کراچی کے مصروف ترین ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ کی عمارت کا بڑا حصہ گرگیا، 20 گھنٹے سے زائد گزرنے کے باوجود تاحال آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا، آتشزدگی کے نتیجے میں فائر فائٹر فرقان شوکت سمیت 6 افراد جاں بحق، جبکہ متعدد بے ہوش افراد کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا، خوفناک آگ نے شہر کی فضا سوگوار کردی۔
گل پلازہ میں گزشتہ رات لگنے والی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے شاپنگ پلازہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، ریسکیو حکام کے مطابق آگ شاپنگ پلازہ کے میزنائن فلور ممکنہ طور پر شارٹ سرکٹ کے باعث لگی جو تیزی سے گراؤنڈ اور فرسٹ فلور تک پھیل گئی۔
دھویں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ کئی افراد کی حالت غیر ہوگئی، جنہیں فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا تھا، فائر بریگیڈ حکام کے مطابق آگ تیسرے درجے کی ہے، جس پر قابو پانے کے لیے شہر بھر سے فائر ٹینڈرز طلب کر لیے گئے ہیں۔ 20 فائر ٹینڈرز، 4 اسنارکل اور ایک واٹر باوزر کے ذریعے امدادی کارروائیاں جاری رہیں۔
شاپنگ پلازہ کے اطراف موجود متاثرین کے اہل خانہ اپنے پیاروں کے لیے پریشان ہیں ۔ ان کے مطابق ممکنہ طور پر اب بھی کئی افراد مخدوش عمارت میں پھنسے ہوئے ہیں۔ آگ کے باعث عمارت کے دو حصے منہدم ہوچکے ہیں اور تمام دکانیں مکمل طور پر جل چکی ہیں۔
دوسری جانب، ریسکیوں آپریشن کے دوران سیڑھیاں ٹوٹنے سے فائر بریگیڈ کے دو اہلکار گر کر زخمی بھی ہوئے، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے متاثرہ عمارت کے دورے پر غیر متعلقہ افراد سے فاصلہ رکھنے کی اپیل کی ہے۔
افسوسناک سانحے میں اپنے پیاروں کو ڈھونڈنے آئے افراد کی آنکھیں اشک بار ہیں، متاثرین کے اہل خانہ رات سے اپنے پیاروں کی تلاش میں پلازہ اور اسپتالوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق عمارت انتہائی پرانی ہے اور آگ کے باعث پلرز کمزور ہو چکے ہیں، جس سے عمارت کے گرنے کا خدشہ ہے، ریسکیوں اداروں کی جانب سے امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔
چیف آپریٹنگ آفیسر ریسکیو عابد جلال کا جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا ہے کہ اس وقت ریسکیو 1122 اور فائر بریگیڈ کے 150 سے زائد فائر فائٹرز کام کر رہے ہیں، ابھی تک 75 فیصد آگ پر قابو پایا گیا ہے۔
سی ای او ریسکیو عابد جلال کا کہنا ہے کہ متاثر عمارت انتہائی مخدوش حالت میں ہے، عمارت کے عقبی حصے پہلے گر چکے تھے، اگلا حصہ ابھی گرا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مخدوش حالات میں عمارت کے اندر جاکر ریسکیو کام کرنا خطرناک ہے، عملے کی سیفٹی کیلئے آگ پر مکمل قابو پانے کے بعد سرج آپریشن کیا جائے گا۔