• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

منوج باجپائی کی شاگرد بننے کی خواہش کے اظہار نے مجھے رلا دیا تھا، جیدیپ اہلاوات

تصویر سوشل میڈیا۔
تصویر سوشل میڈیا۔

بالی ووڈ کے سینئر اور ورسٹائل اداکار منوج باجپائی کے ایک جملے نے بھارتی فلموں اور ٹیلیویژن کے معروف اداکار جیدیپ اہلاوات کو اس وقت رلا دیا جب انھوں نے مشہور کرائم اور تھرلر ویب سیریز پاتال لوک کے 45 سالہ اداکار کو فون کیا۔ 

اداکار جیدیپ اہلاوات اس سیریز میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔

اس حوالے سے حال ہی میں ہونے والی ایک گفتگو کے دوران جس میں جیدیپ کے ساتھ منوج باجپائی، پریامنی، نمرت کور اور کونٹینٹ کریئیٹر روی گپتا اور اداکارہ خوشا کپیلا بھی موجود تھے۔ 

اس موقع پر جیدیپ نے پاتال لوک کے بعد انکی زندگی میں آنیوالی تبدلی کے متعلق بتایا اور کہا کہ اس کی وجہ صرف یہ نہیں ہے کہ اب وہ گھر گھر پہچانے جانے لگے ہیں، بلکہ اسکی وجہ ایک فون کال ہے جو شو کی ریلیز کے فوراً بعد آئی۔

انھوں نے بتایا کہ جب سیزن 1 ریلیز ہوا تو مجھے منوج باجپائی کا فون آیا۔ انہوں نے مجھ سے تقریباً 20 منٹ بات کی۔ میں وہ لمحہ کبھی نہیں بھول سکتا۔ جس کے بعد میں رو پڑا۔

جیدیپ کا یہ ایک ایسا اعتراف تھا جس پر سامعین بھی چونکے، انکے آنکھوں کے آنسوؤں کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس بات کی وجہ سے کہ انھوں نے یہ بتایا کہ ہندی سنیما جیسی مسابقتی اور افراتفری بھری صنعت میں بھی احترام، خلوص اور رہنمائی کے لیے غیر معمولی گنجائش موجود ہے۔

جیدیپ کو آنسوؤں تک لے جانے والی بات جاننے کے لیے اداکارہ و سوشل میڈیا پرسنالٹی  کشا کپیلا نے منوج باجپائی کی طرف رخ کرتے ہوئے پوچھا کہ انھوں نے فون پر کیا کہا تھا۔ 

جس پر منوج نے ہمیشہ کی طرح اپنے سادہ اور بے ساختہ انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نے تو ان سے صرف یہ کہا تھا کہ براہ کرم ایک فلم انسٹیٹیوٹ کھولیے اور اس میں، میں آپ کا شاگرد بننا چاہتا ہوں۔

جیدیپ کے مطابق یہ ایک جملہ پورے منظر نامے کو بدل دینے کے لیے کافی تھا۔ منوج باجپائی جیسے نیشنل ایوارڈ یافتہ اور سینئر ترین اداکار کی جانب سے پذیرائی نے جیدیپ کو ہم مرتبہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک استاد کے طور پر خراج تحسین پیش کیا جس پر انکے آنسو نکل آئے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید