• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پچھلے سال 26دسمبر کو’ ’خوش نوایانِ چمن کی آزمائش ہے‘ کے عنوان تلے محترمہ کشور ناہید نے نہایت دردمندی سے اپنے کالم میں لکھا ’میرے آج کے بڑے سیاستدانو، تمہیں تو علم بھی نہ ہو گا کہ ابھی انڈیا سے پاکستان کے حصے کی رقم نہیں پہنچی تھی۔ یہ سارے اخراجات اور تنخواہیں راجا صاحب محمود آباد نے ادا کئے۔‘ لکھنؤ سے 52 کلومیٹر دور ریاست محمود آباد کے والی راجا امیر احمد خان کی زندگی اور خدمات کے بارے میں کچھ نہ کچھ پڑھ رکھا تھا، سو ایسا کوئی واقعہ مجھ تاریخ کے طالبعلم کے ذہن میں نہ آیا چنانچہ تحقیق کی راہ لی۔ لگ بھگ تین ماہ پہلے بھی میں ایک مضمون لکھتے ہوئے ریاست بہاولپور سے متعلق بالکل ایسے ہی دعوے کی پرکھ کرتے، کھوج کے ایسے ہی عمل سے گزر چکا تھا۔ عزیزم حامد رضا وٹو، جن کی اس موضوع پر تحقیقی کتاب ’بہاول گڑھ سے بہاول پور تک‘ زیرِطبع ہے، سے بات ہوئی تو جانا کہ بعض روایات تحقیق کی کسوٹی پر پرکھے بغیر کیسے تاریخ کا حصہ بنا دی گئی ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد بھارت نے پاکستان کے حصے سے بہت کم رقوم نئے ملک کو دی تھیں جسے پاکستان کے وزیرِاعظم لیاقت علی خان نے پاکستان کا گلا گھونٹنے کی کوشش قرار دیا تھا۔ اسی تناظر میں کئی برسوں، بلکہ کئی دہائیوں بعد، پاکستان کی امداد کے من چاہے دعوے سامنے آئے۔ سرکاری ملازمین کی ابتدائی تنخواہوں کا سہرا صاحبزادہ قمر الزماں عباسی نے پاکستان کے قیام سے تین سے چار دہائیوں بعد کی اپنی کتب ’بغداد سے بہاول پور‘ اور ’بہاول پور کا صادق دوست‘ میں اپنے نانا، بہاول پور کے امیر نواب صادق محمد خان کے سر باندھا تو یہ بیانیہ رواج پا گیا۔ پھر اپنی کتاب ’بہاول پور: دی کنگڈم دیٹ وینشڈ‘ کیلئے اینابیل لائیڈ نے نواب صلاح الدین کے طویل انٹرویوز کئے تو انہوں نے بھی بتایا کہ انکے دادا نواب صادق ہی نے حکومت پاکستان کے ملازمین کی پہلے چھ ماہ کی تنخواہیں ادا کیں اور مسلمان مہاجرین کی آبادکاری کیلئے قائداعظم فنڈ میں پانچ لاکھ روپے جمع کرائے۔ اسلامیہ یونیورسٹی، بہاولپور کے نصاب میں شامل درسی کتب میں لکھا ہے کہ 'نواب کی جانب سے پاکستان کے ’ملازمین کیلئے 2 ماہ کی تنخواہ کیلئے تقریباً 10کروڑ روپے نقد اور 7 کروڑ روپے دفتری اخراجات کیلئے پاکستان کے خزانہ میں جمع کرائے گئے۔ وٹو کے مطابق سوائے مہاجرین کیلئےدیے گئے پانچ لاکھ روپوں کے ایسی رقوم کی منتقلی کا کوئی ثبوت نہیں۔ البتہ مہاجرین کے لیے دی گئی اس رقم کی منتقلی کی خبرتب پاکستان ٹائمز اور نوائے وقت میں چھپی تھی۔قائداعظم پیپرزمیں بہاولپورکے وزیراعظم مشتاق احمد گورمانی کا رقم بھیجنےاور قائداعظم کا شکریہ کا خط شامل ہے۔ محترم دوست اور جید صحافی اسلم ملک نے اپنے فیس بک صفحے پر میری تحریر ’یارانِ نکتہ داں کیلئے‘ صلائے عام کے طور پر سانجھی کی تو محقق محترم پرویز صادق نے میری تحقیق کی تصدیق میں لکھا کہ نہ ریاست بہاولپور اور حکومت پاکستان کی دستاویزات میں، نہ بہاولپور کے سرکاری اخبارصادق الاخبار گزٹ میں کروڑوں کی ’عنایات کا ذکر ہے، نہ سرکاری مورخ مولوی عزیز الرحمن عزیز بہاولپوری، بہاولپور کی تاریخ پر سب سے زیادہ کتب لکھنے والے سید مسعود حسن شہاب دہلوی، اور نہ ہی نواب کے قریب اور ریاست کے انتظامی امور اور لین دین کی نگران تین شخصیات ،ریاست کے وزیر مالیات پینڈرل مون (کتاب، ڈِوائڈ اینڈ کوِٹ)،نواب کے اے ڈی سی بریگیڈیئر نذیر علی شاہ (کتاب ،صادق نامہ) اور وزیر حضوری کرنل سعید ہاشمی (کتاب ،حیات ِصادق) ، اور’’بہاولپور کا نظم مملكت‘‘پر تحقیق کرنیوالے پروفیسر محمد طاہر نے ان ’احسانات 'کا تذکرہ کیا ہے۔ محترمہ کشورناہید کا تنخواہوں سے متعلق جملہ سامنے آیا تو میں نے پھر سے تحقیق کا سہارا لیا۔ دانشور وجاہت مسعود کی گفت گو، کہنہ مشق صحافی اور براڈ کاسٹر محترم وسعت اللہ خان کی تحریر، عقیل عباس جعفری کی تحقیق، سید اصغر علی شادانی کی تالیف ،سوانح حیات راجا صاحب محمودآباد، اور تحقیق پر مبنی خواجہ رضی حیدرکی کتاب،راجا صاحب محمود آباد (حیات و خدمات) سے استفادہ کیا۔ جانا کہ 1903 میںراجا صاحب محمود آباد بننے والےامیر حسن خان نے 1906ء میں ڈھاکا میں اس اجلاس کی بھر پور مالی معاونت کی جس سے آل انڈیا مسلم لیگ کا جنم ہوا۔ انہوں نے اپنی وصیت میں جناح کو اپنے بیٹے امیر احمد خان کا سرپرست مقرر کیا جو 1931 میں انکی وفات کے بعد راجا صاحب محمود آباد بنے۔ وہ آل انڈیا مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کے کم عمر ترین رکن تھے۔بعد ازاں وہ مسلم لیگ کے خازن مقرر ہوئے۔محمود آباد کی سالانہ آمدن چالیس لاکھ روپے کے لگ بھگ تھی۔ خاندانی اور انتظامی اخراجات منہا کرنے کے بعد جو بھی بچتا وہ مسلم لیگ کی سرگرمیوں پر صرف ہوجاتا تھا۔مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے بانی صدر بھی راجا صاحب ہی بنے جس نے اگلے نو برس پاکستان کے مفہوم و معانی عام آدمی تک پہنچانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ راجا صاحب نے مسلم لیگ کے ترجمان اخبارات کی بھی مالی معاونت کی۔ لیکن اپنے بیٹے راجا محمد امیر محمد خان(سلمان میاں) کی پیدائش منائی تو رياست کے موتيا کے 1158مريضوں کا مفت آپريشن کروا کر۔ مسلم سیاست سے راجا امیر احمد خان کا تعلق قیام پاکستان تک جاری رہا۔تاہم تحریک کے دیگر رہنماؤں سے اخلاقی اور سیاسی اختلافات کےباعث راجا صاحب دلبرداشتہ ہو گئے۔بعد کے مہینوں میں خونریزی راجا صاحب کیلئے غیر متوقع تھی۔چنانچہ وہ ہندوستان چھوڑ کر عراق چلے گئے۔ لگ بھگ دس برس بعد 1957ء میں کراچی آ کے بس گئے۔ کئی اعلیٰ عہدوں اورقیمتی متروکہ جائدادوں کی پیشکش ہوئی لیکن انکا کہنا تھا کہ وہ کوئی صلہ نہیں چاہتے۔راجا صاحب1968 ء میں لندن منتقل ہوگئے جہاں وہ اسلامک کلچرل سینٹر کے ڈائریکٹر بنے اور اردو، فارسی، عربی، سنسکرت، انگریزی اور فرنچ پر دسترس سے تحقیقی کام لیتے رہے۔ چودہ اکتوبر1973 ء کو انتقال ہوا۔یعنی کسی تحریر، تحقیق یا تالیف میں یہ نہیں لکھا کہ ’سارے اخراجات اور تن خواہیں راجا صاحب محمود آباد نے ادا کیے‘۔حتیٰ کہ شادانی کی کتاب کا پیش لفظ تحریرکرنیوالے، سید ہاشم رضا نے یہ تو لکھا ہے کہ راجا صاحب کا شماربانیان پاکستان میں ہے اور یہ کہ انھوں نے تحریک پاکستان میں تن، من ،دھن کی بازی لگا دی لیکن نہ کوئی عہدہ لیا، نہ متروک مکان، زمین یا باغ، لیکن پاکستان بننے کے بعدانکی جانب سے تنخواہوں کی ادائی کا کہیں تذکرہ نہیں کیا۔ سید ہاشم رضا راجا صاحب کے عزیزدوست اور لکھنؤمیں ہم سایہ تھے۔وہ قیام پاکستان کے وقت دارالحکومت کراچی کے منتظم تھے۔ بہاول پور میں بھی کمشنررہے۔ اپنی کتاب’ہماری منزل‘ میں انہوں نے لکھا : 'بھارت نے تقسیم کے معاہدے کی مالی شقوں کی پاس داری نہیں کی، جن میں 550 ملین روپے کی نقد رقوم کی ادائی شامل تھی۔ حکومتِ پاکستان کو اپنے روزمرہ کے اخراجات اور عملے کی تن خواہیں ادا کرنے کیلئے حکومتِ سندھ سے قرض حاصل کرنا پڑا۔ سو بہتر ہے کہ محترمہ کشور ناہید ایسی کسی معتبر شخصیت کی سہو سند نہ پا جائے۔ وہی رواج پائے جو تاریخی حقیقت ہے، من چاہی بات نہیں!

تازہ ترین