ایک یقین ہےاور جب قیادت نوجوانوں پر یقین کرتی ہے، تو مستقبل خود بولنے لگتا ہے۔