• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فائر فائٹر 24 گھنٹے بعد کراچی کے آتش زدہ گل پلازہ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے، جلی ہوئی دکانوں میں محدود پیمانے کا سرچ آپریشن کیا، ریسکیو ورکرز صدائیں لگا لگا کر زندگی کے نشان ڈھونڈتے رہے، مگر جلی ہوئی عمارت کے اندر ان صداؤں پر لبیک کہنے والا کوئی نہ مِلا۔

کراچی میں گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کو 26 گھنٹے گزر چکے ہیں، 24 گھنٹے بعد  فائر فائٹر گل پلازہ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے، آگ پر 80 فیصد تک قابو پا لیا گیا، باقی فائر ٹینڈر اب بھی بچی کھچی آگ بجھانے میں مصروف ہیں، عمارت میں پھنسے لوگوں کے موبائل فون بند ہو گئے ہیں اور ان سے رابطہ ختم ہو گیا ہے۔

لوگ بے بسی کی تصویر بنے ہفتے کی رات سوا 10 بجے سے جلتی ہوئی عمارت کے باہر کھڑے اپنے پیاروں کی راہ تک رہے ہیں۔

سانحے میں 1200 دکانیں جل کر خاکستر ہو گئيں، آگ سے متاثرہ عمارت کے حصے ٹوٹ کر گرنے لگے ہیں۔ 

عمارت میں کتنے لوگ پھنسے ہیں، درست تعداد کا اندازہ نہیں، اب تک 38 افراد کے اہلخانہ نے انتظامیہ سے رابطہ کیا ہے، حادثے میں 6 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں ایک فائر فائٹر بھی شامل ہے جبکہ 22 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

آتشزدگی کے نتیجے میں فائر فائٹر فرقان شوکت سمیت 6 افراد جاں بحق، جبکہ متعدد بے ہوش افراد کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا، خوفناک آگ نے شہر کی فضا سوگوار کردی۔ 

فوٹو: آئی این پی
فوٹو: آئی این پی 

گل پلازا میں گزشتہ رات لگنے والی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے شاپنگ پلازہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، ریسکیو حکام کے مطابق آگ شاپنگ پلازہ کے میزنائن فلور ممکنہ طور پر شارٹ سرکٹ کے باعث لگی جو تیزی سے گراؤنڈ اور فرسٹ فلور تک پھیل گئی۔

فوٹو: جنگ
فوٹو: جنگ

دھویں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ کئی افراد کی حالت غیر ہوگئی، جنہیں فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا تھا، فائر بریگیڈ حکام کے مطابق آگ تیسرے درجے کی ہے، جس پر قابو پانے کے لیے شہر بھر سے فائر ٹینڈرز طلب کر لیے گئے ہیں۔ 20 فائر ٹینڈرز، 4 اسنارکل اور ایک واٹر باوزر کے ذریعے امدادی کارروائیاں جاری رہیں۔

شاپنگ پلازہ کے اطراف موجود متاثرین کے اہل خانہ اپنے پیاروں کے لیے پریشان ہیں۔

ان کے مطابق ممکنہ طور پر اب بھی کئی افراد مخدوش عمارت میں پھنسے ہوئے ہیں، آگ کے باعث عمارت کے 2 حصے منہدم ہوچکے ہیں اور تمام دکانیں مکمل طور پر جل چکی ہیں۔

دوسری جانب، ریسکیو آپریشن کے دوران سیڑھیاں ٹوٹنے سے فائر بریگیڈ کے 2 اہلکار گر کر زخمی بھی ہوئے، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے متاثرہ عمارت کے دورے پر غیر متعلقہ افراد سے فاصلہ رکھنے کی اپیل کی ہے۔

فوٹو: جنگ
فوٹو: جنگ

افسوسناک سانحے میں اپنے پیاروں کو ڈھونڈنے آئے افراد کی آنکھیں اشکبار ہیں، متاثرین کے اہلخانہ رات سے اپنے پیاروں کی تلاش میں پلازہ اور اسپتالوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔

ریسکیو حکام کے مطابق عمارت انتہائی پرانی ہے اور آگ کے باعث پلرز کمزور ہو چکے ہیں، جس سے عمارت کے گرنے کا خدشہ ہے، ریسکیو اداروں کی جانب سے امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔

فوٹو: جنگ
فوٹو: جنگ

چیف آپریٹنگ آفیسر ریسکیو عابد جلال کا جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس وقت ریسکیو 1122 اور فائر بریگیڈ کے 150 سے زائد فائر فائٹرز کام کر رہے ہیں، ابھی تک 75 فیصد آگ پر قابو پایا گیا ہے۔

فوٹو: جنگ
فوٹو: جنگ

سی ای او ریسکیو عابد جلال کا کہنا تھا کہ متاثر عمارت انتہائی مخدوش حالت میں ہے، عمارت کے عقبی حصے پہلے گر چکے تھے، اگلا حصہ ابھی گرا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مخدوش حالات میں عمارت کے اندر جاکر ریسکیو کام کرنا خطرناک ہے، عملے کی سیفٹی کےلیے آگ پر مکمل قابو پانے کے بعد سرج آپریشن کیا جائے گا۔

 آتشزدگی کے پیش نظر عوام کی سہولت کے لیے ہیلپ لائن قائم

کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر گل پلازہ میں آتشزدگی کے پیش نظر عوام کی سہولت کے لیے ہیلپ لائن قائم کر دی گئی۔

اس حوالے سے ڈی سی ساؤتھ جاوید نبی کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی معلومات یا گمشدگی کی اطلاع ڈی سی ساؤتھ کو دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اطلاعات 03135048048، 02199206372 اور 02199205625 پر دی جاسکتی ہیں۔

جاوید نبی کا کہنا ہے کہ واقعے میں گمشدہ افراد سے متعلق معلومات بھی انہی نمبرز پر فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

قومی خبریں سے مزید