ماہرین صحت کے مطابق اچھی نیند سے پیٹ کی چربی کم ہوتی ہے نتیجتاً بریسٹ (چھاتی) کینسر کے خطرے میں کمی ہوتی ہے۔
ریسرچ کے مطابق بھارت میں خواتین میں بریسٹ کینسر کے کیسز میں سالانہ اضافہ 6 فیصد ہے، جو تشویشناک ہے، اس رجحان کی بڑی وجوہات میں ناکافی نیند، مسلسل ذہنی دباؤ اور بڑھتا ہوا مٹاپا شامل ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ ایک خطرناک تبدیلی کی طرف اشارہ ہے، جس میں کم عمر خواتین بھی تیزی سے متاثر ہو رہی ہیں، روایتی میموگرافی سے آگے بڑھ کر آگاہی، احتیاطی تعلیم اور خطرے کی بنیاد پر اسکریننگ کو فروغ دیا جائے۔
ایک حالیہ تحقیق کے خواتین میں بریسٹ کینسر کے اہم عوامل میں خراب نیند، دائمی اسٹریس اور پیٹ کے گرد چربی شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق طرز زندگی اور میٹابولک تبدیلیاں خطرات کو نئی شکل دے رہی ہیں، اور اس سے کم عمر خواتین بھی متاثر ہو رہی ہیں۔
اس حوالے سے حالیہ تحقیق کو عالمی تحقیقی اداروں کے ڈیٹا کے ساتھ شامل کیا گیا، جو خراب نیند اور جسم کے اندرونی کنٹرولنگ کلاک کے ساتھ ملانے سے بریسٹ کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے سے منسلک پایا گیا۔
ماہرین کے مطابق ناقص نیند میلٹونن ہارمون کے اخراج، ایسٹروجن کے توازن، مدافعتی نظام کی نگرانی اور ڈی این اے کی مرمت کے عمل کو متاثر کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ واحد سبب نہیں، مگر جب اس کے ساتھ مٹاپا، دائمی ذہنی دباؤ، جسمانی غیرفعالیت اور کاہلی پر مبنی طرز زندگی شامل ہو جائیں تو خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
خراب نیند، عمر یا جینیاتی رجحان جیسے ناقابل تبدیل عوامل کے مساوی نہیں، کیونکہ یہی اب بھی سب سے مضبوط پیش گو عوامل ہیں، تاہم، یہ اب ایک نہایت اہم قابل تبدیل خطرے کے عنصر کے طور پر ابھر رہی ہے۔
طبی طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ خواتین طویل عرصے کی نیند کی کمی، نائٹ شفٹ میں کام، ذہنی دباؤ اور میٹابولک خرابیوں کے بعد بریسٹ کینسر کا شکار ہو جاتی ہیں۔