سابق امریکی صدر بارک اوبامہ کی اہلیہ مشیل اوبامہ نے موجودہ دور کے شادی شدہ جوڑوں کو تعلقات پر مشورہ دینے کے دوران وہ تلخ حقیقت بتائی، جس نے ان کی شادی محفوظ رکھی، ان کا کہنا ہے کہ میں نے اس سے کافی کچھ سیکھا۔
اس حوالے سے امریکی شو میں گفتگو کے دوران شادی سے متعلق اپنی ایک نہایت حقیقی نصیحت شیئر کی، جس نے ان کے اور انکے شوہر کے بارے میں لوگوں کے تصورات کو توڑ کر رکھ دیا۔
انہوں نے اپنے شوہر باراک اوباما کے ساتھ 34 سال گزارنے کے بعد اعتراف کیا کہ ان کی محبت کا سفر ہمیشہ ہموار نہیں رہا، میں نے اس رشتے کو اتنے طویل عرصے تک مضبوط رکھنے کے لیے ازدواجی مشاورت (میریج کاؤنسلنگ) کا سہارا لیا، جس نے ان کی سوچ اور نقطہ نظر کو بدل دیا۔
62 سالہ مشیل اوبامہ نے کہا کہ شادی مشکل ہوتی ہے، حتیٰ کہ ہمارے لیے بھی، ہمارا رشتہ بہت اچھا ہے، لیکن شادی میں مشاورت کے بارے میں بات یہ ہے کہ میں ان بیویوں میں سے تھی جو یہ سمجھتی تھی کہ میں انہیں شادی کی مشاورت کے لیے اس لیے لے جا رہی ہوں تاکہ وہ ٹھیک ہوجائیں۔
میں نے ڈاکٹر سے کہا براہِ کرم اسے ٹھیک کر دیں تو انہوں نے میری طرف دیکھا، میں نے کہا، آپ مجھے کیوں دیکھ رہے ہیں؟ میں تو پرفیکٹ ہوں، لیکن شادی کی کاؤنسلنگ میرے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔
اس سے مجھے یہ پتہ چلا کہ مجھے خوش رکھنا صرف میرے شوہر کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ مجھے خود کو خوش رکھنے کے طریقے سیکھنا ہیں اور خود کو اپنی ترجیحات میں زیادہ اہم مقام دینا ہے۔
میں یہ بات اس لیے شیئر کر رہی ہوں کیونکہ بہت سے نوجوان لوگ مجھے اور باراک کو اور آپ کو اور آپ کی بیوی کو دیکھتے ہیں، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اوہ، ہمیں بھی ایسے ہی تعلقات چاہیئیں۔
لیکن میں چاہتی ہوں کہ آپ بھی یہ جان لیں کہ شادی ایک محنت طلب عمل ہے، بہترین شادیاں بھی محنت مانگتی ہیں، میں اسے ایک طرح کی پریشانی کہتی ہوں، یہ ایک ایسا انتخاب ہے جو آپ بار بار دھراتے ہیں۔
انہوں نے کہا میں نہیں چاہتی کہ نوجوان افراد ذرا سی مشکل سے ہار مان لیں، میں ہمیشہ کہتی ہوں دیکھو، اگر آپ کی شادی 50 سال چلے اور ان میں سے 10 سال بہت خراب ہوں، تو بھی یہ بہترین ہے۔